واشنگٹن — امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پیر کو اعلان کے بغیر اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے، جس کے مطابق یہ ملاقات جنوبی اسرائیل کے اووڈا ایئر بیس پر ہوئی۔
پینٹاگون نے اس دورے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، اور خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ملاقات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ تاہم ہیگستھ نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے مشرق وسطیٰ میں موجودگی کی تصدیق کر دی — البتہ انہوں نے اسرائیل کا نام نہیں لیا۔
As always, it was an honor to visit our warfighters in @CENTCOM today. The best of our country, on a historic mission. Godspeed. pic.twitter.com/UO094Mvw1e
— Secretary of War Pete Hegseth (@SecWar) October 20, 2026
ہیگستھ نے اپنی پوسٹ میں لکھا: “As always, it was an honor to visit our warfighters in @CENTCOM today. The best of our country, on a historic mission. Godspeed.” یعنی ان کے الفاظ میں، سینٹکام میں “ہمارے جنگجوؤں” سے ملنا ہمیشہ کی طرح اعزاز کی بات تھی — “ہمارے ملک کے بہترین لوگ، ایک تاریخی مشن پر۔”
اس خفیہ دورے کا وقت خاصا اہم ہے۔ محض ایک دن قبل، اتوار کو، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات میں نیتن یاہو کی کھلی حمایت کا اعلان کیا تھا — 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد یہ اسرائیل کا پہلا انتخاب ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کا مذہبی قوم پرست اتحاد اپنی حکومتی اکثریت کھو سکتا ہے، جبکہ گادی آئزن کوٹ کی یشار پارٹی کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد 120 رکنی کنیسٹ میں 52 نشستوں کی پیش گوئی کے ساتھ مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو 2WAY کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو کی حمایت سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا: “I endorse American candidates, and that’s where I’m focused on is the midterms… I’m not getting involved in Israeli elections.”
ایکسیوس کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ٹرمپ نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران “جلد اپنا رویہ نہ بدلے” تو امریکا اور اسرائیل “جلد ہی کام تمام کر دیں گے”۔
یہ دورہ یوکرین کے محاذ پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے پیر کو امریکی سینیٹرز سے کہا کہ پینٹاگون یورپی ممالک کی پہلے سے ادا شدہ انٹرسیپٹر میزائلوں کی فراہمی میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہا ہے، اور کھیپ وزیر دفاع ہیگستھ کے دستخط کی منتظر ہے — وہی ہیگستھ جو اس وقت مشرق وسطیٰ کے اس خفیہ دورے پر ہیں۔ امریکا یوکرین تنازع کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں۔
یہ خبر کیوں اہم ہے: اگر امریکا اور اسرائیل واقعی ایران پر نئے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں تو اس کا پہلا اثر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر پڑے گا — اور تیل کی ہر لہر پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں تک پہنچتی ہے، جہاں قیمتیں پہلے ہی 400 روپے فی لیٹر کے قریب گھوم رہی ہیں۔ دوسرا، یہ دورہ اسی ہفتے کی بڑی سفارتی ہلچل کا حصہ ہے: پوٹن کی ٹرمپ اور شی جن پنگ کو یوکرین سمٹ کی تجویز کے بعد اب امریکی وزیر دفاع کا خفیہ اسرائیلی دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن بیک وقت کئی محاذوں پر بڑے فیصلوں کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ خبر براہ راست معنی رکھتی ہے — مکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں کسی بھی امریکی اسرائیلی فوجی کارروائی کے اثرات اسلام آباد کی خارجہ پالیسی پر پڑیں گے۔
اس خبر میں مزید تفصیلات سامنے آنے پر اسے اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)