Sunday, 25 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

ایک ہفتے بعد گوادر کی گبد سرحد کھل گئی: ایران سے ایل پی جی اور اشیائے خورونوش کے ٹرکوں کی آمدورفت بحال

گوادر بندرگاہ — فائل تصویر

گوادر میں پاکستان نے ایران سے ملحقہ گبد ریمدان سرحد ہفتے کی صبح دوبارہ کھول دی ہے۔ اس فیصلے سے ایک ہفتے سے پھنسے ہوئے ٹرکوں کی آمدورفت بحال ہو گئی ہے، جن میں ایل پی جی اور اشیائے خورونوش لدی ہوئی تھیں۔

گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی نے تصدیق کی کہ سرحد ہفتے کی صبح کھولی گئی۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان نے گبد ریمدان کے مقام پر ایران سے سرحد کھول دی ہے اور درآمدی و برآمدی سامان کے ساتھ ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کو دونوں طرف جانے کی اجازت دے دی ہے”۔

سرحد پر تجارتی سامان کی کلیئرنس ایک شرط کے ساتھ شروع ہوئی ہے: صرف وہ کمرشل کھیپیں گزر سکیں گی جن کی کنسائنمنٹ نوٹ کی تاریخ 16 اکتوبر یا اس سے پہلے کی ہو۔ یہ مقام گیٹ 250 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ نے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لیے اضافی نفری تعینات کی ہے۔

یہ سرحد 17 اکتوبر سے بند تھی۔ وزارت تجارت نے اچانک ایک حکم نامے کے ذریعے گبد ریمدان اور تفتان دونوں گزرگاہوں پر تجارت معطل کر دی تھی، اور 3 اکتوبر کا تجارتی حکم واپس لے لیا تھا — بغیر کوئی وجہ بتائے۔ اس بندش نے سرحد کے دونوں طرف سینکڑوں ٹرک پھنسا دیے تھے۔

جمعرات کو صورتحال مزید خراب ہو گئی تھی، جب نامعلوم مسلح افراد نے بند سرحد کے قریب کھڑے مال بردار ٹرکوں پر حملہ کیا اور درجنوں ٹرکوں کو آگ لگا دی۔ کلمتی نے سرحد کھلنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو فوری ریلیف ملے گا۔

اس فیصلے کی سب سے بڑی اہمیت ایل پی جی کی قیمتوں میں بحران کے تناظر میں ہے۔ گزشتہ دنوں ملک میں ایل پی جی کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھیں، اور سلنڈر عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہا تھا۔ کلمتی کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کی بحالی سے توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں کمی کی امید ہے۔

تجزیہ: گبد کی بندش اور پھر اچانک کھولنا ایک بڑا سبق چھوڑ گیا ہے۔ پہلا یہ کہ سرحدی تجارت کا انحصار صرف دو گزرگاہوں پر ہے، اور ایک حکم نامہ پورے ملک کی ایل پی جی سپلائی کو ہلا سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بندش کی کوئی وجہ نہ بتانا تاجروں میں بے یقینی پیدا کرتا ہے — جو لوگ کروڑوں کا سامان سرحد پر لے آئے تھے، وہ ایک ہفتہ بغیر کسی وضاحت کے انتظار کرتے رہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا کلیئرنس کا عمل تیزی سے ہوگا، اور کیا تفتان کے حوالے سے بھی کوئی فیصلہ سامنے آئے گا۔ اگر ٹرکوں کی قطاریں جلد نہ کھلیں تو قیمتوں میں ریلیف صرف اعلان تک محدود رہے گا۔

تاجروں کے لیے اگلے چند دن فیصلہ کن ہوں گے۔ گیٹ 250 سے گزرنے والی ہر کھیپ اس بات کی گواہی دے گی کہ آیا یہ بحالی مستقل ہے یا ایک اور عارضی وقفہ۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *