سوال: عالمی ادارہ صحت نے آخر اعلان کیا کیا ہے؟
جواب: 7 اکتوبر 2026 کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کے علاج اور دیکھ بھال سے متعلق اپنی پہلی عالمی ہدایات جاری کیں۔ یہ ہدایات نوزائیدہ بچوں سے لے کر 19 سال کے نوجوانوں تک کے لیے ہیں، اور موٹاپے کو ایک دائمی، بار بار لوٹ آنے والی بیماری قرار دیتی ہیں جس کا انتظام طویل مدت تک کرنا پڑتا ہے۔ جنیوا میں ہدایات کے اجرا کے موقع پر ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ اب تک بچوں کے موٹاپے کے علاج کے بارے میں عالمی سطح پر کوئی متفقہ طبی رہنمائی موجود نہیں تھی — یہ خلا اب پُر کر دیا گیا ہے۔
سوال: 10 سال سے کم عمر بچوں کے لیے کیا ہدایت ہے؟
جواب: ہدایت دوٹوک ہے۔ صفر سے 9 سال تک کے بچوں کے لیے ڈبلیو ایچ او وزن کم کرنے والی ادویات، بیریاٹرک سرجری (معدے یا نظامِ ہاضمہ کو تبدیل کرنے والا آپریشن) اور وزن گھٹانے والے آلات میں سے کسی کی بھی سفارش نہیں کرتا۔ اس کی جگہ ادارے نے خاندان پر مبنی، کئی پہلوؤں پر مشتمل پروگراموں پر زور دیا ہے — یعنی متوازن خوراک، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور رویوں میں تبدیلی کی تربیت یافتہ ماہرین کی نگرانی میں مدد۔ ڈیجیٹل ذرائع سے مدد کی بھی مشروط اجازت ہے، مگر صرف والدین یا سرپرست کی نگرانی میں۔
سوال: 10 سے 19 سال کے نوجوانوں کے لیے کیا کہا گیا؟
جواب: اس عمر کے لیے رویہ محتاط مگر لچکدار ہے۔ منظور شدہ ادویات — جن میں جی ایل پی ون انجیکشن بھی شامل ہیں — صرف اس صورت میں زیرِ غور لائی جا سکتی ہیں جب نگرانی میں چلنے والا طرزِ زندگی کا مکمل پروگرام مطلوبہ نتائج نہ دے سکا ہو۔ بیریاٹرک سرجری سخت شرائط کے تحت صرف شدید موٹاپے کے حامل نوجوانوں کے لیے ممکن ہے، خاص طور پر جب ذیابیطس ٹائپ ٹو یا بلند فشارِ خون جیسی پیچیدگیاں بھی موجود ہوں اور خوراک و طرزِ زندگی کی تبدیلی ناکام ہو چکی ہو۔ ہر صورت میں یہ علاج ماہرین کی کثیر الشعبہ ٹیم کی نگرانی میں اور طرزِ زندگی کی معاونت کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔
سوال: یہ ہدایات اب کیوں آئیں؟ اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
جواب: ڈبلیو ایچ او کے اعداد چونکا دینے والے ہیں۔ 2024 میں 5 سے 19 سال کے تقریباً 40 کروڑ بچے اور نوجوان زائد وزن کے شکار تھے، جن میں 17 کروڑ موٹاپے میں مبتلا تھے — 5 سے 9 سال کے 7 کروڑ بچے اور 10 سے 19 سال کے 10 کروڑ نوجوان۔ اس عمر کے گروپ میں موٹاپے کی شرح 1990 میں محض 2 فیصد تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 8 فیصد ہو گئی — یعنی چار گنا اضافہ۔ ادارے کے شعبہ غذائیت و خوراک کی حفاظت کی ڈائریکٹر لوز ماریا ڈی ریگل کے الفاظ میں، “بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کے علاج کی بنیاد دوا یا آپریشن نہیں، بلکہ صحت مند خوراک، جسمانی سرگرمی اور پائیدار رویوں کی تبدیلی کے لیے جامع معاونت تک رسائی ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ موٹاپے میں اضافہ دنیا کے ہر خطے میں دیکھا جا رہا ہے اور کم و درمیانی آمدنی والے ممالک میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
سوال: بڑوں کے لیے ہدایات سے یہ کیسے مختلف ہیں؟
جواب: یہ فرق جان بوجھ کر رکھا گیا ہے۔ دسمبر 2025 میں ڈبلیو ایچ او نے بڑوں کے موٹاپے کے لیے ہدایات جاری کی تھیں جن میں جی ایل پی ون ادویات — جن میں اوزیمپک اور مونجارو جیسے مشہور برانڈ شامل ہیں — کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔ بچوں کے لیے ادارے نے لکیر کھینچ دی ہے: بڑھتے ہوئے جسم پر ان ادویات کے طویل مدتی اثرات ابھی نامعلوم ہیں، اس لیے احتیاط کو ترجیح دی گئی ہے۔
سوال: ماہرین کی رائے کیا ہے؟
جواب: یورپین ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف اوبیسٹی نے ہدایات کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ علاج کو بنیادی صحت کی سہولتوں کے دائرے میں لاتی ہیں۔ البتہ کچھ ماہرین نے خبردار بھی کیا ہے کہ ہدایات باڈی ماس انڈیکس کی حدوں پر زیادہ انحصار کرتی ہیں اور ادویات و سرجری تک رسائی میں عدم مساوات یہ طے کرے گی کہ اصل میں علاج کسے ملتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے ذہنی صحت کو بھی علاج کا لازمی حصہ بنایا ہے — بے چینی، ڈپریشن، کم خود اعتمادی، بدنامی اور غنڈہ گردی (بلیئنگ) جیسے مسائل کو موٹاپے کے ساتھ ہی حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اس کا پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟
پاکستان میں بھی شہری علاقوں کے بچوں میں موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے — فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور اسکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھنا اب ہر گھر کی کہانی ہے۔ ایسے میں ڈبلیو ایچ او کی ہدایات ہمارے اطفال کے معالجین کے لیے ایک واضح معیار فراہم کرتی ہیں: والدین جب وزن کم کرنے والی “جادوئی دوا” کا مطالبہ کریں تو ڈاکٹر کے پاس اب عالمی سند موجود ہے کہ بچے کا حل گولی میں نہیں، تھالی اور کھیل کے میدان میں ہے۔ البتہ ایک خدشہ اپنی جگہ ہے — ہمارے ہاں ضابطے کمزور ہیں اور نجی کلینکوں میں مہنگی ادویات کا کاروبار پہلے ہی زوروں پر ہے۔ ہدایات کا اصل امتحان یہی ہوگا کہ کیا یہ ڈاکٹروں کے نسخے تک پہنچتی ہیں یا صرف دستاویزات میں رہ جاتی ہیں۔ والدین کے لیے پیغام البتہ سیدھا ہے: بچے کے وزن کا جواب فارمیسی کی الماری میں نہیں، باورچی خانے، کھیل کے میدان اور گھر کے روزمرہ ماحول میں چھپا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)