اتوار 18 اکتوبر کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سلمان علی آغا نے 90 گیندوں پر 107 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستان کو سہ ملکی سیریز کے افتتاحی میچ میں سری لنکا کے خلاف 37 رنز سے فتح دلوا دی — اور ساتھ ہی محمد یوسف کا ایک دیرینہ ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔ صرف دو ماہ پہلے ٹیم سے باہر کیے گئے کھلاڑی کی یہ واپسی محض ایک سینچری نہیں، ایک بیان ہے۔
اگست 2026 — انگلینڈ سے واپسی: دورۂ انگلینڈ کے پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے سلمان علی آغا کو تیسرے ٹیسٹ سے پہلے ہی گھر واپس بھیج دیا گیا۔ یہیں بس نہیں، ان سے ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی بھی واپس لے لی گئی۔ 32 سالہ کھلاڑی کے کیریئر پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔
اگست–ستمبر — ڈومیسٹک کرکٹ کا راستہ: سلیکٹرز کے فیصلے پر بیان بازی کے بجائے آغا نے ڈومیسٹک کرکٹ کا رخ کیا۔ ان کے اپنے الفاظ میں، انہوں نے سوچا کہ “ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس جا کر اپنی کارکردگی سے چیزیں درست کروں گا۔” دو ماہ کی خاموش محنت کے بعد انہیں ون ڈے اسکواڈ میں واپسی کا موقع ملا۔
18 اکتوبر — راولپنڈی، میچ ڈے: سری لنکا کے کپتان کوسل مینڈس نے مسلسل چوتھا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کی شروعات لڑکھڑا گئی — فخر زمان 16 اور صائم ایوب 7 رنز بنا کر 32 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے۔ بابر اعظم (45) اور سعد بیگ (39) نے 118 تک ٹیم کو سنبھالا، مگر چوتھی وکٹ گرنے پر دباؤ پھر بڑھنے لگا تھا۔
اننگز کی تعمیر: نمبر 5 پر آنے والے آغا نے پہلے حسن نواز (37) کے ساتھ پانچویں وکٹ پر 97 رنز کی شراکت قائم کی، پھر عرفات منہاس (18) کے ساتھ چھٹی وکٹ پر 64 رنز جوڑے۔ اسیتھا فرنینڈو پر لگاتار دو چوکے لگا کر انہوں نے اپنے کیریئر کی چوتھی ون ڈے سینچری مکمل کی — 10 چوکوں اور ایک چھکے سے سجی 107 رنز کی اننگز۔ پاکستان 49.5 اوورز میں 305 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوا۔
سری لنکا کا جواب اور پاکستانی باؤلنگ کا پلٹ وار: 306 رنز کے تعاقب میں پون رتھنائیکے (79) اور جنیتھ لیانگے (60) نے پانچویں وکٹ پر 119 رنز کی شراکت سے میچ دلچسپ بنا دیا، کامنڈو مینڈس نے بھی 44 رنز بنائے۔ مگر کپتان شاہین شاہ آفریدی (3 وکٹیں، 55 رنز) کی قیادت میں پاکستانی باؤلنگ نے آخری 5 وکٹیں محض 15 رنز پر گرا دیں — سری لنکا 48.1 اوورز میں 268 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ ایشن ملنگا کی 4 وکٹیں (46 رنز) بھی مہمان ٹیم کے کام نہ آ سکیں۔
ریکارڈ بک میں نیا نام: یہ آغا کی 54 ون ڈے میچوں میں چوتھی سینچری تھی — اور چاروں انہوں نے نمبر 5 یا اس سے نیچے بیٹنگ کرتے ہوئے بنائیں۔ اس طرح وہ پاکستان کی طرف سے اس پوزیشن پر سب سے زیادہ ون ڈے سینچریاں بنانے والے بلے باز بن گئے، محمد یوسف کو پیچھے چھوڑ کر۔ عالمی سطح پر یہ اعزاز مشترکہ طور پر انگلینڈ کے جوس بٹلر اور جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ملر کے پاس ہے۔
میچ کے بعد آغا نے اپنی حکمت عملی بھی بتائی: “میری کوشش تھی کہ گیند کو خالی جگہوں میں کھیل کر اسٹرائیک روٹیٹ کروں تاکہ ہم ٹیم کو 300 سے آگے لے جا سکیں، اسی لیے آخر میں ہم نے جارحانہ بیٹنگ کی۔” یہ جملہ ان کی پوری اننگز کا خلاصہ ہے — پہلے صبر، پھر وار۔
یہ اننگز صرف ایک میچ کی جیت سے کہیں بڑی ہے۔ پاکستان کا مڈل آرڈر برسوں سے غیر یقینی کا شکار رہا ہے، اور نمبر 5 کی پوزیشن پر مستقل مزاجی ایک دیرینہ خواب تھی۔ آغا نے سلیکٹرز کے فیصلے کا جواب پریس کانفرنسوں میں نہیں، بلے سے دیا — اور ٹیم مینجمنٹ کا ان پر دوبارہ اعتماد کرنا درست ثابت ہوا۔ افتتاحی میچ میں گلابی شرٹ پہن کر میدان میں اتری ٹیم کے لیے یہ جیت ورلڈ کپ 2027 (جنوبی افریقہ) کی تیاری کا اعتماد افزا آغاز بھی ہے، جو اب ایک سال سے بھی کم وقت کی دوری پر ہے۔
ڈومیسٹک کرکٹ کے ذریعے واپسی کا یہ راستہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک مثال ہے — ٹیم سے باہر ہونا کیریئر کا خاتمہ نہیں ہوتا، اگر جواب کارکردگی سے دیا جائے۔ سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں نوجوان ٹیم کی کامیابی کے بعد اب ون ڈے میں بھی تجربے اور جوش کا امتزاج نظر آنے لگا ہے۔ منگل 20 اکتوبر کو راولپنڈی میں ہی انگلینڈ کے خلاف میچ میں دیکھنا ہوگا کہ یہ فارم برقرار رہتی ہے یا نہیں — مڈل آرڈر کی یہ نئی امید اب امتحان کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)