Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

طب کا نوبیل انعام: دماغ کو روشنی سے کنٹرول کرنے والی تکنیک پر تین سائنسدانوں کو اعزاز

نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر ہاروی آلٹر کو میڈل پیش کرنے کی تقریب

اسٹاک ہوم — 2026 کا فزیالوجی یا طب کا نوبیل انعام تین سائنسدانوں — امریکی کارل ڈیسرتھ اور جرمن پیٹر ہیگمین اور گیورگ ناگل کو دیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز “روشنی سے چلنے والے آئن چینلز اور آپٹوجینیٹکس” کی دریافت پر ملا۔ انعام کی رقم ایک کروڑ بیس لاکھ سویڈش کراؤن (تقریباً 12 لاکھ ڈالر) تینوں میں تقسیم ہوگی۔

آپٹوجینیٹکس کیا ہے؟

آپٹوجینیٹکس ایک ایسی تکنیک ہے جس سے سائنسدان زندہ دماغ کے انفرادی خلیوں (نیورونز) کی سرگرمی کو روشنی کے ذریعے آن یا آف کر سکتے ہیں۔ نوبل اسمبلی کے سیکرٹری جنرل تھامس پیرلمن کے الفاظ میں، یہ طریقہ “دماغ کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے دنیا بھر کی لیبارٹریوں میں استعمال ہو رہا ہے۔”

یہ دریافت کیسے ہوئی؟

1990 کی دہائی میں پیٹر ہیگمین یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ کلیمائیڈوموناس نامی ایک خلیے والا کائی روشنی کی طرف کیسے تیرتا ہے۔ انہیں پتا چلا کہ اس میں روشنی کے لیے حساس ایک پروٹین ہوتا ہے۔ بعد میں گیورگ ناگل کے ساتھ مل کر انہوں نے ثابت کیا کہ یہ پروٹین ایک سوئچ کی طرح کام کرتا ہے — روشنی پڑتے ہی ایک چینل کھل جاتا ہے جس سے آئنز گزرتے ہیں۔ اس پروٹین کا نام چینل روڈوپسن رکھا گیا۔

پھر اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں کارل ڈیسرتھ نے دکھایا کہ اس پروٹین کو چوہوں کے عصبی خلیوں میں استعمال کر کے انہیں روشنی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہ کام 2005 میں شائع ہوا اور 2006 میں اس طریقے کو “آپٹوجینیٹکس” کا نام دیا گیا۔

اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

اس تکنیک سے محققین ان عصبی سرکٹس کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور ان پر قابو پا سکتے ہیں جو یادداشت، جذبات اور رویے کو کنٹرول کرتے ہیں — خاص طور پر وہ جو اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں سے متعلق ہیں۔ نوبل کمیٹی کی رکن اینا ویڈل کے مطابق، “یہ دماغ کے کام کو سمجھنے کا ایک بالکل نیا پہلو ہے۔”

انعام یافتہ افراد نے کیا کہا؟

54 سالہ ڈیسرتھ کو جب نوبل کمیٹی کی کال آئی تو وہ ابھی سوئے تھے۔ انہوں نے کہا: “اب مجھے نہیں لگتا کہ میں کافی دیر تک سو سکوں گا۔” 73 سالہ ناگل اس وقت اٹلی میں دھوپ میں چھت پر بیٹھے تھے۔ ان کا کہنا تھا: “مجھے واقعی اس کی توقع نہیں تھی!”

آگے کیا؟

طب کا انعام روایتی طور پر نوبیل ہفتے کا آغاز کرتا ہے — آنے والے دنوں میں فزکس، کیمسٹری، ادب، امن اور معاشیات کے انعامات کا اعلان ہوگا۔

تجزیہ

یہ انعام بنیادی سائنس کی طاقت کی یاد دہانی ہے: کائی پر ہونے والی تجسس بھری تحقیق تین دہائیوں بعد دماغی امراض کے علاج کی کنجی بن گئی۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے سبق یہ ہے کہ تحقیقی سرمایہ کاری کا پھل دیر سے ملتا ہے، مگر اس کی قیمت نسلوں تک جاتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *