Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

مٹی دے بوے اور رتبہ: ماہرہ خان اور مہوش حیات کی ٹی وی واپسی پاکستانی ٹیلی وژن کا بڑا لمحہ

ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران فلم سیٹ پر کیمرے اور عملہ — علامتی تصویر

پاکستانی ٹیلی وژن پر ایسے اتفاقات کم ہی ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں ملک کی دو بڑی فلم اسٹارز — ماہرہ خان اور مہوش حیات — برسوں کے وقفے کے بعد چھوٹی اسکرین پر واپس آئی ہیں، اور دونوں کے ڈرامے اس وقت ناظرین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ماہرہ کا “مٹی دے بوے” گرین ٹی وی پر اور مہوش کا “رتبہ” اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہو رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر دونوں کے چرچے ہیں۔

مٹی دے بوے: ماہرہ کی دھماکے دار واپسی

ماہرہ خان تقریباً تین سال بعد ٹیلی وژن پر لوٹی ہیں، اور ان کی واپسی کسی معمولی پروجیکٹ سے نہیں ہوئی۔ “مٹی دے بوے” 23 ستمبر کو گرین ٹی وی پر نشر ہونا شروع ہوا، ہر بدھ اور جمعرات رات آٹھ بجے، اور اس کی پہلی چار اقساط نے نشر ہونے والے کئی دوسرے ڈراموں سے زیادہ ویوز حاصل کیے ہیں۔

ڈرامے کی کہانی فائزہ افتخار نے لکھی ہے اور ہدایت کاری سید وجاہت حسین کی ہے۔ ماہرہ اس میں بلقیس بانو عرف بلو کا کردار نبھا رہی ہیں، جب کہ ان کے مقابل وہاج علی اقبال چنن عرف بالا کے روپ میں ہیں — یہ دونوں اداکاروں کی پہلی مشترکہ پیشکش ہے۔ دیہی پنجاب کے پس منظر میں بنی یہ انتقام، محبت اور طبقاتی کشمکش کی کہانی ناظرین کو اس قدر بھا گئی ہے کہ اس کا ٹریلر پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان اور سعودی عرب میں بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔

رتبہ: مہوش حیات کا گھر واپسی کا اعلان

دوسری طرف مہوش حیات “رتبہ” کے ساتھ ٹیلی وژن پر واپس آئی ہیں، جو 6 اکتوبر سے اے آر وائی ڈیجیٹل پر ہر پیر اور منگل رات آٹھ بجے نشر ہو رہا ہے۔ یہ ڈرامہ معروف مصنفہ عمیرہ احمد نے لکھا ہے اور اس کی ہدایت کاری حسیب حسن نے کی ہے — یعنی تحریر اور ہدایت کاری دونوں محاذوں پر بھاری نام۔ مہوش کے ساتھ حبا بخاری، طلحہ چاہور اور زاہد احمد بھی اہم کرداروں میں ہیں، اور کہانی طاقت، سماجی رتبے، عزائم اور رشتوں کی پیچیدگیوں کے گرد گھومتی ہے۔

مہوش نے انسٹاگرام پر ڈرامے کا پہلا جھلک شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ کردار انہیں چیلنج بھی کرتا ہے اور حیران بھی، اور ان کے لیے خاص بن گیا ہے۔ ان کے الفاظ میں: “رتبہ کے ساتھ واپسی گھر لوٹنے جیسی لگ رہی ہے۔” مداحوں کا ردعمل بھی ایسا ہی رہا — کمنٹس میں برسوں بعد ان کی ٹی وی واپسی پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔

دو سفر، ایک منزل

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں اداکاراؤں کا سفر ٹیلی وژن سے ہی شروع ہوا تھا۔ ماہرہ خان نے وی جے کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا، 2011 میں فلم “بول” سے اداکاری میں قدم رکھا اور اسی سال فواد خان کے ساتھ “ہمسفر” سے ایسی شہرت پائی جو آج بھی ان کی پہچان ہے۔ اس کے بعد “شہر ذات” اور “صدقے تمہارے” جیسے ڈرامے، اور پھر بڑی اسکرین: “ہو من جہاں”، “ورنہ”، “سپر اسٹار”، “قائد اعظم زندہ باد” اور “دی لیجنڈ آف مولا جٹ”۔ شاہ رخ خان کے مقابل “رئیس” سے انہوں نے بالی وڈ میں بھی قدم رکھا۔

مہوش حیات نے 2000 کی دہائی کے وسط میں ٹیلی وژن سے آغاز کیا — “میرے قاتل میرے دلدار”، “من جلی”، “مراۃ العروس” اور “دل لگی” سے پہچان بنائی — اور پھر پاکستانی سینما کی کامیاب ترین فلموں کا چہرہ بن گئیں: “نامعلوم افراد”، “جوانی پھر نہیں آنی”، “ایکٹر ان لاء”، “پنجاب نہیں جاؤں گی” اور “لوڈ ویڈنگ”۔ وہ گلوکاری بھی کرتی ہیں، مارول کی “مس مارول” میں بھی نظر آئیں، اور حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا ہے۔

یہ واپسی کیوں اہم ہے؟

فلم اسٹارز کا ٹی وی کی طرف لوٹنا محض اتفاق نہیں۔ پاکستان میں ڈرامہ آج بھی سب سے بڑا عوامی میڈیم ہے — وہ پلیٹ فارم جہاں کہانیاں گھروں تک پہنچتی ہیں، جہاں اداکار واقعی اسٹار بنتے ہیں۔ سینما نے ان دونوں کو شہرت کی بلندی دی، مگر ان کی جڑیں ٹیلی وژن میں ہیں، اور ناظرین کی یادداشت بھی وہیں سب سے گہری ہے۔

چینلز بھی اب ڈراموں پر پہلے سے کہیں زیادہ سرمایہ لگا رہے ہیں۔ “مٹی دے بوے” ایک بڑے بجٹ کی پروڈکشن ہے جس کی سینمائی پیشکش کو فلم جیسی قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ “رتبہ” کے پیچھے عمیرہ احمد اور حسیب حسن جیسی جوڑی اور سکس سگما پلس و نیکسٹ لیول انٹرٹینمنٹ جیسے پروڈکشن ہاؤسز ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹی وی ڈرامہ اب چھوٹی اسکرین کا کھیل نہیں رہا — یہ وہ میدان ہے جہاں بڑے نام، بڑے بجٹ اور بڑی کہانیاں اکٹھی ہو رہی ہیں۔

اور پھر ناظرین کا فیصلہ بھی سامنے ہے۔ “مٹی دے بوے” کی ابتدائی اقساط کے ویوز اور “رتبہ” کے گرد بنتی ہوئی گونج بتا رہی ہے کہ لوگ اچھی کہانی کے لیے اب بھی ٹی وی کا رخ کرتے ہیں۔ ماہرہ اور مہوش کی ایک ساتھ واپسی دراصل اسی پرانے رشتے کی تجدید ہے — اسٹارز اور ان کے اصل ناظرین کے درمیان۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں کہانیاں اختتام تک یہ محبت برقرار رکھ پاتی ہیں یا نہیں، کیوں کہ ٹی وی کے ناظر کی یادداشت بھی اتنی ہی تیز ہے جتنی اس کی محبت گہری۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (1)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *