- براڈ انسٹیٹیوٹ آف ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کی نئی تحقیق، جرنل پی این اے ایس میں شائع — دو چھوٹے مالیکیول والی دوائیں خلیوں تک آکسیجن کی فراہمی کم کر کے پارکنسن کے چوہوں کے ماڈل میں اعصابی تنزلی کی علامات بہتر کر گئیں۔
- اسی دوا کے امتزاج نے لی سندروما کے چوہوں کے ماڈل میں عمر بڑھا دی اور فریڈرچ اٹیکسیا کے ماڈل میں اعصابی علامات کی پیش رفت سست کر دی۔
- ابتدائی نکتہ: پارکنسن میں دماغ کے کچھ حصوں میں آکسیجن کا اضافی جمع ہونا نیوران کی موت سے جڑا ہے — آکسیجن کم کرنے سے یہ نقصان رکا۔
- یہ صرف چوہوں پر مطالعہ ہے؛ انسانوں پر آزمائش سے پہلے مزید تحقیق درکار ہے۔
پارکنسن کی بیماری کے علاج کی تلاش میں سائنسدان ایک بالکل غیر متوقع راستے پر چل پڑے ہیں: مریض کے دماغ تک پہنچنے والی آکسیجن کم کرنا۔ براڈ انسٹیٹیوٹ آف ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کے محققین نے رپورٹ کیا ہے کہ دو چھوٹی مالیکیول والی ادویات کا امتزاج، جو خلیوں کو آکسیجن کی ترسیل کم کر دیتا ہے، پارکنسن کے چوہوں کے ماڈل میں اعصابی تنزلی کی علامات میں بہتری لایا۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر ومسی موتھا کے مطابق، یہ تصور برسوں کی ایک مسلسل تحقیق کا نتیجہ ہے۔ ان کی ٹیم نے پہلے دریافت کیا تھا کہ پارکنسن میں دماغ کے جن حصوں میں مائٹوکونڈریا (خلیوں کے توانائی گھر) خراب ہوتے ہیں، وہاں آکسیجن غیر معمولی طور پر زیادہ جمع ہو جاتی ہے — اور یہ اضافی آکسیجن نیوران کی موت سے وابستہ ہے۔ خاص سینسرز سے انہوں نے دکھایا کہ پارکنسن کے ماڈل والے چوہوں کے دماغ میں آکسیجن کی سطح بلند تھی، اور یہ زیادتی لپڈ پیروکسیڈیشن نامی ایک تباہ کن عمل کو تیز کرتی تھی۔
پہلے کے تجربات میں ٹیم نے چوہوں کو مستقل کم آکسیجن والی ہوا میں رکھا تھا اور علامات میں بہتری دیکھی تھی۔ لیکن چوہوں کو مہینوں تک ہائپوکسیا چیمبر میں رکھنا کوئی عملی علاج نہیں۔ نئی تحقیق، جو پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (پی این اے ایس) میں شائع ہوئی، یہ سوال حل کرتی ہے: کیا “گولی کی شکل میں ہائپوکسیا” ممکن ہے؟ دوائیوں کا یہ امتزاج جسم کو کم بلندی والی ہوا میں رہنے کے بغیر ہی آکسیجن کم پہنچاتا ہے۔
نتائج حیران کن تھے۔ پارکنسن کے چوہوں کے ماڈل میں علامات بہتر ہوئیں۔ اور اس سے بھی آگے — اسی امتزاج نے لی سندروما کے چوہوں کی عمر بڑھا دی اور ان کی علامات کم کر دیں، اور فریڈرچ اٹیکسیا کے ماڈل میں اعصابی علامات کی پیش رفت سست کر دی۔ یہ دونوں نایاب جینیاتی بیماریاں ہیں جن میں مائٹوکونڈریا خراب ہوتے ہیں اور غیر استعمال شدہ آکسیجن بافتوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
“مائٹوکونڈریا کی خرابی بہت سی مختلف حالتوں سے جڑی ہے — نایاب بیماریوں سے لے کر عمر رسیدہ عام بیماریوں تک،” ڈاکٹر موتھا نے کہا، جو ہارورڈ میڈیکل اسکول میں سسٹمز بائیولوجی اور طب کے پروفیسر بھی ہیں۔ “یہ نتائج امید افزا ہیں اور ہائپوکسیا تھراپی کی ایک دوا کی صورت میں قابلِ عمل شکل پیش کرتے ہیں۔”
یہ اتنا اہم کیوں ہے؟
پارکنسن کی موجودہ ادویات علامات کو کنٹرول کرتی ہیں، مگر بیماری کے بڑھنے کو روکتی نہیں۔ یہ تحقیق بالکل مختلف سمت سے حملہ کرتی ہے: یہ لیوی باڈیز (الفا-سنوکلیئن پروٹین کے جمع) کو نشانہ نہیں بناتی، بلکہ ان جمع شدہ پروٹین کے نقصان دہ اثرات سے نیوران کو بچاتی ہے۔ پچھلے تجربات میں یہ بھی دیکھا گیا تھا کہ کم آکسیجن میں رہنے والے چوہوں میں لیوی باڈیز تو بنتی رہیں، مگر نیوران نہیں مرے — یعنی پروٹین جمع ہونا اور نیوران کا مرنا دو الگ چیزیں ہیں، اور یہ دوائی دوسری کو روکتی ہے۔
پاکستانی قارئین کے لیے ایک اور دلچسپ پہلو: برصغیر میں پارکنسن کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ تحقیق ابھی لیبارٹری کے درجے پر ہے، مگر اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ پارکنسن صرف ڈوپامائن کی کمی کا نام نہیں — دماغ میں آکسیجن کا توازن بھی اتنا ہی اہم ہو سکتا ہے۔
اگلا قدم کیا ہے؟
ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ دوا کا نسخہ اب مزید پری-کلینیکل اور بالآخر کلینیکل آزمائش کا مستحق ہے۔ راستہ طویل ہے: چوہوں سے انسان تک پہنچنے میں برسوں لگتے ہیں، اور آکسیجن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کوئی معمولی کھیل نہیں — غلط مقدار میں یہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ خبر کسی نئے علاج کا اعلان نہیں، بلکہ ایک نئے دروازے کا کھلنا ہے۔ قارئین کے لیے واضح رہے: گھر پر آکسیجن کم کرنے کی کوئی بھی کوشش خطرناک ہو سکتی ہے؛ یہ تحقیق صرف ماہرین کی نگرانی میں ہونے والی دوا پر مبنی ہے۔
دماغ کی بیماریوں پر تحقیق میں یہ ایک نایاب لمحہ ہے جب ایک ہی علاج تین مختلف اعصابی بیماریوں — پارکنسن، لی سندروما اور فریڈرچ اٹیکسیا — کے ماڈلز میں کام کرتا نظر آیا ہو۔ طب کے نوبیل انعام یافتہ آپٹوجینیٹکس کی تکنیک کی طرح یہ بھی دماغ کے بنیادی عمل کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش ہے۔ اس سے پہلے مرگی کے مریضوں میں کم عمری میں ڈیمینشیا کے بڑھے ہوئے خطرے کی تحقیق نے بھی اعصابی بیماریوں کے پوشیدہ رشتوں کو بے نقاب کیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ “آکسیجن کم کرو” کا یہ الٹا فارمولا انسانوں پر بھی اتنا ہی کام کرتا ہے یا نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)