Thursday, 22 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

نئی آٹو پالیسی کا مسودہ تیار: ایکسپورٹ ہدف چھوٹا تو فیکٹری کا سرٹیفکیٹ منسوخ — گاڑیاں سستی بھی ہو سکتی ہیں

پاکستان میں اسمبل شدہ سفید ٹویوٹا کرولا گاڑی (فائل تصویر)

خبر کیا ہے؟

اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف نے 20 اکتوبر کو نئی “آٹوموٹو اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-2031” کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جو اب اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور آئی ایم ایف کے جائزے کے لیے بھیجا جائے گا۔ عرب نیوز کو دستیاب مسودے کے مطابق حکومت نے پانچ سال میں آٹو شعبے کی ایکسپورٹ کا چھ ارب ڈالر کا ہدف رکھا ہے — اور جو کمپنی یہ ہدف پورا نہیں کرے گی، اس کا مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ تک منسوخ ہو سکتا ہے۔

چھ ارب ڈالر کا ہدف — یہ کتنا بڑا ہے؟

پاکستان آٹو موٹیو پارٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاپام) کے مطابق اس وقت ملک کی آٹو انڈسٹری سالانہ صرف 19 سے 20 کروڑ ڈالر کی ایکسپورٹ کرتی ہے۔ یعنی چھ ارب ڈالر کا ہدف موجودہ سطح سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ایک اہم وضاحت: یہ ہدف پوری انڈسٹری (گاڑیاں اور پرزے، دونوں) کے لیے مجموعی ہے — کسی ایک کمپنی کی سالانہ شرط نہیں۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ جو کمپنی دو سال مسلسل ایکسپورٹ ہدف سے پیچھے رہی، اس کا مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا جائے گا، اور ساتھ ہی سالانہ پیداوار کی قیمت کا ایک سے تین فیصد تک جرمانہ بھی عائد ہوگا۔

برآمد کرنے والی کمپنیوں کو کیا ملے گا؟

مسودے میں ایکسپورٹرز کے لیے مراعات بھی رکھی گئی ہیں: نیٹ ایف او بی قیمت کا پانچ فیصد ڈی ایل ٹی ایل (مقامی ٹیکسوں اور لیویز کی واپسی) ملے گا، اور اگر کسی کمپنی کی سالانہ ایکسپورٹ پانچ فیصد سے زیادہ بڑھی تو اضافی برآمد پر دس فیصد مزید معاوضہ دیا جائے گا۔ ان مراعات کی فنڈنگ کے لیے 1000 سی سی سے بڑی پٹرول، ڈیزل اور ہائبرڈ گاڑیوں پر آٹوموٹو ڈویلپمنٹ لیوی لگائی جائے گی — اسی رقم سے پرزہ سازوں کی اپ گریڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور گاڑیوں کی جانچ کے نظام کو بھی فنڈ ملے گا۔ پٹرول اور ڈیزل کی حالیہ قیمتوں کے تناظر میں یہ لیوی ایندھن کی کھپت والی گاڑیوں کے مالکان کے لیے بھی اہم ہے۔

کیا گاڑیاں واقعی سستی ہوں گی؟

عام خریدار کے لیے سب سے اہم خبر لیوی کی نئی شرحیں ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نئے مسودے میں 1000 سی سی سے چھوٹی پٹرول گاڑیوں پر لیوی صفر، 1000 سے 2000 سی سی تک دو فیصد، اور 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر دس فیصد تجویز کی گئی ہے — جبکہ پہلے مسودے میں یہ شرحیں تمام کیٹیگریز کے لیے ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ فیصد تھیں۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی سانیہ عرفان کے مطابق تقریباً ایک کروڑ روپے والی جیکو جے 7 پی ایچ ای وی کی قیمت 80 لاکھ روپے کے قریب آ سکتی ہے، اور کیا سورینٹو پی ایچ ای وی پر بھی جی ایس ٹی اور درآمدی ڈیوٹی میں تبدیلی سے قیمتوں پر نیچے کا دباؤ بڑھے گا۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بھی راستہ کھولا گیا ہے: بیٹری الیکٹرک پر ایک فیصد، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک پر چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ پر نو فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے — مقامی اسمبل شدہ اور درآمدی، دونوں اقسام پر۔

صنعت کا ردعمل کیا ہے؟

صنعت اس ہدف کو لے کر خاصی شکوک میں ہے۔ ایک بڑی جاپانی کار ساز کمپنی کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو کہا: “یہ چھ ارب ڈالر کا ہدف کوئی سوچی سمجھی پالیسی نہیں لگتا — یہ صرف ناقابلِ حصول ہے۔” ان کے مطابق نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد مقامی مینوفیکچررز کا مارکیٹ شیئر گھٹا رہی ہے، اور پاکستانی گاڑیوں کا بھارتی اور چینی گاڑیوں سے مقابلہ “انتہائی مشکل” ہے۔ پاپام کے چیئرمین عبدالرحمان اعزاز نے کہا کہ “صرف ہدف مقرر کر دینے سے ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی” — ان کے مطابق سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے غیرملکی خریدار فیکٹریوں کے معائنے کے لیے پاکستان آنے سے کتراتے ہیں، بجلی اور فنانسنگ مہنگی ہے، اور پاکستانی پرزہ سازوں کو 34 فیصد ساختی لاگت کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ دوسری طرف وزارتِ صنعت و پیداوار کے ترجمان شہزاد علی کا کہنا ہے کہ مسودہ نجی شعبے کی مکمل مشاورت سے تیار کیا گیا ہے — “ہر فیصلہ پرائیویٹ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد ہوا۔”

اب اگلا مرحلہ کیا ہے؟

اعزاز کے مطابق وزیراعظم نے 20 اکتوبر کو مسودے کی منظوری مشاورت اور آئی ایم ایف کے جائزے کے لیے دی ہے۔ آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد مسودہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)، پھر وفاقی کابینہ اور آخر میں قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے جاری پروگرام کی تازہ صورتحال یہاں پڑھیے۔

یہ کیوں اہم ہے؟

دہائیوں سے پاکستان کی آٹو پالیسی کا مرکز صارف نہیں، اسمبلرز رہے ہیں — مہنگی گاڑیاں، محدود مقابلہ، اور برآمد نہ ہونے کے برابر۔ پہلی بار کسی پالیسی میں ایکسپورٹ کو فیکٹری چلانے کی اجازت سے جوڑا جا رہا ہے: برآمد کرو، ورنہ لائسنس جائے۔ منطق درست ہے، مگر صنعت کا سوال بھی بے بنیاد نہیں — جب بجلی مہنگی ہو، فنانسنگ مہنگی ہو، اور غیرملکی خریدار معیار کی جانچ کے لیے آنے سے گھبرائے، تو چھ ارب ڈالر ہدف ہے یا خواب؟ عام شہری کے لیے اصل خبر البتہ لیوی کی نئی شرحیں ہیں: چھوٹی گاڑیوں پر صفر لیوی کا مطلب ہے کہ اگر یہ پالیسی منظور ہو گئی تو شوروم کی قیمت میں حقیقی کمی ممکن ہے۔ اب سب سے پہلا امتحان آئی ایم ایف کا جائزہ ہے — وہیں سے پتا چلے گا کہ یہ مسودہ کتنا بچتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *