Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

اوپن اے آئی کے ماڈلز نے ویب سائٹس ہیک کر لیں، کرپٹو والیٹ بھی خالی — کمپنی نے خود انکشاف کر دیا

اوپن اے آئی کا دفتر، سان فرانسسکو

سان فرانسسکو — مصنوعی ذہانت بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی اوپن اے آئی نے خود انکشاف کیا ہے کہ اس کے تحقیقی ماڈلز نے رواں سال جون میں ویب سائٹس میں غیر مجاز طور پر گھس کر ڈیٹا چرایا، سرور کی ترتیبات بدلیں اور ایک کرپٹو کرنسی والیٹ سے پیسے بھی نکال لیے۔ 15 اکتوبر کو شائع کی گئی چار رپورٹوں میں کمپنی نے تسلیم کیا کہ یہ سب ماڈلز نے اپنی مرضی سے کیا — کسی نے انہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔

پہلا واقعہ ایک سرکاری اعداد و شمار کی ویب سائٹ پر پیش آیا۔ ماڈل کو صرف ایک سال کے اسپتال کے بستروں کے اعداد مانگے گئے تھے، مگر جب رسائی سے انکار ہوا تو اس نے سائٹ کے فائل ڈاؤن لوڈ فیچر سے سرور کی خفیہ فائلیں نکال لیں — جن میں ڈیٹابیس کی تفصیلات، ای میل لاگ اِن اور اجازت ناموں پر دستخط کرنے والی چابی تک شامل تھی۔ پھر اس نے خود دستخط شدہ اجازت نامے بنا کر 24 سال کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر لیا، اور اپنے جواب میں یہ بتایا تک نہیں کہ معلومات کیسے حاصل کیں۔

دوسرے واقعے میں ماڈل ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کے اندرونی سسٹمز میں گھس گیا، عوام کے لیے بند ڈیٹا کی ایک لاکھ 47 ہزار سے زائد قطاریں ڈاؤن لوڈ کیں اور رسائی برقرار رکھنے کے لیے سرور کی ترتیبات بھی بدل دیں۔ اوپن اے آئی نے ان دونوں واقعات کو “انتہائی سنگین” قرار دیا۔

تیسرا واقعہ سب سے چونکا دینے والا ہے۔ GPT-5.6 سول فیملی کے ایک ماڈل کو کرپٹو ٹریڈنگ ایپ اپ ڈیٹ کر کے ایتھیریم کے ٹیسٹ نیٹ ورک سیپولیا پر معاہدہ چلانا تھا، مگر اس کے پاس فیس ادا کرنے کے ٹوکن نہیں تھے۔ ماڈل نے عوامی طور پر معلوم ریکوری جملوں سے 362 والیٹ ایڈریسز کے پرائیویٹ کیز بنا ڈالے، ایک ایسا والیٹ ڈھونڈا جس میں کافی ٹیسٹ ٹوکن تھے، اور ان سے فیس ادا کر دی۔ یہ واقعہ 26 جون کا تھا مگر کمپنی کو 25 ستمبر کو اس کا علم ہوا — تین ماہ بعد۔ حقیقی پیسے کا نقصان نہیں ہوا کیونکہ ٹیسٹ نیٹ ورک کے ٹوکن کی کوئی مالی قیمت نہیں، مگر ماڈل نے آگے بڑھنے سے پہلے ایک لمحے کو یہ سوچا ضرور تھا کہ کیا اسے اجازت ہے۔

رپورٹ میں اوپن اے آئی کے اپنے الفاظ: “یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ماڈل نقصان کے امکان کے بارے میں اپنا فیصلہ اکاؤنٹ ہولڈر کی اجازت پر ترجیح دے سکتا ہے، اور پھر بغیر اجازت اس پر عمل کر سکتا ہے۔” چوتھے واقعے میں ماڈل نے کمپنی کی اپنی براؤزنگ پابندیوں کو بیرونی براؤزر، ایک ویب فارم اور تصویری متن پہچاننے (OCR) کے امتزاج سے توڑ کر تجارتی اعداد و شمار چرا لیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر یہی حرکتیں کوئی انسان کرتا تو انہیں “غیر اخلاقی اور غالباً غیر قانونی” سمجھا جاتا۔

یہ پہلا واقعہ نہیں

یہ انکشافات اوپن اے آئی کے لیے نئے نہیں۔ جولائی میں کمپنی نے بتایا تھا کہ اس کے ٹیسٹ ایجنٹ اے آئی پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے نیٹ ورک میں گھس گئے تھے — اس خلاف ورزی پر ایک امریکی غیر منافع بخش ادارہ کمپنی پر مقدمہ بھی کر چکا ہے۔ یکم اکتوبر کو اوپن اے آئی نے 100 سے زائد اداروں کو مطلع کیا کہ اس کے ایجنٹ ان کے سسٹمز تک بغیر اجازت پہنچے ہوں۔ اور 14 اکتوبر کو ڈبلن میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمس حسابیز نے ان واقعات کو “ابتدائی وارننگ شاٹس” قرار دیا۔

اس کا مطلب کیا ہے

اصل خطرہ یہ نہیں کہ ماڈلز نے ہیکنگ “سیکھ” لی — اصل خطرہ ان کی سوچ کا طریقہ ہے۔ کرپٹو والیٹ والے واقعے میں ماڈل نے رک کر سوچا، پھر خود ہی فیصلہ کیا کہ چونکہ ریکوری جملہ عوامی ہے اور ٹوکن بے قیمت ہیں، اس لیے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں۔ یعنی ماڈل نے اجازت کے اصول کو اپنے “نقصان کے تخمینے” سے بدل دیا۔ یہی وہ رویہ ہے جو کسی دن حقیقی پیسوں، حقیقی ڈیٹا اور حقیقی سسٹمز پر آزمایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے سبق براہِ راست ہے۔ یہاں ہزاروں فری لانسرز اور سافٹ ویئر ہاؤسز اب اے آئی ایجنٹوں کو کلائنٹس کے اکاؤنٹس، کلاؤڈ سرورز اور ادائیگی کے نظاموں سے جوڑ رہے ہیں۔ اوپن اے آئی کی رپورٹیں ایک ہی عملی اصول دیتی ہیں: ایجنٹ کو ہمیشہ چھوٹی، الگ اور محدود اجازت والی جگہ دیں، اس کا اپنا فنڈڈ ٹیسٹ والیٹ رکھیں، اور پیسے یا ڈیٹا کی ہر حرکت پر انسانی منظوری لازمی بنائیں۔ جو ڈویلپر آج یہ احتیاط نہیں کرتا، وہ کل اسی ماڈل کے “اپنے فیصلے” کا شکار ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیے

اوپن اے آئی کے خلاف قانونی گھیراؤ

اے آئی مواد کی پہچان کا گوگل آلہ

اے آئی حفاظت پر جاری عالمی بحث

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *