Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

حکومت کی دعوت، اپوزیشن کی شرط: “بغیر شرائط” مذاکرات کا مطالبہ اور تعطل کا حساب

وزیراعظم شہباز شریف کی تصویر

پاکستان کی سیاست میں مذاکرات کا لفظ ایک بار پھر سنائی دے رہا ہے، مگر اس بار بھی دعوت اور جواب کے درمیان وہی پرانی خلیج ہے۔ اپوزیشن نے وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کو صاف لفظوں میں “محض اعلان” قرار دے دیا ہے، اور ساتھ ہی اپنی شرط بھی رکھ دی ہے: براہِ راست، بغیر شرائط کے مذاکرات۔

سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے بدھ کو جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن وزیراعظم سے براہِ راست بات چیت چاہتی ہے اور مذاکرات پر کوئی پیشگی شرط عائد نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ بیانات سے آگے بڑھ کر محمود خان اچکزئی سے براہِ راست رابطہ کریں، اور وزیراعظم کے ساتھ ساتھ صدر آصف علی زرداری کو بھی براہِ راست مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے۔

اس سے ایک روز پہلے تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے وزیراعظم کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا: “مذاکرات کی یہ تجویز محض ایک اعلان کی حد تک ہے، اور اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔” گوہر اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کر رہے تھے، جہاں انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 16 اکتوبر 2025 سے انہیں عمران خان تک رسائی نہیں دی گئی، جسے انہوں نے “غیر انسانی سلوک” قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا: “میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ ہوش کے ناخن لیں، لانگ مارچ اور دھرنا ختم کریں، پھر ہم آپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔”

تجزیہ

یہاں اصل کشمکش شرط کی ترتیب پر ہے۔ حکومت کہتی ہے پہلے لانگ مارچ ختم کرو، پھر بات کریں گے؛ اپوزیشن کہتی ہے پہلے براہِ راست بات کرو، بغیر کسی شرط کے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کی پیشگی شرط کو ہی ناقابلِ قبول قرار دے رہے ہیں — اور یہی وہ تعطل ہے جس سے گزشتہ کئی ماہ کی سیاست نہیں نکل سکی۔

راجہ ناصر عباس کا “براہِ راست رابطے” کا مطالبہ بھی اہم ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ وزیراعظم کے عوامی بیانات اور حقیقی مذاکرات میں فرق ہے؛ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت واقعی مذاکرات کی میز پر آنا چاہتی ہے یا صرف سیاسی بیان بازی کر رہی ہے۔ اچکزئی کا نام لینا بھی معنی خیز ہے — وہ وہ رہنما ہیں جو حکومت اور اپوزیشن دونوں سے بات کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف لانگ مارچ زمینی حقیقت کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں شروع ہوا، 7 اکتوبر کو کوہاٹ پہنچا، اور اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جب تک سڑکوں پر دباؤ ہے، مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی ضرورت دونوں فریق محسوس کرتے ہیں — مگر کس کی شرائط پر، یہی وہ سوال ہے جو اب تک کسی کے پاس حل نہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *