برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ جمعے کے دن سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر واقع صنعتی شہر الجبیل سے 68 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک تیل بردار جہاز کو “نامعلوم پروجیکٹائل” لگا۔ ایجنسی کے مطابق جہاز کا تمام عملہ محفوظ ہے اور اسے بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسی روز UKMTO نے ایک دوسری رپورٹ بھی جاری کی، جس کے مطابق جمعے کو ہی الجبیل سے 78 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک اور واقعے میں ایک چھوٹی کشتی سے فائر کیا گیا راکٹ پروپیلڈ گرینیڈ (آر پی جی) ایک ٹینکر کے پچھلے بائیں حصے سے ٹکرایا اور اسے نقصان پہنچا۔ عملے کے تمام ارکان کے محفوظ ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے، تاہم نقصان کی مکمل حد اور ماحولیاتی اثرات کا ابھی تعین نہیں ہو سکا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے نوٹ کیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں رپورٹیں ایک ہی واقعے کی ہیں یا یہ دو الگ الگ حملے تھے۔
میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی وین گارڈ نے متاثرہ جہاز کی شناخت مارشل آئی لینڈ کے پرچم والے خام تیل بردار “سیفین پرنسپل” (Safeen Principal) کے طور پر کی ہے۔ ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد جہاز کا پاور سسٹم ناکام ہو گیا اور اس کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی۔
UKMTO کی جہازوں کو وارننگ
واقعے کے بعد UKMTO نے علاقے سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں کو ہدایت کی ہے: “Vessels are advised to transit with caution and report any suspicious activity to UKMTO while authorities are investigating.” یعنی جب تک حکام کی تحقیقات جاری ہیں، جہاز احتیاط سے سفر کریں اور ہر مشکوک سرگرمی کی اطلاع UKMTO کو دیں۔
یہ حملے کیوں ایک خطرناک پیش رفت ہیں؟
یہ واقعات کئی لحاظ سے معمول سے ہٹ کر ہیں۔ پہلی بات: یہ حملے خلیج فارس کے اندر، سعودی عرب کے مشرقی صنعتی ساحل کے قریب ہوئے — نہ تو آبنائے ہرمز کی تنگ گزرگاہ پر اور نہ بحیرہ احمر میں، جہاں اب تک زیادہ تر حملے ہو رہے تھے۔ دوسری بات: ایک چھوٹی کشتی سے آر پی جی فائر کرنا بالکل نیا حربہ ہے۔ بڑے میزائل سسٹم کے بجائے عام ہتھیاروں سے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانا حملہ آوروں کے لیے آسان اور جہازوں کے دفاع کے لیے کہیں زیادہ مشکل ہے۔
تیسرے، یہ حملہ ایسے ہفتے میں ہوا ہے جس میں اب تک تقریباً ایک درجن جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں — اور چند روز قبل ہی آبنائے ہرمز میں ایک سپر ٹینکر سمندری مائن سے ٹکرایا تھا۔ چوتھے، خطے میں کشیدگی صرف سمندر تک محدود نہیں: اسی ہفتے عدن ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملے میں قاہرہ جانے والی پرواز بال بال بچی تھی۔ پانچویں اور پاکستانی قاری کے لیے سب سے اہم بات: برینٹ خام تیل 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے اور پاکستان میں پٹرول کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 399 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔ سپلائی کا ہر خطرہ تیل کی قیمت میں نئی چھلانگ کا بہانہ بن سکتا ہے — اور اس کا براہِ راست بوجھ پاکستانی صارف کی جیب پر آئے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 10 اکتوبر کو روس کے ساتھ ڈیزل معاہدے کا اعلان مارکیٹوں کو پرسکون کرنے کے لیے کیا تھا، مگر خلیج میں بڑھتی کشیدگی اس سکون کو نگلتی جا رہی ہے۔
حکام تحقیقات کر رہے ہیں اور ابھی تک کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سمندری تجارت کے لیے پیغام واضح ہے: خلیج فارس کے راستے اب کسی ایک چوک پوائنٹ تک محدود نہیں رہے — خطرہ سعودی ساحل کے دروازے تک پہنچ چکا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)