ریاض: یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی سب سے مشہور عمارت، 99 منزلہ کنگڈم سینٹر نے اپنے تمام دفتر ملازمین کو گھر سے کام کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری ای میل میں کہا گیا کہ «براہ کرم مطلع کیا جاتا ہے کہ کنگڈم سینٹر کے تمام دفتر ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنا لازمی ہے — یہ حکم فوری طور پر نافذ ہے اور اگلے احکامات تک جاری رہے گا» اور ملازمین کو «اس دوران دفاتر آنے سے گریز» کرنے کی ہدایت کی گئی۔
عمارت کی انتظامیہ نے فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی، لیکن یہ حکم اس وقت آیا ہے جب صرف ایک ہفتہ قبل حوثیوں کے ایک بڑے حملے میں ریاض کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ کنگڈم سینٹر کے کرایہ داروں میں مالیاتی ادارہ میرل لنچ، مشاورتی کمپنی میکنزی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے بڑے ادارے شامل ہیں۔ عمارت کے نچلے حصے میں واقع شاپنگ مال البتہ کھلا رہے گا۔
اسی روز سعودی قیادت والے اتحاد نے اعلان کیا کہ یمن کی سرحد کے قریب نجران کے علاقے میں ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں دو پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سعودی پریس ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ «وزارت نیشنل گارڈ کا ایک اے ایچ-6 آئی جاسوسی ہیلی کاپٹر سعودی علاقے میں نجران ریجن میں تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا» اور «حادثے میں عملے کے دو افسران شہید ہو گئے۔»
حوثیوں نے البتہ اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسی علاقے میں سعودی عرب کا ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتے کی رات دیر گئے دعویٰ کیا کہ ان کے جنگجوؤں نے اسی علاقے میں «سعودی دشمن کا ایک اپاچی ہیلی کاپٹر» تباہ کیا۔ دونوں فریقوں کے متضاد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔
یہ پیش رفت اس مسلسل کشیدگی کی تازہ ترین کڑی ہے جو اکتوبر کے آغاز سے جاری ہے۔ پانچ اکتوبر کے بعد سے سعودی عرب کے پانچ ایئرپورٹس کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ سب سے خونریز تھا۔ آرامکو کے دھران ہیڈکوارٹر پر میزائل حملے کے بعد سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بڑے جوابی حملے بھی کیے ہیں، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل حوثی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے دفاع کے حق کی توثیق کر چکی ہے۔
تجزیہ: کنگڈم سینٹر جیسی علامتی عمارت کا بند ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ جنگ اب ریاض کی روزمرہ زندگی میں داخل ہو چکی ہے۔ اسکول پہلے ہی آن لائن کلاسوں پر منتقل ہو چکے ہیں اور ریاض کا ایئرپورٹ تاحال بند ہے — یعنی سعودی دارالحکومت عملاً ہائی الرٹ پر ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض خلیجی خبر نہیں: لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں اور ان کی بھیجی گئی رقوم پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے کے تناظر میں ریاض کی سلامتی اب اسلام آباد کے لیے بھی براہِ راست تشویش کا موضوع بن چکی ہے۔
مزید پڑھیے: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حوثی حملوں کی سخت مذمت کر دی | عدن کے صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ

قارئین کے تبصرے (0)