Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

پوٹن کی ٹرمپ اور شی جن پنگ کو یوکرین سمٹ کی پیشکش — ٹرمپ کی شرکت کی آمادگی

روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیلسنکی میں ملاقات کے دوران

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کو نومبر میں یوکرین جنگ پر تین ملکی سمٹ کی پیشکش کی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پوٹن نے یہ تجویز 9 اکتوبر کو ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں پیش کی تھی — اور پیر کے روز ٹرمپ نے خود اس سمٹ میں شرکت کی آمادگی کا اظہار کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق روس کی خواہش ہے کہ یہ ملاقات نومبر میں چین کے شہر شینزین میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پیک) اجلاس کے موقع پر ہو، جو 18 اور 19 نومبر کو شیڈول ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سمٹ کا مقصد چار سال سے جاری یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت ہے — تاہم ایسا معاہدہ جس سے ماسکو کو فائدہ پہنچے۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ تینوں رہنماؤں کے درمیان ممکنہ ملاقات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ پیسکوف کا کہنا تھا کہ “ابھی تک ملاقات یا اس کے ایجنڈے کے بارے میں کوئی واضح صورت حال سامنے نہیں آئی، تاہم تینوں فریق اس طرح کی ملاقات کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔”

یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اور پوٹن کے تعلقات میں نمایاں گرم جوشی دیکھی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے کا اعلان کیا اور جمعے کو ماسکو پر عائد بعض اہم پابندیاں معطل کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے — ٹرمپ کے پابندیاں معطل کرنے کے فیصلے کی تفصیل یہاں پڑھیں۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ان اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اس سے پوٹن کی حوصلہ افزائی ہوگی اور جنگ طول پکڑے گی۔

پیر کے روز ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں سمٹ میں شرکت کے سوال پر کہا: “جنگ کے خاتمے کے لیے میں جو کچھ بھی کر سکتا ہوں، چاہے کوئی وہاں ہو یا نہ ہو۔” امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی پیر کو ازبکستان کے شہر سمرقند میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ممکنہ ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کے خیال میں اس پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی سب کچھ حتمی نہیں ہوا۔

زیلنسکی کے بغیر فیصلہ؟

اس تجویز کا سب سے متنازع پہلو یہ ہے کہ یوکرین کے صدر کو اس سمٹ میں مدعو کیے جانے کا کوئی ذکر نہیں — یعنی جس ملک کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے، اس کے رہنما کو میز پر جگہ نہیں دی جا رہی۔ یورپی دارالحکومتوں میں اس پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پوٹن کی خواہش 1945 کے یالٹا سمٹ جیسی صورت حال کی ہے، جب دوسری عالمی جنگ کے بعد بڑی طاقتوں نے یورپ کو اثر و رسوخ کے دائروں میں تقسیم کر دیا تھا — اور وہ یالٹا اسی یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا میں ہوا تھا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب یوکرین اور امریکا کے تعلقات میں پہلے سے کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ زیلنسکی کے مشیر نے حال ہی میں بی بی سی کو انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ امریکی وارننگ نہ ملنے سے یوکرینی شہری مارے جا رہے ہیں۔

یہ خبر کیوں اہم ہے

اگر یہ سمٹ ہوتی ہے تو یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے غیر معمولی سفارتی ملاقات ہوگی — تین عالمی طاقتیں ایک ایسے ملک کی قسمت کا فیصلہ کریں گی جو خود میز پر موجود نہیں۔ یوکرین کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی خودمختاری کا سوال واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ کے مفادات کی سودے بازی میں طے ہو سکتا ہے۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اس کا سبق واضح ہے: بڑی طاقتوں کے درمیان معاہدے چھوٹے ملکوں کی رائے کے بغیر بھی ہو سکتے ہیں — اور تیل کی قیمتوں، پابندیوں کے نظام اور عالمی تجارت کا مستقبل انھی فیصلوں سے جڑا ہے۔

تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے ابھی باضابطہ طور پر سمٹ کی منظوری نہیں دی، لیکن وہ اس خیال کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں۔ اگلے چند ہفتے واضح کریں گے کہ یہ محض سفارتی دباؤ کی چال ہے یا واقعی تاریخ بدلنے والی ملاقات کی طرف پہلا قدم۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *