Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ٹرمپ کے حیران کن الفاظ: “ایران کو لاس اینجلس، سان ڈیاگو تباہ کرنے دو” — امریکا بھر میں ردعمل کا طوفان

ڈونلڈ ٹرمپ — امریکی صدر کی فائل فوٹو

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیبراسکا کے شہر گرینڈ آئی لینڈ میں مڈ ٹرم انتخابات کی انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران ایسا بیان دیا ہے جس نے امریکا بھر میں ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ پیر کو ہونے والی اس ریلی میں صدر نے کہا کہ اگر ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا نہ گیا ہوتا تو “وہ کوئی بھی شہر تباہ کر سکتے تھے۔ لاس اینجلس کو تباہ کر دیں، سان ڈیاگو کو تباہ کر دیں”۔

ٹرمپ اس موقع پر ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاشی بوجھ کا دفاع کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی وجہ سے تیل اور پٹرول مہنگا ہوا ہے، مگر یہ “دنیا کو محفوظ رکھنے اور اپنے ملک کو محفوظ رکھنے کی بہت چھوٹی قیمت” ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ “جلد ختم ہو جائے گی، یہ ایک طرح سے یا دوسری طرح ختم ہو گی”۔ لاس اینجلس امریکا کا دوسرا اور سان ڈیاگو آٹھواں بڑا شہر ہے، اور یہ دونوں کیلیفورنیا میں واقع ہیں۔

صدر کے یہ الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی کیلیفورنیا کے رہنماؤں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ گورنر گیوین نیوسم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: “نیشنل گارڈ اور میرینز کو کیلیفورنیا پر قبضے کے لیے بھیجنے کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بیرونی دشمن لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ‘تباہ’ کر دیں۔ یہ پاگل پن ہے اور خطرناک ہے۔”

لاس اینجلس کی میئر کیرن باس نے کہا کہ صدر کا کام ملک کی حفاظت ہے، نہ کہ خطرہ پیدا کرنا۔ ان کے بقول، اس طرح کے بیانات شہر کی سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سان ڈیاگو کے میئر ٹوڈ گلوریا نے کہا کہ ان کا شہر “قربانی کا بکرا نہیں” اور نہ ہی “چھوٹی قیمت” ہے۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے لیڈر حاکم جیفریز نے لکھا کہ “کسی امریکی شہر کی ایٹمی تباہی مذاق کا موضوع نہیں”۔ یہاں تک کہ کچھ ریپبلکن رہنماؤں نے بھی صدر کے بیان سے اختلاف کیا۔

وائٹ ہاؤس نے منگل کو اس ردعمل کو “میڈیا کا ہنگامہ” قرار دیتے ہوئے وضاحت دی۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے ایکس پر کہا کہ صدر کے الفاظ کا مطلب یہ تھا کہ اگر ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا نہ گیا ہوتا تو امریکی شہر خطرے میں ہوتے۔ ان کے الفاظ میں، “ایران کے پاس نہ ایٹمی ہتھیار ہیں، نہ بحریہ، نہ فضائیہ، نہ پیسہ۔” وائٹ ہاؤس کے ریپڈ ریسپانس اکاؤنٹ نے واضح کیا کہ صدر یہ کہہ رہے تھے کہ امریکا ایران کو اس صلاحیت سے روکنے کے لیے لڑ رہا ہے۔

یہ معاملہ محض الفاظ کی لڑائی نہیں۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ فروری کے آخر سے جاری ہے اور اس کے اثرات عالمی تیل بازاروں پر پڑ رہے ہیں — پاکستان میں بھی اسی ہفتے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ایسے میں امریکی صدر کا اپنے ہی شہریوں سے متعلق اس لہجے میں بات کرنا ڈیموکریٹس کو مڈ ٹرم انتخابات سے ایک ماہ قبل سیاسی مواد فراہم کر گیا ہے، اور خود امریکی عوام کے اندر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جنگ کی قیمت ادا کرنے کا معیار کیا ہے۔ دوسری طرف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس فی الحال امریکا کے مغربی ساحل تک پہنچنے کی صلاحیت موجود نہیں، اس لیے صدر کا تبصرہ ایک فرضی موازنہ تھا جسے ان کے سیاسی حریفوں نے ہتھیار بنا لیا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *