اہم نکات
- کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق: 120 خواتین کے دودھ سے حاصل شدہ IgA اینٹی باڈیز نے لیبارٹری میں RSV، ایڈینووائرس اور فلو کے H1N1 اور H3N2 وائرس بے اثر کر دیے۔
- چوہوں پر تجربے میں ناک کے ذریعے دی گئی دو خوراکوں نے بیماری کی شدت اور پھیپھڑوں کے نقصان کو کم کیا — ان جانوروں میں بھی جن کا اپنا مدافعتی نظام کمزور تھا۔
- محققین کے مطابق یہ “غیر فعال امیونائزیشن” کا ذریعہ بن سکتی ہے: وبائی صورتحال میں فوری تحفظ، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو ویکسین پر ردعمل نہیں دے سکتے۔
- احتیاط بھی ضروری: برڈ فلو کے H5N1 وائرس کے خلاف ابھی مضبوط اثر ثابت نہیں ہوا، اور انسانی تجربات ابھی باقی ہیں۔
ہیملٹن (کینیڈا) — میک ماسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 14 اکتوبر کو جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ انسانی دودھ سے حاصل کی گئی اینٹی باڈیز سانس کے متعدد خطرناک وائرسوں کو بے اثر کر سکتی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تحفظ ان مریضوں تک بھی پہنچ سکتا ہے جن کا اپنا مدافعتی نظام ویکسین پر ردعمل دینے کے قابل ہی نہیں۔
تحقیقی ٹیم نے امریکہ کے انڈیاناپولس اور پٹسبرگ کے ملک بینکوں سے 120 خواتین کے دودھ کے نمونے اکٹھے کیے۔ ان سے ایک خاص قسم کی اینٹی باڈی — سیکریٹری امیونوگلوبیولن اے (IgA) — الگ کر کے اس تیاری کو LCTG-001 نام دیا گیا۔ لیبارٹری تجربات میں یہ تیاری سانس کے وائرس RSV، انسانی ایڈینووائرس ٹائپ 5 اور فلو کے H1N1 اور H3N2 وائرسوں کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی۔
سب سے اہم تجربہ چوہوں پر کیا گیا۔ H1N1 فلو سے متاثرہ چوہوں کو انفیکشن سے دو گھنٹے پہلے اور 24 گھنٹے بعد ناک کے ذریعے دو خوراکیں دی گئیں۔ نتیجہ واضح تھا: بیماری کی شدت کم ہوئی اور پھیپھڑوں کو کم نقصان پہنچا۔ اور یہ فائدہ ان چوہوں میں بھی دیکھا گیا جن میں خود اینٹی باڈی بنانے کی صلاحیت ہی نہیں تھی — یعنی باہر سے دی گئی اینٹی باڈی نے اکیلے کام کیا۔
تحقیق کے سربراہ پروفیسر میتھیو ملر کہتے ہیں: “غیر فعال امیونائزیشن سے لوگ لیبارٹری میں بنائی گئی یا دوسروں سے حاصل شدہ اینٹی باڈیز سے فوری فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ ان کا اپنا مدافعتی نظام انفیکشن یا ویکسین کے جواب میں اینٹی باڈیز بنائے۔ یہ خاص طور پر کمزور مدافعتی نظام والے لوگوں کے لیے مفید ہے اور وبائی صورتحال میں فوری ردعمل کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔”
ٹیم کی شریک مصنف سیم آفخامی کے مطابق دودھ میں موجود اینٹی باڈیز دراصل ماں کی پوری زندگی کا ریکارڈ ہوتی ہیں — “یہ اس بات کا ریکارڈ ہیں کہ ماں نے ویکسین یا انفیکشن کے ذریعے کن کن چیزوں کا سامنا کیا۔” چونکہ ہر عورت کے دودھ میں مختلف اینٹی باڈیز ہوتی ہیں، اس لیے متعدد عطیہ دہندگان کے نمونے ملا کر ایک وسیع تحفظ والا مرکب تیار کیا گیا۔
پاکستان کے لیے یہ تحقیق کیوں اہم ہے
RSV اور موسمی فلو ہر سال پاکستان میں ہزاروں ننھے بچوں کو اسپتال پہنچاتے ہیں، اور موسم سرما — جب فلو کی لہر عروج پر ہوتی ہے — ابھی سر پر ہے۔ یہ تحقیق ایک طرف ماں کے دودھ کی اہمیت کو سائنسی سند دیتی ہے، تو دوسری طرف ایک عملی امکان کھولتی ہے: ایسے بچے اور مریض جنہیں ویکسین فائدہ نہیں پہنچا سکتی، ان کے لیے ناک کے اسپرے کی شکل میں تیار شدہ اینٹی باڈیز مستقبل میں دستیاب ہو سکتی ہیں۔
ایک احتیاط بھی ذہن میں رکھیں۔ برڈ فلو کے H5N1 وائرس کے پروٹینز سے یہ تیاری چپک تو گئی، مگر اس کے خلاف مضبوط بے اثر کرنے والا عمل ثابت نہیں ہو سکا، اور جانوروں پر H5N1 کا تحفظ آزمایا ہی نہیں گیا۔ انسانی تجربات بھی ابھی باقی ہیں — یعنی اسے دوا بننے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
پاکستان میں جہاں ہر موسم سرما میں فلو کی لہر بچوں اور بزرگوں کو نڈھال کرتی ہے، اس تحقیق کا پیغام دوہرا ہے: ایک طرف ماں کے دودھ کی قدر ایک بار پھر واضح ہو گئی، دوسری طرف سائنس اب اسی قدرتی تحفظ کو دوا کی بوتل میں بھرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیے
بچوں کی صحت پر عالمی ادارہ صحت کی اپیل

قارئین کے تبصرے (0)