پیر 19 اکتوبر — آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے شہر ونگاریٹا میں آزاد رکنِ پارلیمان ڈاکٹر ہیلن ہینز پر پیر کی سہ پہر ان کے انتخابی دفتر کے باہر ایک مبینہ ہدفی حملے میں گاڑی چڑھا دی گئی۔ 65 سالہ ہینز شدید زخمی ہوئیں اور اس وقت اسپتال میں نازک حالت میں ہیں۔ پولیس نے ایک 43 سالہ مشتبہ شخص کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا ہے، اور واقعے کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی کے زاویے سے کی جا رہی ہیں۔
عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق ہینز اس وقت اپنی گاڑی کی ڈکی سے سامان نکال رہی تھیں جب ایک سفید ٹویوٹا لینڈ کروزر نے انہیں ٹکر ماری۔ بعض شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈرائیور پہلے پارکنگ سے گزر کر آگے چلا گیا، پھر گاڑی واپس موڑ کر انہیں کچل دیا۔ وہاں موجود ایک مقامی شخص نے مشتبہ ڈرائیور کو گاڑی سے کھینچ کر قابو کیا؛ تلاشی پر اس کی گاڑی سے ایک چاقو بھی برآمد ہوا۔ زخمی رکنِ پارلیمان کو “جسم کے نچلے حصے میں شدید زخموں” کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے پیر کی شام پریس کانفرنس میں حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “سنگین واقعہ” قرار دیا اور کہا کہ بڑی پولیس تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ان کے الفاظ تھے: “ہماری تمام دعائیں اس وقت ہیلن، ان کے خاندان، ان کے دوستوں، عملے اور ان کی کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔ ہم ان کی مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔” البانیز نے بتایا کہ آسٹریلین فیڈرل پولیس، وکٹوریہ پولیس اور خفیہ ادارہ ایسیو مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں اور جوائنٹ کاؤنٹر ٹیررازم ٹیم کو متحرک کر دیا گیا ہے — تاہم حملے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی۔ وکٹوریہ پولیس کے قائم مقام سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ عوام کے لیے مزید کوئی خطرہ نہیں۔
ہینز کے خاندان نے جاری کردہ بیان میں کہا: “آج سہ پہر ہماری پیاری ہیلن ونگاریٹا کے انتخابی دفتر کے باہر ایک واقعے کا شکار ہوئیں اور اس وقت زیرِ علاج ہیں۔ ہم راہگیروں کی فوری مدد، طبی عملے کی لگن اور پولیس کے ردعمل کے شکرگزار ہیں۔” خاندان نے رازداری کا احترام کرنے کی درخواست کی ہے۔ ڈاکٹر ہیلن ہینز 2019 سے دیہی وکٹوریہ کے حلقہ انڈی کی آزاد رکنِ پارلیمان ہیں (ان کی سرکاری ویب سائٹ helenhaines.org پر ان کا پروفائل دیکھا جا سکتا ہے)؛ پیشے سے نرس اور مڈوائف رہ چکیں اور سیاست میں شفافیت و احتساب کے پلیٹ فارم پر ملک گیر شہرت پائیں۔ وہ پارلیمنٹ کی قومی انسدادِ بدعنوانی کمیشن کی مشترکہ کمیٹی کی نائب سربراہ بھی ہیں۔
ہینز کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق وہ تقریباً چالیس برس سے انڈی کے علاقے میں مقیم ہیں؛ ان کے شوہر کے ساتھ ایک چھوٹا فارم ہے اور ان کے بچے یہیں پلے بڑھے۔ سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے نرس، مڈوائف اور صحت کی محقق کے طور پر کام کیا — یہی تجربہ ان کی انتخابی مہم کا بنیادی اثاثہ رہا کہ وہ “پارٹی کی بجائے انڈی” کے لیے ووٹ دیتی ہیں۔
تجزیہ — مغربی جمہوریتوں میں منتخب نمائندوں پر حملے کو محض کوئی جرائم پیشہ واقعہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ سیاسی نظام پر براہِ راست حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے چند گھنٹوں کے اندر آسٹریلیا کی تین ایجنسیاں اور انسدادِ دہشت گردی ٹیم متحرک ہو گئیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں بھی ماضی میں سیاستدانوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، اور ہر بار ایسے واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ عوامی عہدے داروں کی سلامتی کے انتظامات کہاں ناکام ہوتے ہیں۔ ہینز آزاد سیاستدان ہیں — کسی پارٹی کے حصار کے بغیر اپنی کمیونٹی میں کھلے عام گھومنا ان کے طرزِ سیاست کا حصہ تھا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ حملہ کسی ذاتی عناد کا نتیجہ تھا یا وسیع تر انتہا پسندی کا — پولیس کا اگلا بیان اس رخ کو واضح کرے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)