Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا تعلق صرف پارلیمنٹ تک محدود ہے، اس سے آگے نہیں: شوکت یوسفزئی کی وضاحت

اسلام آباد میں شاہ فیصل مسجد کا منظر

شوکت یوسفزئی نے کیا کہا؟ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے ایک ٹیلی ویژن ٹاک شو میں کہا ہے کہ ان کی جماعت کا جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق پارلیمنٹ تک محدود ہے اور اس سے آگے نہیں جاتا۔ ان کے الفاظ میں، پی ٹی آئی نے جے یو آئی کی مخصوص امور پر حمایت کی ہے، جس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس جماعت کی ہر بات کی توثیق کرتی ہے۔

یہ وضاحت کیوں آئی؟ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں کی خبریں کئی ہفتوں سے گردش کر رہی ہیں۔ اگست میں مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے بعد متحدہ اپوزیشن کا اعلان کیا تھا، اور اکتوبر کے آخری دنوں میں پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے فضل الرحمٰن سے ان کی اسلام آباد رہائش گاہ پر ملاقات کر کے قومی اسمبلی میں ان کی تقریر کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ ان ملاقاتوں کے بعد یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ آیا دونوں جماعتیں کسی باقاعدہ اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یوسفزئی کی وضاحت اس سوال کا جواب ہے — نہیں، کم از کم ان کے بقول، تعاون پارلیمانی نوعیت کا ہے۔

یوسفزئی نے اور کیا کہا؟ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے الفاظ اور اقدامات اس جماعت کی اپنی ذمہ داری ہیں، اور سیاسی جماعتوں کو بعض معاملات میں احتیاط برتنا پڑتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر پر الزام لگایا کہ وہ بیرون ملک سے انہیں اور ان کی جماعت کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور کہا کہ بیرون ملک مقیم افراد کے بیانات کو بار بار پی ٹی آئی سے جوڑا جاتا ہے حالانکہ ان کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔

اس سے پہلے کیا ہوا تھا؟ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان رابطوں کی پہلی خبریں اس وقت آئی تھیں جب پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک کی تجویز دی تھی۔ اس وقت جے یو آئی نے مشترکہ احتجاج کی توثیق نہیں کی تھی، اور اس کا موقف تھا کہ باہمی اعتماد مکمل طور پر بحال ہونے سے پہلے مشترکہ تحریک ممکن نہیں۔ اس پس منظر میں یوسفزئی کا تازہ بیان دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے کو برقرار رکھنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے — تعاون ہاں، مگر حدود کے ساتھ۔

یہ حدود کیوں اہم ہیں؟ اس لیے کہ اپوزیشن کی سیاست میں ہر ملاقات کو اتحاد سمجھ لیا جاتا ہے، اور ہر اتحاد کو ووٹروں کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی تاریخ مخالفانہ رہی ہے — مولانا فضل الرحمٰن کبھی پی ٹی آئی کے سخت ترین ناقدوں میں شمار ہوتے تھے۔ اب جب دونوں ایک ہی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ میں ایک ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں، تو یہ سوال فطری ہے کہ یہ اشتراک کتنا گہرا ہے۔ یوسفزئی کا جواب ہے: پارلیمنٹ کی حد تک۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا تعطل پہلے ہی یہ دکھا چکا ہے کہ مشترکہ محاذ بنانا اعلان سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اور خیبر پختونخوا کے معاملے پر وزیراعظم کے دوٹوک موقف کے بعد اپوزیشن کے لیے پارلیمانی ہم آہنگی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آنے والے دن بتائیں گے کہ یہ ہم آہنگی پارلیمنٹ کی کارروائی تک رہتی ہے، یا کسی بڑی تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *