مغربی کنارے میں جمعہ کو ہونے والی فائرنگ کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے حملہ آوروں کے محلے کو مکمل تباہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ الخلیل میں اسرائیلی فوجیوں کی یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج مغربی کنارے میں 1967 کے بعد کے سب سے بڑے آپریشن کی تیاری کر چکی ہے اور اس کے وقت کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔
نیتن یاہو کے الفاظ میں: “ہم مکینوں کو نکالیں گے، گھر گھر جائیں گے، وہاں موجود ہتھیار بھی ہٹائیں گے اور تمام دہشت گردی کا انفراسٹرکچر ختم کر کے تباہ کر دیا جائے گا۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فوج کے پاس مغربی کنارے میں ایک بڑے آپریشن کا منصوبہ تیار ہے — “فوج اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار ہے، وقت کا تعین ہم کریں گے، مگر یہ راستے میں ہے۔” یہ بات انہوں نے اگلے منگل، 27 اکتوبر، کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے چند روز پہلے کہی۔
اس اعلان کے فوراً بعد الخلیل میں فائرنگ کی جگہ کے گرد بلڈوزر پہنچ گئے اور مقامی ذرائع کے مطابق عمارتوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ ال جضیرہ کے نامہ نگار کے مطابق کچھ گھروں کے مکینوں کو محض پانچ منٹ کی مہلت دے کر گھر خالی کرنے کو کہا گیا۔
یاد رہے کہ جمعہ کی صبح دو فلسطینیوں — جن کی اسرائیلی میڈیا کے مطابق فراس اور حمودہ الجعبہ کے طور پر شناخت ہوئی — نے الخلیل کے قریب فحش الہوا چیک پوائنٹ پر گاڑی سے فائرنگ کی تھی۔ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے، جبکہ دونوں حملہ آور بھی مارے گئے۔ (الخلیل فائرنگ کی مکمل رپورٹ پڑھیں)
اسی واقعے کے بعد نیتن یاہو نے الخلیل کی فوری ناکہ بندی اور پورے مغربی کنارے کی مکمل بندش (فل لاک ڈاؤن) کا حکم دیا تھا۔ اب اس فیصلے پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے — ال جضیرہ کے مطابق مغربی کنارے میں لگ بھگ ایک ہزار چیک پوائنٹ اور رکاوٹیں بند کر دی گئی ہیں، اور الخلیل شہر — جس کے مضافات سمیت آٹھ لاکھ سے زائد فلسطینی رہتے ہیں — مکمل طور پر باقی مغربی کنارے سے کٹ گیا ہے۔
قومی سلامتی کے وزیر ایتامر بن گویر نے فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا، جبکہ وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز اور فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے کہا کہ فوج “اس حملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی۔”
یہ سب کیوں اہم ہے؟
مغربی کنارے میں 1967 کے بعد کے سب سے بڑے آپریشن کی بات کرنا محض الفاظ نہیں — اس کا براہِ راست مطلب جنین اور طولکرم کے پناہ گزین کیمپوں جیسے حملوں کا الخلیل تک پھیلنا ہے، جہاں لاکھوں عام فلسطینی رہتے ہیں۔ اور یہ سب انتخابات سے چار دن پہلے ہو رہا ہے، جب ہر اسرائیلی سیاستدان “سب سے سخت” بننے کی دوڑ میں ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد اب محلوں کی مسماری کا عمل شروع ہو چکا ہے — یعنی یہ دھمکی اب محض بیان نہیں رہی، عمل شروع ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)