سوال: خبر کیا ہے؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر کے پہلے نو دنوں (یکم سے 9 اکتوبر) میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے سرکاری بانڈز میں 188 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ان میں سے 78 ملین ڈالر ٹریژری بلز میں اور 110 ملین ڈالر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) میں لگائے گئے۔ یہ اعداد و شمار 18 اکتوبر کو سامنے آئے اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک سے پاکستان کے قرضاتی کاغذات میں دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
سوال: ٹریژری بل اور پی آئی بی کیا ہیں؟
سادہ الفاظ میں یہ حکومت کا قرض لینے کا طریقہ ہے۔ جب حکومت کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ یہ کاغذات بیچتی ہے اور خریدار کو طے شدہ منافع دیتی ہے۔ ٹریژری بل قلیل مدتی ہوتے ہیں — چند ماہ سے ایک سال تک — جبکہ پی آئی بی طویل مدتی ہوتے ہیں، جن کی مدت کئی سال پر محیط ہوتی ہے۔ انہیں “محفوظ” سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کی ضمانت خود حکومت دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار سرمایہ کاروں نے طویل مدتی پی آئی بیز کو ترجیح دی ہے، جبکہ ماضی میں بیرونی پیسہ زیادہ تر قلیل مدتی ٹریژری بلز تک محدود رہتا تھا۔
سوال: یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟
تقریباً سارا پیسہ خلیج سے آرہا ہے۔ متحدہ عرب امارات سب سے بڑا سرمایہ کار ہے — اس نے نو دنوں میں 130 ملین ڈالر لگائے، جن میں 80 ملین ڈالر پی آئی بیز اور 50 ملین ڈالر ٹریژری بلز میں ہیں۔ بحرین نے 40 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی (30 ملین پی آئی بیز، 10 ملین ٹریژری بلز)۔ دونوں ممالک مل کر 170 ملین ڈالر بنتے ہیں، یعنی کل رقم کا 90 فیصد سے زائد۔ رواں مالی سال کے آغاز (یکم جولائی) سے اب تک سرکاری سیکیورٹیز میں غیر ملکی سرمایہ کاری 656 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جن میں 404 ملین ڈالر پی آئی بیز اور 252 ملین ڈالر ٹریژری بلز میں ہیں۔ اسی نو روزہ مدت میں 38.16 ملین ڈالر واپس بھی نکلے، مگر آنے والی رقم اس سے کہیں زیادہ ہے۔
سوال: خلیجی سرمایہ کار پاکستان کی طرف کیوں آرہے ہیں؟
سب سے بڑی وجہ منافع کا فرق ہے۔ پاکستان میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے اور سرکاری بانڈز پر منافع تقریباً 12 سے 12.5 فیصد مل رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے سرکاری بانڈز پر یہ شرح صرف ساڑھے چار سے پانچ فیصد ہے۔ یعنی ایک ہی طرح کی محفوظ سرمایہ کاری پر پاکستان میں دگنے سے بھی زیادہ منافع ملتا ہے۔
دوسری وجہ خطے کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ جاری جنگ کے باعث دبئی کی اسٹاک مارکیٹ 9.2 فیصد اور ابوظہبی کی 4.2 فیصد گر چکی ہے، اور جائیداد کی قیمتیں بھی گری ہیں — ایسے میں خلیج میں بیٹھے سرمایہ کاروں کے پاس پیسہ لگانے کی جگہیں کم ہو گئی ہیں۔ سنگاپور کی سرمایہ کاری مشاورتی کمپنی میریکس گلوبل کے چیف ایگزیکٹو محمد احمد نے اس رجحان کی وضاحت ان الفاظ میں کی: “پاکستان خلیج کے قریب ہے مگر جنگ کی زد سے باہر، یہ ایک مانوس منڈی ہے جہاں متحدہ عرب امارات میں بڑی پاکستانی آبادی موجود ہے، اور یہ مستحکم کرنسی کے ساتھ بلند منافع دے رہا ہے۔”
ڈان سے بات کرنے والے ماہرین کی بھی دو رائے ہیں: کچھ کا خیال ہے کہ خلیج میں مقیم پاکستانی اپنے نقد اثاثوں کا کچھ حصہ بلند منافع والی محفوظ سرکاری سیکیورٹیز میں منتقل کر رہے ہیں، جبکہ دوسروں کے مطابق علاقائی کشیدگی کے ماحول میں ٹی بلز اور پی آئی بیز پر ملنے والا منافع تیزی سے پرکشش ہوتا جا رہا ہے۔
سوال: پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہے؟
ہر ڈالر کی آمد پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے۔ یہ رقم زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہے اور حکومت کے لیے ڈالر کا ایک اور ذریعہ کھولتی ہے — خاص طور پر ایسے وقت میں جب برآمدات کی رفتار سست ہے اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ مالی سال 26 میں پاکستان کو ریکارڈ 41.5 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، اور بانڈز میں آنے والا یہ پیسہ اس کے ساتھ ایک اضافی سہارا بن سکتا ہے۔
سوال: اس میں خطرہ کیا ہے؟
یہاں ایک ایماندارانہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے: یہ “گرم پیسہ” ہے، فیکٹریوں والی سرمایہ کاری نہیں۔ بانڈز میں لگا پیسہ اتنی ہی تیزی سے نکل بھی سکتا ہے جتنی تیزی سے آیا ہے — اگر روپے کی قدر گرے، شرح سود کم ہو، یا عالمی حالات بدلیں تو یہی سرمایہ کار واپسی کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) نہیں جو کارخانے لگائے اور روزگار پیدا کرے؛ یہ قرض ہے جس پر حکومت کو منافع دینا ہے۔ اس لیے اس رجحان کو خوش آئند تو کہا جا سکتا ہے، مگر اس پر مکمل انحصار خطرناک ہوگا۔
اگلے چند ہفتوں کے اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار بتائیں گے کہ یہ رجحان برقرار رہتا ہے یا صرف اکتوبر کی شروعات کا ایک جھٹکا تھا۔ اگر خلیجی پیسہ اسی رفتار سے آتا رہا تو پاکستان کے پاس زرمبادلہ کا ایک نیا اور مستحکم ذریعہ ہاتھ آ سکتا ہے — بشرطیکہ معیشت کے بنیادی اشاریے بھی ساتھ دیں۔

قارئین کے تبصرے (0)