Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

“بیٹی ہو یا بیٹا، برابر ہیں” — فیصل قریشی کی والدین سے جذباتی اپیل؛ پنجابی فلم “مینگو جٹ” 16 اکتوبر کو سینما گھروں میں

لاہور کی بادشاہی مسجد — "مینگو جٹ" کے ٹریلر کی رونمائی اسی شہر میں ہوئی

اہم نکات

  • فیصل قریشی نے سما ٹی وی کے پروگرام “گپ شب” میں کہا کہ شادی کے بعد بھی والدین کو بیٹیوں کا ساتھ دینا چاہیے
  • “کیا وہ آپ کی بیٹی نہیں؟” — تشدد سہنے والی بیٹی کو گھر واپس لانے پر زور
  • پنجابی ایکشن کامیڈی فلم “مینگو جٹ” 16 اکتوبر کو ریلیز ہو رہی ہے؛ حریم فاروق کی پروڈکشن
  • فیصل قریشی نے فلم کے تمام اسٹنٹ خود کیے؛ حریم فاروق کی پانچ سال بعد بڑی اسکرین پر واپسی

معروف اداکار فیصل قریشی نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ شادی کے بعد بیٹیوں کو بے سہارا نہ چھوڑیں۔ سما ٹی وی کے مقبول پروگرام “گپ شب” میں میزبان وسیم چوہدری سے گفتگو کرتے ہوئے — جہاں وہ اداکارہ حریم فاروق کے ہمراہ اپنی نئی فلم کی تشہیر کے لیے آئے تھے — قریشی نے اس سوچ کو سختی سے رد کیا کہ بیاہی بیٹی والدین کے گھر صرف اپنے جنازے پر واپس آئے۔

انہوں نے کہا کہ بیٹی کی پرورش محبت سے کرنے والے والدین اسے مشکل وقت میں تنہا کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں: “آپ نے اس کی پرورش کی ہے، تو کیا آپ اس کی پشت پناہی نہیں کریں گے؟ اگر وہاں اسے مارا پیٹا جا رہا ہے یا اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو لوگ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ وہ صرف اپنے جنازے پر واپس آئے گی؟ کیا وہ آپ کی بیٹی نہیں ہے؟” قریشی کا کہنا تھا کہ شادی بیٹی کے والدین کے گھر میں اس کا مقام ختم نہیں کرتی، اور بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں برابر ہیں — جو والدین اولاد کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ان کے بچوں کو نقصان پہنچانا آسان نہیں رہتا۔

قریشی نے اس حوالے سے ماورہ حسین کے ایک ڈرامے کا بھی ذکر کیا جس میں ایک باپ اپنی بیٹی کے حق میں کھڑا ہوتا ہے، اور کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اب ہمارے ڈرامے ایسے باپ دکھا رہے ہیں جو بیٹیوں کا دفاع کرتے ہیں۔ (واضح رہے کہ مختلف ذرائع اس ڈرامے کے نام پر متفق نہیں، اس لیے نام درج نہیں کیا گیا۔)

اسی پروگرام میں دونوں فنکاروں نے اپنی آنے والی پنجابی ایکشن کامیڈی فلم “مینگو جٹ” کی تفصیلات بھی بتائیں، جو 16 اکتوبر کو ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز ہو رہی ہے۔ فلم کی کہانی مراد جٹ نامی ایک پنجاب پولیس افسر کے گرد گھومتی ہے جو مریم اور اس کے تین بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری لیتا ہے۔ فیصل قریشی اور حریم فاروق مرکزی کرداروں میں ہیں، شمعون عباسی منفی کردار نبھا رہے ہیں، جبکہ کاسٹ میں قیصر پیا، ہنی البیلہ اور عائشہ جہانزیب بھی شامل ہیں۔ فلم کو حریم فاروق نے پروڈیوس کیا ہے، کہانی ابو علیحہ نے لکھی ہے اور تقسیم کار ندیم مانڈوی والا ہیں۔ حریم فاروق نے انکشاف کیا کہ وہ عرصے سے ایک پنجابی فلم بنانا چاہتی تھیں اور “مینگو جٹ” کے ذریعے یہ خواہش پوری ہوئی — یہ ان کی پانچ سال بعد بڑی اسکرین پر واپسی بھی ہے۔ فیصل قریشی نے بتایا کہ انہوں نے فلم کے تمام خطرناک اسٹنٹ خود کیے ہیں۔

اس گفتگو کی اہمیت صرف فلم کی تشہیر تک محدود نہیں۔ پاکستان میں جب کوئی مقبول فنکار گھریلو تشدد جیسے حساس موضوع پر کھل کر بات کرتا ہے تو اس کی آواز ان گھروں تک پہنچتی ہے جہاں اخبار کے کالم نہیں پہنچتے۔ قریشی کا یہ پیغام اس لیے بھی وزنی ہے کہ وہ اسے اپنی فلم کے ایک مکالمے سے جوڑتے ہیں — جس میں ان کا کردار حریم فاروق سے کہتا ہے کہ جب بھی وہ مڑ کر دیکھے گی، وہ اس کے پیچھے کھڑا ہوگا۔ دوسری طرف “مینگو جٹ” خود ایک تجارتی داؤ ہے: پنجابی ایکشن کامیڈی، دو بڑے ٹی وی ستارے، اور ایک اداکارہ کی پروڈیوسر کے روپ میں سرمایہ کاری۔ 16 اکتوبر کو سینما گھروں میں اس کا استقبال یہ طے کرے گا کہ مقامی فلم انڈسٹری کی یہ نئی لہر محض شور ہے یا واقعی دم رکھتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *