جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے چین کے خود مختار علاقے تبت میں 7.0 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہو گئے۔ زلزلے کا مرکز ناقچو شہر کے شمال میں بائیکن کاؤنٹی کے مارو ٹاؤن شپ کے قریب واقع تھا — وہی علاقہ جو پہاڑوں کی بلندی اور کم آبادی کے لیے جانا جاتا ہے۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا نے ناقچو شہر کے ایمرجنسی مینجمنٹ بیورو کے حوالے سے بتایا کہ زلزلے میں 339 گھر اور 20 مویشی خانے مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔ زخمیوں میں 11 افراد کی حالت تشویشناک ہے جبکہ باقی کو معمولی چوٹیں آئیں۔ حکام کے مطابق اموات کی تعداد بڑھ سکتی ہے، کیونکہ دور دراز دیہاتوں سے ابھی مکمل اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
زلزلے کے فوری بعد علاقے میں سطح-دو کا زلزلہ ایمرجنسی ردعمل فعال کر دیا گیا۔ مقامی کاؤنٹی سے 1,600 سے زائد امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پہنچائے گئے ہیں، جبکہ 1,000 پہلے سے تیار رہائشی یونٹ، تقریباً 3,000 خیمے اور تہہ بستر، ٹارچ اور گرم کپڑے بھی علاقے میں پہنچا دیے گئے ہیں۔ تاہم امدادی کام آسان نہیں — علاقے کے بعض حصوں میں مواصلاتی نظام منقطع ہو گیا ہے، ریلوے حکام نے گزرنے والی ٹرینیں روک دی ہیں، اور نیشنل ہائی وے 317 کا ایک حصہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بند کر دیا گیا ہے، جہاں اب صرف امدادی اور سرکاری گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔ شنہوا کے مطابق آئندہ تین دنوں میں علاقے میں وقفے وقفے سے برفباری کی بھی پیشگوئی ہے، جو کھلے آسمان تلے رات گزارنے والوں کے لیے صورتحال مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
امریکی ارضیاتی سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کا مرکز ناقچو سے تقریباً 190 کلومیٹر شمال مشرق اور علاقائی دارالحکومت لہاسا سے 390 کلومیٹر شمال مشرق میں، ایک پہاڑی اور کم آبادی والے علاقے میں تھا۔ زلزلے کی گہرائی کے بارے میں اعداد مختلف ہیں — چینی زلزلہ نیٹ ورکس سینٹر نے 10 کلومیٹر بتائی جبکہ یو ایس جی ایس کے مطابق گہرائی 18 کلومیٹر تھی۔ دونوں صورتوں میں یہ کم گہرائی کا زلزلہ تھا، جس کی وجہ سے سطح پر جھٹکے زیادہ شدید محسوس ہوئے۔ یو ایس جی ایس نے اسے شدت VIII (شدید) درجے کا قرار دیا ہے۔
مارو ٹاؤن شپ کے نائب سربراہ لوونگ دگپو نے شنہوا کو بتایا کہ زلزلہ ٹاؤن شپ دفتر میں واضح طور پر محسوس ہوا اور دفتر کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ مرکز کے قریب ترین دیہات کے کچھ مکانات میں بھی دراڑیں دیکھی گئیں۔ مقامی میڈیا کی جاری کردہ ویڈیوز میں لوگ اپنے گھروں سے نکل کر باہر کھلے میدانوں اور گاڑیوں میں پناہ لیتے نظر آئے۔
یہ زلزلہ کئی حوالوں سے غیر معمولی ہے۔ چین کے قومی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق یہ پانچ سال میں اس خطے کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، جبکہ الجزیرہ کے مطابق جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا یہ سب سے طاقتور زلزلہ ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 2025 میں تبت کے ہی تنگری کاؤنٹی میں آنے والے زلزلے میں کم از کم 126 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تبت کا پلیٹو ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے ٹکراؤ کے مقام پر واقع ہے، اسی لیے یہاں زلزلے نسبتاً عام ہیں — مگر اس بار جھٹکوں کی شدت اور آبادی والے علاقوں سے قربت نے اسے تباہ کن بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ ناقچو سطح سمندر سے ہزاروں میٹر بلند ایک دور دراز علاقہ ہے جہاں اکتوبر کے آخر میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے۔ سینکڑوں تباہ شدہ گھروں کے مکینوں کو سردی سے بچانا، منقطع رابطوں کے باوجود امداد پہنچانا، اور ممکنہ آفٹر شاکس سے نمٹنا — یہ وہ چیلنجز ہیں جن کا سامنا چینی امدادی اداروں کو آنے والے دنوں میں کرنا ہے۔
مزید پڑھیے
پاناما کے ساحل پر 7.6 شدت کا طاقتور زلزلہ — نو ممالک کے ساحلوں پر سونامی کی وارننگ
پاناما بڑے نقصان سے بچ گیا: 7.7 شدت کے زلزلے میں کوئی ہلاکت نہیں، نہرِ پاناما معمول پر

قارئین کے تبصرے (0)