Sunday, 25 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

پاکستانی شارٹ فلم “دی لاسٹ گلانس” آسکر کی دوڑ میں: سیئٹل فیسٹیول جیت کر 2028 کی لانگ لسٹ میں جگہ بنا لی

سیئٹل شہر کا منظر — فائل تصویر

پاکستانی فلم ساز کامران فائق کی شارٹ فلم “دی لاسٹ گلانس” نے آسکر کی دوڑ میں قدم رکھ دیا ہے۔ اس فلم نے سیئٹل میں 21ویں تاسویر فلم فیسٹیول میں بہترین شارٹ فلم کا جیوری ایوارڈ جیتا ہے، جس سے وہ 2028 کے اکیڈمی ایوارڈز کی لانگ لسٹ کے لیے کوالیفائی کر گئی ہے۔

تاسویر فلم فیسٹیول 13 سے 18 اکتوبر تک سیئٹل میں منعقد ہوا، اور یہ دنیا کا واحد آسکر کوالیفائنگ جنوبی ایشیائی فلم فیسٹیول ہے۔ فائق نے بتایا کہ ان کی فلم اس فیسٹیول سے کوالیفائی کرنے والی واحد فلم ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں شارٹ فلموں میں سے صرف تقریباً 200 کوالیفائی کر پاتی ہیں۔

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے، جو فائق نے خود بھی کی ہے: کوالیفائی کرنا نامزدگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ فلم اب آسکر کی اگلی مرحلے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہے۔ نامزدگی تک پہنچنے کے لیے اسے ابھی مزید مراحل طے کرنے ہیں۔

فلم کی کہانی 12 منٹ میں سمٹتی ہے۔ برکات نامی ایک شخص اپنی حاملہ بیوی اور چھوٹے بیٹے کے ساتھ رات کی تاریکی میں تشدد سے بھاگ کر گاؤں چھوڑتا ہے۔ راستے میں ایک دور دراز پولیس چیک پوائنٹ پر وفاداری کا مطالبہ اسے زندگی بدل دینے والے انتخاب پر مجبور کر دیتا ہے۔ کہانی سچے واقعات سے ماخوذ ہے۔

فلم میں عدنان شاہ ٹیپو نے برکات کا کردار ادا کیا ہے، جبکہ اریج ایوب اور فہد ہاشمی بھی مرکزی کرداروں میں ہیں۔ فائق نے فلم لکھی، پروڈیوس کی اور ہدایت کاری کی ہے۔ عمر پیرزادہ پروڈیوسر، خالد سعید خان ایگزیکٹو پروڈیوسر، جبکہ مائیک میک نامارا اور ارمینہ رانا خان شریک پروڈیوسر ہیں۔

یہ فلم اس سے پہلے بھی سراہی جا چکی ہے۔ اس نے کینیڈا میں موزیک انٹرنیشنل ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین بین الاقوامی شارٹ فلم کا ایوارڈ جیتا تھا، اور لاس اینجلس میں ایشین ورلڈ فلم فیسٹیول کے شارٹ فلم پروگرام کے آٹھ فائنلسٹس میں بھی شامل ہوئی تھی — 50 سے زیادہ ایشیائی ممالک کی فلموں میں سے۔

فائق نے یہ بھی بتایا ہے کہ ٹیم ایک آسکر نامزد اداکار کو ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ایوارڈ سیزن میں فلم کی نمائندگی کر سکے۔

تجزیہ: پاکستانی سینما کے لیے یہ خبر اس لیے بڑی ہے کہ یہ کسی بڑے بجٹ یا اسٹار کاسٹ کی کامیابی نہیں — بلکہ ایک چھوٹی، سچی کہانی کی کامیابی ہے۔ پاکستانی فلم سازوں کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ انہیں عالمی پلیٹ فارم نہیں ملتا۔ “دی لاسٹ گلانس” بتاتی ہے کہ راستہ موجود ہے: مخصوص فیسٹیول، مضبوط کہانی، اور صبر۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کوالیفیکیشن سے نامزدگی تک کا فاصلہ بہت لمبا ہے، اور اس میں مہم، روابط اور قسمت — تینوں کا کردار ہوتا ہے۔ اگر یہ فلم آگے بڑھتی ہے تو یہ صرف ایک فلم کی نہیں، بلکہ پاکستانی شارٹ فلم سازوں کی پوری نسل کی جیت ہوگی۔ اسی تناظر میں پاکستانی ٹیلی وژن کی واپسی بھی زیر بحث رہی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آسکر کی مہم میں یہ چھوٹی سی فلم کتنی دور تک جاتی ہے — اور کیا پاکستانی ناظرین اسے اپنے سینما گھروں میں بھی دیکھ پائیں گے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *