سندھ اسمبلی کی کمیٹی روم میں جمعے کو ہونے والی پریس کانفرنس دراصل ایک پریس کانفرنس کم اور ایک سیاسی نوٹس زیادہ تھی۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھہرو نے 28ویں آئینی ترمیم پر جاری بحث کو “قبل از وقت” قرار دیتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ حکمران مسلم لیگ (ن) کے پاس آئین میں ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت پارلیمنٹ میں موجود نہیں — اور وفاقی حکومت اپنے باقی اتحادیوں کو ساتھ ملا لے، تب بھی یہ عدد پورا نہیں ہوتا۔ پیغام واضح تھا: 28ویں ترمیم کا راستہ پیپلز پارٹی کی رضا مندی سے گزرے گا، اس کے بغیر نہیں۔
اس لیے 28ویں ترمیم پر بحث ملک کے مستقبل کو کمزور کرے گی۔
نثار کھہرو، سینئر رہنما، پاکستان پیپلز پارٹی
کھہرو کے مطابق 28ویں ترمیم کا ڈرافٹ ابھی سامنے آیا ہی نہیں، اس لیے اس پر بحث محض قیاس آرائی ہے۔ یہ وہی لائن ہے جو پیپلز پارٹی مہینوں سے دہرا رہی ہے — سینیٹر سلیم مانڈوی والا پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ڈرافٹ دیکھے بغیر تبصرہ “قبل از وقت” ہوگا، اور خود کھہرو گزشتہ برس دسمبر میں بھی 28ویں ترمیم پر بات کرنے سے یہ کہہ کر گریز کر چکے ہیں کہ “زمین پر ایسی کوئی چیز نہیں جس پر بات کی جا سکے”۔ یعنی جمعے کا بیان کوئی وقتی تبصرہ نہیں، پارٹی کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا تازہ باب ہے۔
اور 28ویں ترمیم میں آخر ہے کیا؟ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے مطابق اس کا فوکس تعلیم، آبادی اور بلدیاتی حکومتوں پر ہوگا — 27ویں ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے فوراً بعد یہ باتیں شروع ہوئی ہیں۔ دوسری طرف وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک 18ویں ترمیم کی واپسی کے تاثر کو “انتہائی غلط” قرار دے چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ فی الحال کسی آئینی ترمیم پر باضابطہ کام نہیں ہو رہا۔ مگر پیپلز پارٹی کے لیے اصل سوال مواد سے زیادہ ضمانت کا ہے۔
یہاں تجزیے کا اصل نکتہ ہے: کھہرو کا “دو تہائی اکثریت نہیں” محض ایک عددی دعویٰ نہیں، یہ سودے بازی کا ہتھیار ہے۔ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت لازمی ہے، اور مسلم لیگ (ن) اتحادیوں سمیت بھی اس ہدف سے دور ہے — مطلب یہ کہ کوئی بھی 28ویں ترمیم پیپلز پارٹی کی مہر کے بغیر پارلیمنٹ سے نہیں گزر سکتی۔ اور پی پی پی کی قیمت پہلے سے طے ہے: 18ویں ترمیم، صوبائی خود مختاری اور این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ — وہی نکات جن پر کھہرو “کوئی سمجھوتہ نہیں” کا اعلان کر چکے ہیں۔ سندھ کے لیے یہ محض آئینی بحث نہیں؛ یہ اس کی مالی اور انتظامی خود مختاری کا سوال ہے، اور کھہرو نے جمعے کو اسی خود مختاری کی قیمت وفاق کے سامنے رکھ دی ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر کیا کہا
گورنر راج کے سوال پر کھہرو نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اسے لمبے عرصے تک قائم رکھنے کا ارادہ نہیں، اور اگر تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو جائیں تو اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق صدر مملکت نے وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیر اعظم کی مشاورت پر گورنر راج کی سمری پر دستخط کیے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، مگر خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی آمادگی ظاہر نہیں کی۔ یہ وہی صوبہ ہے جہاں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت گورنر راج کا آئینی ضابطہ زیر بحث ہے۔
اس بیان میں بھی پیغام دو طرفہ ہے۔ ایک طرف گورنر راج کو “عارضی اور مشروط” قرار دے کر اس کے ناقدین کا جواب دیا گیا — وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی یہی کہہ چکے ہیں کہ بات چیت اور دہشت گردی کے خلاف تعاون سے گورنر راج ختم ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف سابق وزیر اعلیٰ کی “عدم آمادگی” کا ذکر کر کے ذمہ داری پشاور کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔ اور ایک بات جو کھہرو نے نہیں کہی مگر سب جانتے ہیں: گورنر راج لگانے والی وفاقی کابینہ میں خود پیپلز پارٹی بھی شریک ہے — اس فیصلے کا دفاع دراصل اپنی ہی حکومت کا دفاع بھی تھا۔ اس موقع پر سابق کرکٹر سلیم یوسف کی بیٹی ایمن سلیم نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔
خلاصہ یہ کہ 28ویں ترمیم کا ڈرافٹ ابھی کاغذ پر بھی نہیں آیا، مگر اس کی قیمت پہلے ہی طے ہو چکی ہے: پیپلز پارٹی کی مہر کے بغیر آئین کا کوئی صفحہ نہیں پلٹے گا۔ کھہرو نے یہ بات سندھ اسمبلی سے کہی ہے — اور یہ اتفاق نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)