Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ٹرمپ کی اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی کھلی حمایت — ایران کو دھمکی: “ہم جلد کام تمام کر دیں گے”

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ہاتھ ملا رہے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات میں اپنی “مکمل اور بے مثال حمایت” دے دی اور ساتھ ہی ایران کو ایک سخت پیغام میں خبردار کیا کہ “اگر انہوں نے اپنا رویہ تیزی سے نہ بدلا تو ہم جلد ہی کام تمام کر دیں گے۔”

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ نیتن یاہو “زبردست مخالفت کے باوجود مضبوط، بہادر اور ذہین” ثابت ہوئے ہیں — یہاں تک کہ ان کے اپنے ملک کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا کرتے رہے۔ ٹرمپ کے الفاظ میں نیتن یاہو “جنگجو وزیراعظم” اور ایران سے نمٹنے میں “امن کے لیے اس سے بھی بڑا شراکت دار” ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے امریکی فوجی عزم کو براہِ راست اسرائیلی انتخابات کے نتائج سے جوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو “فوجی اور معاشی دونوں محاذوں پر منظم طور پر تباہ” کر دیا گیا ہے، لیکن خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ “اگر اسرائیل کے پاس غلط رہنما ہوا — یعنی بی بی کے علاوہ کوئی بھی — تو امریکا کو یہ کام خود کرنا پڑے گا، اور میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں،” ٹرمپ نے لکھا۔

نیتن یاہو کا جواب: “مل کر مشن مکمل کریں گے”

نیتن یاہو نے ایکس پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا: “شکریہ، صدر ٹرمپ، آپ کی زبردست حمایت اور تعاون کے لیے۔ مل کر ہم مشن مکمل کریں گے!” ٹرمپ کی حمایت کے بعد جاری ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے اسرائیلیوں سے ووٹ مانگتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات “اسرائیل کی بقا” کے بارے میں ہیں اور صرف وہی اور ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کر سکتے ہیں۔

“ہم نے ایران کو کچل دیا، ہم نے ایرانی محور کو کچل دیا، اور جوہری بموں کے فوری خطرے کو پیچھے دھکیل دیا — لیکن ابھی ایک مشن باقی ہے،” نیتن یاہو نے کہا۔ ان کے بقول ٹرمپ کے ساتھ ان کی شراکت “اگلے دو سالوں میں، بلکہ اس سے بھی پہلے، ایرانی خطرے کے خاتمے تک جاری رہے گی۔”

پس منظر: انتخابی دوڑ اور جاری جنگ

یہ ووٹ 27 اکتوبر کو ہوگا — حماس کی 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد اسرائیل کے پہلے انتخابات۔ نیتن یاہو کی لکود پارٹی حالیہ پولز میں سابق فوجی سربراہ گادی آئیزن کوٹ کی یشار پارٹی سے پیچھے چل رہی ہے۔ آئیزن کوٹ کے بیٹے اور بھتیجے غزہ میں لڑائی میں مارے گئے تھے، اور ان کی جماعت “مرمت اور تعمیرِ نو کی حکومت” کے وعدے پر مہم چلا رہی ہے۔

فروری 2026 میں اسرائیل نے امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر مربوط حملے کیے تھے جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایران نے علاقائی ہمسایوں کو نشانہ بنایا، اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور آبنائے ہرمز سے ٹریفک کی آمدورفت رک گئی — یہی بندش اس وقت دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ کا ایک بڑا سبب ہے۔ امریکا کی ایران کے خلاف فوجی منصوبہ بندی پر پچھلے ہفتے بھی رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں جوہری تنصیبات کے خلاف “مدر آف آل بمبز” کے استعمال کی تجویز شامل تھی۔

یہ خبر کیوں اہم ہے

امریکی صدور نے ماضی میں بھی اتحادی ممالک کے انتخابات میں اپنی ترجیحات ظاہر کی ہیں، لیکن کسی امریکی صدر کا اس طرح کھلم کھلا — اور ایران کے خلاف فوجی دھمکی کو ووٹروں کے فیصلے سے مشروط کر کے — مداخلت کرنا غیرمعمولی ہے۔ ٹرمپ نے عملاً اسرائیل کے ووٹروں کے سامنے ایک انتخاب رکھا ہے: نیتن یاہو رہیں گے تو امریکا ایران کے معاملے میں “شراکت” جاری رکھے گا، ورنہ واشنگٹن خود کارروائی کرے گا۔

پاکستانی قارئین کے لیے اس کے اثرات دو رخے ہیں۔ ایک طرف، ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور فوجی منصوبہ بندی پہلے ہی خطے میں کشیدگی بڑھا چکی ہے؛ دوسری طرف، ہرمز کی بندش سے تیل کی عالمی قیمتیں دباؤ میں ہیں، جن کا اثر پاکستان جیسے درآمدی ممالک کی معیشت اور روزمرہ ایندھن کی قیمتوں پر براہِ راست پڑتا ہے۔ 27 اکتوبر کے نتائج — اور اس کے بعد امریکی پالیسی کا رخ — آنے والے ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا تعین کریں گے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *