Friday, 23 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

تین ماہ کی قانونی جنگ کے بعد ‘گھوسٹ اسکول’ کو سندھ میں نمائش کی اجازت — 30 اکتوبر کو ریلیز

سندھ کے ایک گاؤں کے بچے — 2012 کی فائل تصویر

برطانوی-پاکستانی فلمساز سیماب گل کی فلم “گھوسٹ اسکول” بالآخر 30 اکتوبر کو پنجاب اور سندھ میں ریلیز ہو گی۔ تین ماہ تک جاری رہنے والی قانونی جنگ کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے فلم کی نمائش کی اجازت دے دی — اور سینسر بورڈ کی مانگی گئی بیشتر کٹوتیوں کو مسترد کر دیا۔

تنازع شروع کیسے ہوا؟

سندھ بورڈ آف فلم سینسرز نے فلم کو یونیورسل (یو) سرٹیفکیٹ دینے کے لیے 8 مناظر اور مکالمے کاٹنے کا مطالبہ کیا۔ کاٹنے والی فہرست میں “برادری کا وڈیرہ”، “وڈیرہ”، “کمینے”، “حرام خور” اور “منحوس سیاستدان” جیسے الفاظ، اسکول کے ایک منظر میں بچے کا گالی والا جملہ، اور اختتامی مناظر میں کتابیں اور اسکول جلانے کے مناظر شامل تھے۔

عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟

19 اکتوبر کو جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے بورڈ کی بیشتر کٹوتیاں ختم کر دیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بورڈ ان کٹوتیوں کا جواز پیش نہیں کر سکا۔ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا:

کاٹنے کا اختیار بے حد نہیں ہے۔

سندھ ہائی کورٹ ڈویژن بینچ

فلمساز صرف ایک کٹ — بچے کے گالی والے جملے — پر راضی تھے، اور عدالت نے وہی ایک کٹ برقرار رکھی۔ بورڈ کو دس دن کے اندر سرٹیفکیشن پر نظرِثانی کا حکم بھی دیا گیا۔

فلم کی کہانی کیا ہے؟

فلم دس سالہ رابعہ کی کہانی ہے، جو اپنے گاؤں کے واحد اسکول کے اچانک بند ہونے کی وجہ جاننے کی کوشش کرتی ہے — جبکہ افواہ ہے کہ اسکول میں بھوت رہتے ہیں۔ اصل موضوع سندھ کے “گھوسٹ” یعنی غیر فعال اسکول اور بچیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہیں۔

فلمساز کون ہیں اور فلم کو کہاں سراہا گیا؟

ڈائریکٹر سیماب گل برطانوی-پاکستانی فلمساز ہیں۔ سینماٹوگرافر زمرین وحدت — افغان نژاد جرمن فلمساز — نے فلم میں بغیر معاوضہ کام کیا۔ فلم نے مئی میں یوکے ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ جیتا، ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اس کا پریمیئر ہوا، برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش ہوئی، اور جرمنی کے 11 سینما گھروں میں یہ ریلیز بھی ہو چکی ہے۔

نمائش کب اور کہاں ہو گی؟

30 اکتوبر کو پنجاب اور سندھ میں۔ اس سے پہلے بورڈ نے فلم کی نمائش کو کراچی کے کنٹونمنٹ علاقوں تک محدود کر دیا تھا — اب عدالت کے فیصلے کے بعد فلم کو وسیع نمائش کا راستہ مل گیا ہے۔

یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟

اس کہانی میں دو اہم پہلو ہیں۔ پہلا: اصل “بھوت” اسکول کی دیواروں میں نہیں، اس کے بند دروازوں میں ہے — سندھ میں ہزاروں غیر فعال اسکولوں کا حقیقی مسئلہ، جسے فلم نے اپنا موضوع بنایا۔ دوسرا: ایک ایوارڈ یافتہ فلم کو اپنے ہی صوبے میں نمائش کے لیے تین ماہ تک عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے پڑے۔ عدالت کے “کاٹنے کا اختیار بے حد نہیں” والے الفاظ اب آئندہ فلمسازوں کے لیے ایک نظیر بنیں گے — اور سینسر بورڈ کو اپنی حدود یاد دلاتے رہیں گے۔

پاکستان میں ثقافتی سرگرمیاں ان دنوں عروج پر ہیں — اسی ہفتے الحمرا میں عالمی تھیٹر فیسٹیول بھی ہو رہا ہے، اور پاکستانی ڈرامے بھی سماجی موضوعات کو چھو رہے ہیں۔

30 اکتوبر کو جب یہ فلم سینما گھروں میں آئے گی تو ناظرین خود فیصلہ کر سکیں گے کہ اس کہانی میں کاٹنے جیسا کیا تھا — اور کیا نہیں تھا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *