Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار ٹینکرز آگ کی لپیٹ میں: ایرانی بحری کانوں کا دھماکہ، امریکی ڈرون بھی مار گرایا

سمندر میں سفر کرتا ہوا تیل بردار سپر ٹینکر

آبنائے ہرمز میں کشیدگی منگل کو ایک اور خطرناک موڑ پر پہنچ گئی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری کانوں کے دھماکوں سے دو تیل بردار ٹینکرز آگ کی لپیٹ میں آ گئے اور ان کی نقل و حرکت رک گئی، جبکہ اسی رات فضائی دفاع نے آبنائے کے اوپر پرواز کرتے ہوئے ایک امریکی جاسوس ڈرون بھی مار گرایا۔

آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان نمبر 19 میں — جو تنظیم کی سرکاری ویب سائٹ سپاہ نیوز پر شائع ہوا — کہا گیا کہ “آئی آر جی سی بحریہ کے بہادر ملاحوں کی بچھائی ہوئی کانوں کے دھماکوں سے دو خلاف ورزی کرنے والے تیل بردار ٹینکرز آگ کی لپیٹ میں آ گئے اور آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں غیر قانونی گزرگاہ پر رک گئے۔”

اسی بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ رات آئی آر جی سی کے فضائی دفاعی دستوں نے آبنائے ہرمز کی فضائی حدود کی نگرانی کے دوران “جارح امریکی فوج کے ایک ایم کیو 9 ڈرون” کی نشاندہی کی اور اسے “فوری طور پر نشانہ بنا کر تباہ اور گرا دیا”۔ ایرانی دعوے کے مطابق یہ 28 فروری سے جاری جنگ میں گرایا جانے والا 54واں امریکی ایم کیو 9 ریپر ڈرون ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اگست میں امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اس تنازع میں امریکی افواج کم از کم 45 ایم کیو 9 ڈرون گنوا چکی ہیں — جو ان کے پورے بیڑے کا تقریباً ایک چوتھائی اور لاگت میں ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ بنتا ہے۔

بیان میں سخت وارننگ بھی دی گئی: “آئی آر جی سی بحریہ ایک بار پھر خبردار کرتی ہے کہ کانیں بچھائی گئی گزرگاہ سے گزرنا غیر قانونی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے اثاثے آگ کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ اگر امریکی حکومت اشتعال انگیزی جاری رکھتی ہے تو تیل کمپنیوں کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔”

یہ کوئی اچانک واقعہ نہیں — بلکہ حالیہ دنوں کے ایک باقاعدہ نمونے کا تازہ ترین باب ہے۔ پیر کو بھی ایک ٹینکر کان سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آیا تھا، جبکہ اس سے ایک دن پہلے دو دیگر ٹینکروں کے کانوں سے ٹکرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک چالیس سے زائد بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے جو تہران کے مطابق غیر مجاز راستے استعمال کر رہے تھے۔ آبنائے میں جہازرانی پر یہ دباؤ نیا نہیں — گذشتہ ہفتے جی ایف ایس پرائیڈ نامی کنٹینر جہاز کے ڈوبنے کے بعد الجبیل کے قریب بھی تیل بردار جہاز پر حملہ ہو چکا ہے۔

صورتِ حال کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ واشنگٹن اب آبنائے سے زیادہ سے زیادہ جہازوں کو حفاظتی پہرے میں گزارنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو آبنائے کی عدم تحفظ کی ذمہ داری امریکا پر عائد کی۔ اسی پس منظر میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگ ستھ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ بھی سامنے آیا ہے — ایک ایسا وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف “کام مکمل کرنے” کی باتیں کر رہے ہیں۔

اور یہ سب کچھ پاکستانی شہریوں کے لیے محض دور کی خبر نہیں۔ پٹرول پہلے ہی تقریباً 399 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے، ریاض کا کنگ خالد ایئرپورٹ حوثی حملوں کے بعد اب بھی بند ہے، اور آبنائے ہرمز میں ہر نیا دھماکہ عالمی تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر دھکیلنے کا خطرہ رکھتا ہے۔ دنیا کی تیل کی فراہمی کا پانچواں حصہ اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے — یہاں لگی ہر چنگاری کا اثر اسلام آباد کے پٹرول پمپ تک پہنچتا ہے۔

یہ سب کیوں اہمیت رکھتا ہے

آبنائے ہرمز کی یہ تازہ ترین کشیدگی دو واضح پیغام دے رہی ہے۔ پہلا: ایران نے “غیر قانونی راستے” کی اپنی تشریح کو بحری کانوں سے نافذ کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے، اور وہ اسے روز بروز بڑھا رہا ہے۔ دوسرا: امریکی ڈرون کا گرایا جانا — چاہے ایران کا 54 کا دعویٰ درست ہو یا نہ ہو — واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست فوجی ٹکراؤ کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جو اب محض پراکسی جنگ نہیں رہی۔ پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے یہ صورتِ حال دوہرا دباؤ ہے: ایک طرف مہنگائی، دوسری طرف خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام۔

حوالہ: آئی آر جی سی کے بیان نمبر 19 کا مکمل متن ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے پر شائع ہوا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *