پاکستان کرکٹ بورڈ نے پچاس برس سے زائد عمر کے کھلاڑیوں پر مشتمل قومی ویٹرنز ٹیم کو بھارت میں ہونے والے انٹرنیشنل ماسٹرز کرکٹ ورلڈ کپ (اوور 50 ورلڈ کپ 2027) میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان اس ٹورنامنٹ کی دفاعی چیمپئن ہے — یعنی ٹائٹل کا دفاع کیے بغیر ہی ٹیم ایونٹ سے باہر ہو گئی ہے۔
اہم نکات
- پی سی بی نے پچاس برس سے زائد عمر کے کھلاڑیوں کی ٹیم کو بھارت میں ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
- پاکستان اس ایونٹ کی دفاعی چیمپئن ہے — پچھلا ایڈیشن سری لنکا میں جیتا تھا۔
- اعلان پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ فواد اعجاز نے بدھ 21 اکتوبر کو کیا۔
- پی سی بی کے چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ذاتی طور پر انکار کی اطلاع دی۔
- ورلڈ کپ اگلے برس جنوری میں بھارت کے شہر حیدرآباد دکن میں کھیلا جانا تھا۔
اعلان بدھ 21 اکتوبر کو پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن (پی وی سی اے) کے سربراہ فواد اعجاز نے کیا۔ ان کا کہنا تھا: “ہم نے منتظمین کو ورلڈ کپ سے اپنی دستبرداری سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ وہ متبادل ٹیم کا انتظام کر سکیں۔”
فواد اعجاز کے مطابق میزبان ملک اور ٹورنامنٹ کے منتظمین نے ٹیم کو ویزوں اور فول پروف سیکیورٹی کی یقین دہانی کرائی تھی، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے پی سی بی کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سے باقاعدہ اجازت مانگی تھی۔ ان کے بقول وفاقی وزیر داخلہ اور پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے انہیں خود بتایا کہ ٹیم کو بھارت جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایسوسی ایشن نے حکومتی فیصلے کا احترام کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پی وی سی اے کے چیئرمین کے مطابق یہ ورلڈ کپ اگلے برس 23 جنوری سے 7 فروری تک بھارتی شہر حیدرآباد دکن میں کھیلا جانا تھا۔ پاکستان نے سری لنکا میں کھیلے گئے پچھلے ایڈیشن میں ٹائٹل جیتا تھا، اس لیے یہ دستبرداری ایک دفاعی چیمپئن کے طور پر ہوئی ہے — میز پر سجی ٹرافی اب کسی اور کے ہاتھ میں جائے گی۔
یہ پہلی بار نہیں کہ اجازت نہ ملنے پر کوئی پاکستانی ٹیم عالمی ایونٹ سے دستبردار ہوئی ہو۔ اس سے پہلے پی سی بی کے این او سی سے انکار کے بعد “پاکستان چیمپئنز” کی ٹیم بھی ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز سے دستبردار ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بھی بھارت میں ہونے والی ایشین چیمپئنز ٹرافی میں شرکت سے معذرت کی تھی، جس کے بعد بنگلہ دیش کو متبادل ٹیم کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔
اس فیصلے کا دائرہ صرف ایک ٹورنامنٹ تک محدود نہیں۔ ویٹرنز کرکٹ ہمیشہ سے کرکٹ کی وہ شاخ رہی ہے جہاں سیاست عام طور پر داخل نہیں ہوتی تھی — ریٹائرڈ کھلاڑی شوق اور پرانی دوستیوں کی بنیاد پر میدان میں اترتے ہیں۔ یہاں بھی دروازہ بند ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ملکوں کے کرکٹ تعلقات اس وقت کتنی گہرائی میں منجمد ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں سے کئی کے لیے یہ شاید عالمی سطح پر کھیلنے کا آخری موقع تھا؛ اب وہ محض تماشائی بن کر رہ گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی قومی ٹیم اس وقت گھر پر سہ ملکی ون ڈے سیریز میں مصروف ہے، جہاں نوجوان کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ منتظمین کی جانب سے اب متبادل ٹیم کا اعلان متوقع ہے — مگر دفاعی چیمپئن کی غیر حاضری میں جنوری کا یہ ورلڈ کپ ایک خالی تاج کے ساتھ شروع ہوگا۔

قارئین کے تبصرے (0)