واشنگٹن سے ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے روس، یوکرین، بھارت اور چین — چاروں دارالحکومتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شام ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے روس کے خلاف پابندیوں کے اس سخت قانون کو عملاً معطل کر دیا جسے امریکی کانگریس نے صرف ایک ماہ قبل بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔
یہ قانون — جسے “لنڈسے گراہم ایکٹ” کہا جاتا ہے — روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف لگانے کی دھمکی دیتا تھا۔ اس کی زد میں سب سے پہلے بھارت اور چین آنا تھے، جو روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ ٹیرف کا نفاذ اتوار 18 اکتوبر سے ہونا تھا، مگر ٹرمپ نے اس سے ایک دن پہلے ہی پورا قانون ہوا میں اڑا دیا۔
ایگزیکٹو آرڈر میں ٹرمپ نے لکھا کہ وہ “گراہم ایکٹ کی دفعات 112 اور 113 یا اس حکم کے تحت عائد کسی بھی ڈیوٹی کے نفاذ کو معطل کرتے ہیں۔” ساتھ ہی انہوں نے کانگریس کو باضابطہ سرٹیفکیٹ بھیجا کہ یہ معطلی “اس وقت امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔” حکم نامے کی دفعہ چار کے تحت نہ صرف ٹیرف، بلکہ روسی اعلیٰ حکام، سرکاری بینکوں اور روسی تیل لے جانے والے “شیڈو فلیٹ” کے ٹینکروں پر پابندیاں بھی معطل کر دی گئی ہیں۔ یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ٹرمپ یا وزیر خارجہ — خزانے اور تجارتی نمائندے کی مشاورت سے — کوئی دوسرا فیصلہ نہ کریں۔
یہ قانون ستمبر میں کانگریس سے 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے منظور ہوا تھا اور 18 ستمبر کو ٹرمپ نے خود اس پر دستخط کیے تھے۔ اس کا نام مرحوم سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام پر رکھا گیا تھا، جو روس کے خلاف سخت موقف کے علمبردار تھے۔ قانون کے تحت روسی اشیا پر 500 فیصد تک ڈیوٹی بھی لگ سکتی تھی۔ اب یہ سب کچھ کاغذ پر ہی رہ گیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ قدم اچانک نہیں آیا۔ پچھلے چند ہفتوں میں ان کا روس کی طرف جھکاؤ کھل کر سامنے آیا ہے — انہوں نے یوکرین کے صدر زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین کو نئی قیادت کی ضرورت ہے، اور اکتوبر کے شروع میں امریکہ اور روس کے درمیان ڈیزل کا ایک بڑا معاہدہ بھی ہوا تھا۔ اس کے برعکس، 15 اکتوبر کو کانگریس کے 22 ارکان — دونوں جماعتوں سے — نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قانون پر عمل درآمد کریں اور روس سے ڈیزل کا معاہدہ ختم کریں۔ ٹرمپ نے اس مطالبے کو نظرانداز کر کے الٹا راستہ چنا ہے۔
ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان ڈیزل معاہدے کی تفصیل یہاں پڑھیے
اب سوال یہ ہے کہ ٹرمپ نے ایسا کیوں کیا؟ جواب شاید 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں چھپا ہے۔ روسی تیل پر پابندی کا مطلب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا — اور امریکہ میں پٹرول کی بڑھتی قیمت ہر انتخاب میں حکمران جماعت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔ ٹرمپ نے مہنگے تیل کا سیاسی خطرہ مول لینے کے بجائے اپنے ہی دستخط شدہ قانون کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین جنگ ختم کرائیں گے — مگر ان کا ہر عملی قدم ماسکو کے لیے آسانی پیدا کر رہا ہے، کییف کے لیے نہیں۔
یوکرین پر یورپ کے متحدہ موقف اور ٹرمپ سے اختلاف کی کہانی
پاکستان کے لیے اس خبر میں دو پہلو ہیں۔ پہلا، اگر روسی تیل پر عالمی دباؤ کم رہتا ہے تو تیل کی قیمتوں میں استحکام رہنے کا امکان ہے — اور پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے یہ براہ راست پٹرول کی قیمت سے جڑا معاملہ ہے۔ دوسرا اور زیادہ گہرا پہلو یہ ہے کہ یہ فیصلہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اب اصولوں سے زیادہ سودے بازی پر چل رہی ہے۔ آج ایک قانون بنتا ہے، کل اسے معطل کر دیا جاتا ہے — ایسے میں چھوٹے ممالک کے لیے واحد عقلمندی یہی ہے کہ وہ کسی ایک بڑی طاقت کے وعدے پر اپنا مستقبل نہ لگائیں۔
اگلے چند دنوں میں سب کی نظریں کانگریس پر ہوں گی — کیا قانون ساز اس معطلی کو چیلنج کریں گے، یا ٹرمپ کی مرضی کے آگے سر جھکا لیں گے؟ اور ماسکو میں اس فیصلے کا جشن کس انداز میں منایا جاتا ہے، یہ بھی دیکھنے والی بات ہوگی۔

قارئین کے تبصرے (0)