Wednesday, 21 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

ایک تصویر سے کینسر کے مریض کی بقا کی پیشگوئی؟ امریکی سائنسدانوں کا نیا AI نظام

مصنوعی ذہانت چہرے کی تصویر سے صحت کا اندازہ لگاتی ہے — چہرے کا قریبی پورٹریٹ

امریکہ کے سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کا ایسا نظام تیار کیا ہے جو کینسر کے مریض کی صرف ایک چہرے کی تصویر دیکھ کر اس کے زندہ رہنے کے امکانات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ یہ تحقیق طبی جریدے دی لینسٹ ڈیجیٹل ہیلتھ میں 20 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی ہے، اور اسے میساچوسٹس کے معروف طبی ادارے ماس جنرل بریگھم کے محققین نے تیار کیا ہے۔

آئیے اس تحقیق کو سوالات و جوابات کی صورت میں سمجھتے ہیں۔

یہ نظام ہے کیا اور اسے کس نے بنایا؟

اس نظام کا نام FAHR-Face ہے۔ اس کے دو حصے ہیں: پہلا FAHR-FaceAge جو تصویر سے انسان کی حیاتیاتی عمر (biological age) کا اندازہ لگاتا ہے، اور دوسرا FAHR-FaceSurvival جو براہِ راست کینسر کے مریض کی بقا کی پیشگوئی کرتا ہے — اسے عمر کے اندازے پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ اس ماڈل کو چار کروڑ سے زائد چہروں کی تصاویر پر تربیت دی گئی ہے۔

تحقیق میں کتنے مریض شامل تھے؟

بقا کی پیشگوئی والا ماڈل 34,363 مریضوں کی تصاویر پر تربیت پایا، پھر 3,820 مریضوں پر اسے آزمایا گیا۔ اس کے بعد نیدرلینڈز کے 4,892 کینسر مریضوں کے الگ ڈیٹا پر اس کی آزادانہ توثیق بھی کی گئی — یعنی یہ صرف ایک اسپتال کے مریضوں پر نہیں پرکھا گیا۔

نتائج کیا نکلے؟

نتائج حیران کن تھے۔ جن مریضوں کو نظام نے سب سے زیادہ خطرے والے گروپ میں رکھا، ان میں موت کا خطرہ سب سے کم خطرے والے گروپ کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ تھا — اور یہ فرق عمر، بیماری کی شدت جیسے طبی عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔ جن مریضوں کے چہرے ان کی اصل عمر سے کم از کم پانچ سال بڑے لگ رہے تھے، ان میں موت کا خطرہ 21 فیصد زیادہ نکلا، جبکہ جو پانچ سال جوان نظر آئے ان میں یہ خطرہ 17 فیصد کم تھا۔

AI چہرے میں آخر دیکھتی کیا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ماڈل چہرے کے مختلف حصوں پر توجہ دیتے ہیں۔ بقا کی پیشگوئی والا ماڈل زیادہ تر آنکھوں کے نیچے اور ناک کے اردگرد کے حصوں کو دیکھتا ہے، جبکہ عمر کا اندازہ لگانے والا ماڈل منہ اور کنپٹیوں کے گرد کی خصوصیات پر مرکوز رہتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نظام صحت سے جڑے مختلف اشارے پکڑ رہے ہیں۔

کیا یہ ٹیکنالوجی ابھی اسپتالوں میں استعمال ہوگی؟

نہیں — اور یہ بات خود محققین نے واضح کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسے معمول کے علاج میں استعمال کرنے سے پہلے مزید توثیق درکار ہے۔ یہ نظام ڈاکٹروں کی جگہ نہیں لے گا، بلکہ ان کے فیصلوں میں مدد کا ایک اضافی ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح کی ابتدائی تحقیق کی مثال پارکنسن کے نئے علاج پر چوہوں میں ہونے والا تجربہ ہے جو ابھی لیبارٹری کے مرحلے میں ہے — سائنس میں ہر بڑا دعویٰ اسی احتیاط سے گزرتا ہے۔

اس تحقیق کا بڑا مطلب کیا ہے؟

اس کا سب سے بڑا وعدہ سادگی میں ہے۔ کینسر کے علاج کے فیصلے آج مہنگے ٹیسٹوں، اسکینوں اور بایوپسی پر منحصر ہیں۔ اگر ایک عام تصویر سے مریض کی حالت کا قابلِ اعتماد اندازہ لگایا جا سکے تو یہ ان علاقوں کے لیے انقلابی ہوگا جہاں جدید تشخیصی سہولتیں نہیں پہنچتیں — بشمول پاکستان کے کئی شہر۔ محقق ہیوگو ایرٹس کے الفاظ میں: “جہاں تک ہمیں معلوم ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی AI ماڈل نے ایک عام تصویر سے براہِ راست کینسر کے مریض کی بقا کی پیشگوئی کی ہو۔”

لیکن دوسری طرف احتیاط بھی ضروری ہے۔ چہرے سے صحت کا اندازہ لگانا غلط استعمال کا دروازہ بھی کھول سکتا ہے — بیمہ کمپنیاں یا آجر اسے امتیاز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ ماڈل مختلف نسلوں اور جلد کے رنگوں پر یکساں درست ہے؟ نیدرلینڈز کے ڈیٹا پر توثیق حوصلہ افزا ہے، مگر ایشیا اور افریقہ کے مریضوں پر آزمائش ابھی باقی ہے۔ ماں کے دودھ کے اینٹی باڈیز والی تحقیق کی طرح یہ بھی علاج کے نئے راستے کھول سکتی ہے — بشرطیکہ اسے ذمہ داری سے آگے بڑھایا جائے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی ہے اور طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ کینسر سے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے اپنے معالج سے رجوع کریں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *