کبھی کبھی ایک چھوٹی سی خبر بڑی کہانی سناتی ہے۔ بدھ کو انٹربینک میں روپے نے ڈالر کے مقابل مسلسل 255ویں سیشن میں کامیابی حاصل کی — صرف 3.31 پیسے کی بہتری، مگر اس کے پیچھے معیشت کے بیرونی محاذ پر بدلتا ہوا اعتماد چھپا ہے۔ یہ وہ استحکام ہے جو برسوں کی بے یقینی کے بعد اب معمول بنتا جا رہا ہے۔
7 اکتوبر کو انٹربینک میں ڈالر 277.02 روپے پر بند ہوا، جبکہ منگل کو اس کی بندش 277.05 روپے تھی۔ دن کے دوران ڈالر 277.10 سے 277.00 روپے کے درمیان ٹریڈ ہوا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 277.25 روپے خرید اور 280.10 روپے فروخت پر رہا۔ روپے نے یورو کے مقابل 1.33 روپے بہتری کے ساتھ 310.10، پاؤنڈ کے مقابل 366.76 اور سوئس فرانک کے مقابل 332.44 روپے پر بندش کی۔ جاری مالی سال میں اب تک روپے کی قدر میں 1.14 روپے (0.41 فیصد) اور رواں کیلنڈر سال میں 3.10 روپے (1.12 فیصد) کا اضافہ ہو چکا ہے۔ چھ ماہ کی کائبور شرح ایک بیسس پوائنٹ کمی کے ساتھ 12.13 اور 12.38 فیصد رہی۔
اسی روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی ہلکی مثبت رفتار دیکھی گئی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 120.30 پوائنٹس (0.07 فیصد) اضافے سے 168,580.41 پر بند ہوا۔ دن کے دوران انڈیکس 169,271.98 کی بلند اور 168,065.86 کی کم ترین سطح کو چھوا۔ مجموعی طور پر 586.86 ملین حصص کا کاروبار ہوا جن کی مالیت 22.37 ارب روپے رہی۔ یونائیٹڈ بینک، سسٹمز لمیٹڈ، پی ایس او، پی ٹی سی ایل اور کے الیکٹرک نے انڈیکس کو سہارا دیا، جبکہ ماری انرجیز، میزان بینک اور لکی سیمنٹ دباؤ میں رہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے علی نجیب کے مطابق یہ “کنسولیڈیشن” کا سیشن تھا — 169,000 کی سطح کے قریب منافع کی بکنگ نے ابتدائی تیزی ختم کر دی۔ جے ایس گلوبل کے نواز علی نے کہا کہ نچلی سطح پر آئل اینڈ گیس اور ریفائنری حصص میں خریداری نے انڈیکس کو مثبت رکھا۔ یاد رہے کہ منگل کو انڈیکس 2,593 پوائنٹس کی بڑی چھلانگ لگا چکا تھا، جس کے پیچھے آئی ایم ایف جائزہ مذاکرات کے مثبت اختتام کی توقعات تھیں۔
اس بہتری کی بنیادیں کیا ہیں؟
سب سے بڑا سہارا تارکین وطن کی ترسیلات زر ہیں — جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 9.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت سے 8.4 فیصد زیادہ ہے، جبکہ صرف ستمبر میں 3.2 ارب ڈالر آئے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 3 اکتوبر تک 14.42 ارب ڈالر تک پہنچ گئے — ستمبر کے آخر میں 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کے باوجود 2 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق ذخائر اب فروری 2023 کی سطح سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہیں۔ بی ایم آئی (فچ سلوشنز) نے بھی روپے کے حوالے سے اپنی پیش گوئی بہتر کرتے ہوئے 2026 کے آخر تک ڈالر کا تخمینہ 288 سے کم کر کے 278 روپے کر دیا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟
مستحکم روپیہ صرف ایکسچینج ریٹ کی خبر نہیں — یہ مہنگائی اور درآمدی لاگت پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ مستحکم روپیہ مطلب متوقع درآمدی بل، اور متوقع درآمدی بل مطلب کاروباری منصوبہ بندی میں آسانی۔ ترسیلات، ذخائر اور آئی ایم ایف پروگرام — یہ تینوں مل کر اعتماد کا ایک چکر بناتے ہیں: اعتماد سے سرمایہ آتا ہے، سرمایے سے ذخائر بڑھتے ہیں، اور ذخائر سے روپیہ مستحکم رہتا ہے۔ یہی چکر اس وقت پاکستان کی معیشت کو چلا رہا ہے۔
خطرات کیا ہیں؟
مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ یہ “جیت” روزانہ چند پیسوں کی ہے — برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کسی بھی وقت درآمدی بل بڑھا سکتی ہے۔ بی ایم آئی خود 2027 کے آخر تک ڈالر کو 292 روپے تک جاتا دیکھ رہا ہے، کیونکہ برآمدی مسابقت اور تجارتی خسارے کا دباؤ بڑھے گا۔ اگلے چند ہفتوں میں آئی ایم ایف جائزے کا حتمی نتیجہ، تیل کی قیمتیں اور ترسیلات کی رفتار طے کریں گے کہ یہ سلسلہ 256ویں اور 260ویں سیشن تک جاتا ہے یا کہیں رک جاتا ہے۔
روپے کی یہ خاموش جیت شور نہیں مچاتی، مگر معیشت کے لیے اس کی اہمیت کسی بڑی خبر سے کم نہیں — بشرطیکہ اس کے پیچھے کھڑے عوامل قائم رہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)