Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

«میں ہل گیا یار!» — فیصل قریشی مٹی دے بوے کے دو اقساط دیکھ کر دنگ رہ گئے

ماہرہ خان مسکراتے ہوئے — انٹرویو کے دوران لی گئی تصویر۔

فیصل قریشی نے مٹی دے بوے کے بارے میں کیا کہا؟

پاکستان کے سینئر اداکار فیصل قریشی گرین انٹرٹینمنٹ کے ڈرامے مٹی دے بوے اور رتبہ کی تعریف میں کھل کر سامنے آئے ہیں۔ ٹی وی پروگرام «رائز اینڈ شائن» میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈرامے کی صرف دو اقساط دیکھنے کے بعد اپنے ردِعمل کو ان الفاظ میں بیان کیا: «میں ہل گیا یار!» — یعنی جو کچھ انہوں نے اسکرین پر دیکھا، اس نے انہیں واقعی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

انہوں نے ڈرامہ کب اور کیسے دیکھا؟

فیصل قریشی کے مطابق ان کی اہلیہ ثنا فیصل نے ایک رات انہیں ڈرامے کی دو اقساط دکھائیں۔ وہ خود اس ڈرامے کے ناظر نہیں تھے، مگر ان دو اقساط نے ان کی رائے بدل دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پروڈکشن میں لگائی گئی محنت اسکرین پر صاف نظر آتی ہے — یہ محض ایک اور ڈرامہ نہیں، بلکہ ہر شعبے میں سوچ سمجھ کر بنایا گیا کام ہے۔

کن اداکاروں کی اداکاری کو سراہا؟

فیصل قریشی نے وہاج علی کی اداکاری میں آنے والی پختگی کا خاص ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے کردار میں جو محنت کی ہے، وہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ ماہرہ خان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ڈرامے میں ایسا کردار نبھایا ہے جو ان کے پرانے کرداروں سے بالکل مختلف ہے۔ سینئر اداکارہ سمیہ ممتاز کی اداکاری کو بھی انہوں نے خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ جنید خان اور امر خان کی کاسٹنگ اور اداکاری کو بھی ڈرامے کے لیے موزوں قرار دیا۔

ہدایت کار کے بارے میں ان کی رائے کیا تھی؟

سب سے زیادہ تعریف ہدایت کار سید وجاہت حسین کے حصے میں آئی۔ فیصل قریشی نے کہا کہ کچھ ہدایت کار چھوٹے چھوٹے قدموں سے آگے بڑھتے ہیں، جبکہ وجاہت حسین سو قدم کی چھلانگیں لگاتے ہیں۔ انہوں نے مٹی دے بوے کا موازنہ حسین کے پچھلے ڈرامے «کیس نمبر 9» سے کیا — جس میں خود فیصل قریشی نے کامران کا کردار ادا کیا تھا — اور کہا کہ نیا ڈرامہ اس سے بہت بڑا قدم آگے ہے، جس میں باریکیوں پر توجہ اور تیز رفتار کہانی گوئی نمایاں ہے۔

مٹی دے بوے ڈرامہ دراصل ہے کیا؟

مٹی دے بوے گرین انٹرٹینمنٹ کا بڑے بجٹ کا پیریڈ ڈرامہ ہے، جس کی ہدایت سید وجاہت حسین نے دی ہے، تحریر فائزہ افتخار کی ہے اور پروڈیوسر تحریم چوہدری اور نینا کاشف ہیں۔ کہانی پنجاب میں بسی ہے: وزیرآباد کے ایک معزز گھرانے کی بلقیس بانو (ماہرہ خان) کو ڈھول بجانے والے اقبال چنن عرف بالا (وہاج علی) سے محبت ہو جاتی ہے — طبقاتی فرق، خاندانی دباؤ اور تقدیر کی آزمائشوں کے بیچ ایک شدید محبت کی داستان۔ ڈرامے کی ابتدائی دو اقساط نشر ہو چکی ہیں اور ناظرین کی جانب سے نوجوان بالا اور بلو کے کردار نبھانے والے فضل حسین اور عینا خان کی اداکاری کو بھی خاص پذیرائی مل رہی ہے۔

ایک سینئر اداکار کی یہ تعریف کیوں اہم ہے؟

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں جب کوئی تجربہ کار اداکار اپنے ہم عصر فنکاروں کے کام کی کھل کر تعریف کرے تو اس کی اہمیت محض ایک بیان سے بڑھ جاتی ہے۔ فیصل قریشی خود ان دنوں اپنی پنجابی فلم مینگو جٹ کی تشہیر میں مصروف ہیں، جو 16 اکتوبر کو سینما گھروں میں آ رہی ہے — ایسے میں ان کا کسی دوسرے پروجیکٹ کی اتنی کھلی تعریف صنعت میں ایک صحت مند روایت کی علامت ہے۔ اور ناظرین کے لیے پیغام واضح ہے: جس ڈرامے نے فیصل قریشی جیسے سخت ناقد کو دو اقساط میں قائل کر لیا، اسے دیکھنے سے پہلے اب مزید کسی سفارش کی ضرورت نہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *