پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو تہران جائیں گے، جہاں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات کو دوبارہ حرکت دینے کی کوشش کریں گے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے پیر کو ایک پاکستانی عہدیدار اور ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ یہ دورہ آج طے ہے۔
دورے کی اہمیت یہ ہے کہ پاکستان اس سال امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موسم گرما میں عاصم منیر اور ایرانی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے، آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت بحال کرنے اور تنازع کا جلد از جلد خاتمہ یقینی بنانے پر بات چیت ہوئی تھی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے حوالے سے ترک خبر رساں ادارے انادولو نے بتایا کہ فیلڈ مارشل منیر ایرانی حکام سے ملاقات کر کے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں پر بات کریں گے، جن میں علاقائی صورتحال کے وسیع پہلو بھی زیر بحث آئیں گے۔
جون کا اسلام آباد معاہدہ اور اس کا انہدام
یاد رہے کہ جون میں امریکہ اور ایران نے اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم) پر دستخط کیے تھے، جس نے حتمی معاہدے کی طرف مذاکرات کا خاکہ قائم کیا تھا۔ لیکن یہ مذاکرات بعد ازاں ٹوٹ گئے — اس تنازع کی جڑ سیکیورٹی ضمانتیں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی جیسے نکات تھے۔
اب تین ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ اسلام آباد کی ثالثی میں طے پانے والا امن کا بندوبست منہدم ہوا، اور عاصم منیر کا یہ دورہ اسی تعطل کو ختم کرنے کی تازہ کوشش ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اس لیے وہاں کوئی رکاوٹ صرف خطے تک محدود نہیں رہتی۔
ثالثی کی راہ میں رکاوٹیں
پاکستان اور قطر واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی غیر رسمی ترسیل کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن عاصم منیر کا مشن آسان نہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی وعدے اس کے ثالثی کردار کو پیچیدہ بناتے ہیں، اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی معطلی نے دو طرفہ تعلقات پر دباؤ ڈالا ہے۔ پاکستانی حکام نے تجارت کی معطلی کی وجوہ میں سیکیورٹی خدشات، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی انتظامیہ میں تبدیلیاں بتائی ہیں۔
دوسری طرف روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی پیر کو تہران میں موجود تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس محاذ پر سفارتی سرگرمی متعدد سمتوں سے جاری ہے۔
یہ دورہ کیوں اہم ہے
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب خطے میں جنگ کے بادل ایک بار پھر گہرے ہو رہے ہیں — امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی اسرائیل میں خفیہ ملاقات اور ٹرمپ کی ایران کو “جلد از جلد ختم کرنے” کی دھمکیوں کے بعد، عاصم منیر کا تہران جانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک نازک توازن کی آزمائش ہے۔ اگر اسلام آباد مذاکرات کی میز دوبارہ بچھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف علاقائی امن بلکہ پاکستان کی سفارتی حیثیت کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ اور اگر ناکام رہا، تو خطے میں تناؤ کی سطح اگلے چند ہفتوں میں طے ہو سکتی ہے۔
متعلقہ خبریں:
مزید پڑھیں: پیٹ ہیگستھ کی اسرائیل میں خفیہ ملاقات: نیتن یاہو سے اووڈا ایئربیس پر بیٹھک
مزید پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کی تصدیق: پاکستانی فوج دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود

قارئین کے تبصرے (0)