بارسلونا میں جاری یورپ کے سب سے بڑے معدے و آنتوں کے امراض کے اجلاس UEG Week 2026 میں پیش کی گئی ایک نئی سویڈش تحقیق نے والدین کو خبردار کیا ہے: بچپن سے لے کر جوانی تک بار بار اینٹی بایوٹک لینے والے بچوں میں 24 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آنتوں کی ایک مستقل اور تکلیف دہ بیماری — ارٹیبل باؤل سنڈروم (IBS) — کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اور یہ خطرہ اتنا ہی بڑھتا ہے جتنی زیادہ بار دوا لی گئی ہو۔
یہ تحقیق کیا کہتی ہے؟
سویڈن کے مشہور BAMSE برتھ کوہورٹ کے 2,853 افراد کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا گیا۔ ان کے اینٹی بایوٹک کے نسخوں کا ڈیٹا سویڈن کے قومی ادویات رجسٹر سے لیا گیا — 2005 سے، جب یہ بچے 9 سے 11 سال کے تھے، اور 24 سال کی عمر میں IBS کی جانچ سے ایک سال پہلے تک۔ 24 سال کی عمر میں ان میں سے 10 فیصد کو IBS کی تشخیص ہوئی۔
خطرہ کتنا زیادہ نکلا؟
جنسی اور خاندانی معاشی حیثیت جیسے عوامل کو حساب میں لینے کے بعد بھی نتیجہ واضح رہا: جنہوں نے کبھی کوئی اینٹی بایوٹک لی تھی، ان میں IBS کے امکانات 1.5 گنا زیادہ تھے۔ اور خوراک کے ساتھ خطرہ بھی بڑھتا گیا — ایک یا دو نسخوں پر 1.3 گنا، تین سے پانچ نسخوں پر 1.6 گنا، اور چھ یا اس سے زیادہ نسخوں پر 1.7 گنا۔
کون سی اینٹی بایوٹک زیادہ خطرناک نکلی؟
مختلف اقسام کا الگ تجزیہ بھی دلچسپ تھا۔ ٹیٹرا سائیکلین گروپ کی کوئی بھی اینٹی بایوٹک لینے سے IBS کے امکانات 1.4 گنا بڑھے، جبکہ سیفالو اسپورن گروپ کے تین یا زیادہ نسخے لینے والوں میں یہ خطرہ 6 گنا تک پہنچ گیا۔ البتہ محققین نے اس آخری عدد کے ساتھ احتیاط کا مشورہ بھی دیا ہے کیونکہ اس گروپ کے مریضوں کی تعداد کم تھی، اس لیے اندازے کی حد کافی وسیع ہے۔
کیا اس کا مطلب ہے کہ اینٹی بایوٹک لینا ہی چھوڑ دیں؟
ہرگز نہیں — اور یہی اس تحقیق کی سب سے اہم ہدایت ہے۔ سربراہ محقق ڈاکٹر جیسیکا شیولنڈ کا کہنا ہے: “اینٹی بایوٹک بیکٹیریا کے انفیکشن کا اہم علاج ہیں، اور ہماری تحقیق کو ان کے استعمال سے روکنے کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ بار بار کے استعمال کے طویل مدتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں، اسی لیے غیر ضروری نسخوں سے گریز کی ایک اور وجہ سامنے آئی ہے۔”
محققین کے مطابق ایک ممکنہ وجہ آنتوں کا مائیکرو بایوم ہو سکتا ہے — وہ اربوں جراثیم جو ہماری آنتوں میں رہتے ہیں۔ ڈاکٹر شیولنڈ بتاتی ہیں کہ پہلے کی تحقیقات سے معلوم ہو چکا ہے کہ اینٹی بایوٹک اس مائیکرو بایوم کو بدل دیتی ہے، اور مائیکرو بایوم کی یہی تبدیلی IBS میں کردار ادا کرتی سمجھی جاتی ہے۔ تاہم یہ تحقیق وجہ اور اثر کا حتمی ثبوت نہیں دیتی، صرف ایک مضبوط تعلق ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان کے والدین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
یہیں یہ خبر ہم سب کے گھر کی خبر بن جاتی ہے۔ پاکستان میں اینٹی بایوٹک اکثر ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر بھی مل جاتی ہے، اور بچے کو ہلکا بخار یا نزلہ ہو تو بہت سے والدین خود ہی پرانی بچی ہوئی دوا دے دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ اینٹی بایوٹک صرف بیکٹیریا کو مارتی ہے — فلو، خسرے یا ڈینگی جیسے وائرل انفیکشن میں یہ بالکل بے اثر ہے، مگر اس کے مضر اثرات پھر بھی جسم کو بھگتنے پڑتے ہیں۔
عملی سبق تین نکات میں سمٹتا ہے: پہلا، بچے کو اینٹی بایوٹک صرف ڈاکٹر کے کہنے پر دیں، خود تجویز نہ کریں۔ دوسرا، ڈاکٹر نے جو مکمل کورس لکھا ہے اسے پورا کریں، بہتری محسوس ہوتے ہی دوا بند نہ کریں۔ تیسرا، وائرل بیماری میں اینٹی بایوٹک کا مطالبہ نہ کریں — اچھا ڈاکٹر وہی ہے جو ضرورت کے بغیر نسخہ نہ لکھے۔ یہ طبی مشورہ نہیں، عام احتیاط ہے؛ کسی بھی دوا کا فیصلہ ہمیشہ اپنے ڈاکٹر سے کریں۔
تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے — یہ ایک کانفرنس میں پیش کی گئی ہے اور اس کی مکمل اشاعت اور مزید تصدیق باقی ہے۔ مگر اس کا رخ واضح ہے: اینٹی بایوٹک قیمتی ہتھیار ہے، اور قیمتی ہتھیار احتیاط سے چلائے جاتے ہیں، ہر موقع پر نہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)