Wednesday, 21 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

خلا میں خطرناک کھیل: روسی سیٹلائٹ یوکرینی فوج کی ‘آنکھ’ کے محض سو میٹر قریب پہنچا

خلا میں زمین کے گرد گردش کرتا آئی سی ای ای وائی ریڈار سیٹلائٹ

جنگ اب صرف زمین، سمندر اور فضا تک محدود نہیں رہی — خلا میں بھی فوجی طاقتوں کی بلی چوہے والی دوڑ جاری ہے، اور اس ہفتے روس نے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔ ایک روسی فوجی سیٹلائٹ نے جان بوجھ کر مدار تبدیل کر کے اس یورپی سیٹلائٹ کا تعاقب کیا جو یوکرین کی فوج کو انٹیلیجنس تصاویر فراہم کرتی ہے، اور دونوں کے درمیان فاصلہ صرف سو میٹر رہ گیا۔

واقعہ کیا تھا

خبر ایجنسی اے ایف پی کے خلائی ٹریکنگ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق، روسی فوجی سیٹلائٹ ‘کوسموس 2612’ — جسے روس نے اپریل 2026 میں زمین کے نچلے مدار میں بھیجا تھا — ستمبر کے آخر سے اپنا راستہ بدلنا شروع ہوا اور بالآخر اسی مدار میں جا پہنچا جہاں فن لینڈ کی کمپنی آئی سی ای ای وائی کا ‘آئی سی ای ای وائی ایکس 36’ سیٹلائٹ گردش کر رہا ہے۔ یہ سیٹلائٹ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے تحت چلایا جاتا ہے اور اس کا ریڈار نیٹ ورک یوکرین کی فوج کو اہداف اور نقل و حرکت کی تصاویر مہیا کرتا ہے۔

اٹھارہ اکتوبر کو دونوں سیٹلائٹس محض سو میٹر کے فاصلے پر آ گئے۔ امریکی خلائی نگرانی کمپنی لیو لیبز کی اپنی تحقیق میں فاصلہ تقریباً پانچ سو میٹر قرار دیا گیا، البتہ ان کا زور اسی بات پر ہے: چالاکی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی، پندرہ سے انیس اکتوبر تک کوسموس 2612 نے آئی سی ای ای وائی ایکس 36 کے آگے پیچھے پوزیشن بدلی، اور انیس اکتوبر کو قریب آنے کی کارروائی رک گئی۔

ماہرین کا ردعمل

واشنگٹن کے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے خلائی سیکیورٹی ماہر کلےٹن سوپ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “اس کی چال اور آئی سی ای ای وائی سیٹلائٹ کے اتنا قریب آنے کا کوئی معصوم مقصد نہیں ہو سکتا تھا۔”

لیو لیبز کے ٹیکنیکل سلوشنز کے نائب صدر ایڈم مارش نے اسے اب تک کا “سب سے جدید اور ممکنہ طور پر سب سے خطرناک غیر تعاون یافتہ ملاقات” قرار دیا۔ سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن کی وکٹوریا سیمسن کا کہنا ہے کہ پہلے ایسے واقعات میں ہدف امریکی حکومت کا سیٹلائٹ ہوتا تھا، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ کسی کمرشل سیٹلائٹ کو اتنے قریب سے نشانہ بنایا گیا۔

اس سے پہلے مئی 2026 میں امریکی اسپیس فورس نے بھی روس پر الزام لگایا تھا کہ اس نے چار فوجی سیٹلائٹس کو غیر معمولی ایندھن خرچ کرنے والی چالاکیوں کے ذریعے یوکرین کے استعمال ہونے والے ایک مغربی کمرشل سیٹلائٹ کے قریب پہنچایا تھا۔

یہ خبر اتنی اہم کیوں ہے

آئی سی ای ای وائی کے سیٹلائٹس عام کیمروں والے سیٹلائٹس سے مختلف ہیں: ان میں سن تھتیک اپرچر ریڈار (ایس اے آر) ٹیکنالوجی لگی ہے جو رات کے اندھیرے اور بادلوں کے پردے میں بھی زمین کی ہائی ریزولوشن تصاویر لے سکتی ہے۔ مارچ 2025 میں لانچ ہونے والے نئے ماڈل کی ریزولوشن پچیس سینٹی میٹر تک بتائی جاتی ہے۔ یہی صلاحیت انہیں یوکرینی فوج کی انٹیلیجنس کا قیمتی ذریعہ بناتی ہے — اور روسی نقطہ نظر سے انہیں ایک عسکری اثاثہ۔

سو میٹر کا فاصلہ خلا میں بہت کم سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اتنے قریب آنے کی چالاکی تین مقاصد پورے کر سکتی ہے: دوسرے سیٹلائٹ کا معائنہ، اس کی نگرانی، یا ضرورت پڑنے پر اس میں خلل ڈالنا۔ خلائی ماہر جوناتھن میک ڈاؤیل کا کہنا ہے کہ وہ زمین کے نچلے مدار میں دو فعال سیٹلائٹس کے درمیان ایسی بغیر اجازت ملاقات کی کوئی مثال نہیں جانتے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے

خلا میں کوئی ٹریفک پولیس نہیں — بین الاقوامی قوانین ان ‘غیر تعاون یافتہ’ چالاکیوں کو واضح طور پر منع نہیں کرتے۔ آئی سی ای ای وائی کمپنی کے ترجمان نے صرف اتنا کہا کہ وہ واقعے سے باخبر ہیں اور صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ نہ روس نے کوئی وضاحت دی ہے، نہ امریکہ نے اس واقعے پر باضابطہ ردعمل ظاہر کیا ہے۔

مگر پیغام سب کو سمجھ آ گیا ہے۔ یوکرین کی جنگ میں جو کمرشل خلائی انفراسٹرکچر فوجی کردار ادا کر رہا ہے، وہ اب براہ راست نشانے پر ہے۔ اگر اس طرح کی چالاکیاں جاری رہیں تو یورپ اور امریکہ کو اپنے کمرشل سیٹلائٹس کے تحفظ کے لیے نئے ضابطے یا فوجی تحفظ کے معاہدے سوچنے پڑیں گے — ورنہ خلا کی خاموش جنگ کسی دن ٹکراؤ کی صورت میں سب کے سامنے آ سکتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *