بالی وڈ کی آنے والی فلم ‘ادتا تیر’ ریلیز سے ایک ہفتہ پہلے ہی تنازع میں گھر گئی ہے — نیپال نے اس کی نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پابندی کی وجہ فلم کا وہی کردار ہے جس کے گرد پوری کہانی گھومتی ہے: ایک پاکستانی جاسوس۔ پورا معاملہ سوال جواب میں سمجھیے۔
سوال: نیپال میں ہوا کیا؟
نیپال کی وزارت مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 16 اکتوبر 2026 کو ایک سرکاری خط کے ذریعے ‘ادتا تیر’ کی پبلک اسکریننگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یہ خط وزارت کے سیکشن آفیسر بشال بھنڈاری کی جانب سے جاری ہوا اور نیپال میں فلم کے مقامی ڈسٹری بیوٹر نیشنل سنے گروپ کو بھیجا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ فلم کا موضوع فلم (پروڈکشن، ایگزیبیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن) ایکٹ 2026 بی ایس کے تحت ممنوعہ موضوعات میں آتا ہے۔
سوال: ‘ادتا تیر’ ہے کیا؟
یہ ایک جاسوسی کامیڈی ہے جس میں ایوشمن کھرانہ بلال احمد نامی ایک پاکستانی جاسوس کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو ایک مشن کے دوران یادداشت کھو بیٹھتا ہے اور خود کو بھارت کا کٹر محب وطن سمجھنے لگتا ہے۔ اسی غلط فہمی سے فلم کی پوری کہانی جنم لیتی ہے۔ سارہ علی خان مرکزی اداکارہ ہیں، جبکہ مرحوم مکول دیو کی یہ آخری فلم ہے — ان کے ساتھ راہول بوس، رام کپور، سہیل نیر، گلشن گروور اور رگھوبیر یادو بھی شامل ہیں۔ فلم اکاش اے کوشک نے لکھی اور ہدایت کی ہے (یہ ان کی پہلی ہدایت کاری ہے)، اور پروڈیوسرز میں کرن جوہر، ادر پوناوالا اور اپوروا مہتا (دھرما پروڈکشنز) کے ساتھ گونیت مونگا کپور اور اچن جین (سکھیا انٹرٹینمنٹ) شامل ہیں۔ فلم 23 اکتوبر کو سینما گھروں میں آ رہی ہے — پہلے یہ 9 اکتوبر کو ریلیز ہونا تھی مگر بھیڑ بھرے کیلنڈر کی وجہ سے تاریخ آگے بڑھا دی گئی۔
سوال: پاکستان کا تعلق کہاں سے آیا؟
یہیں سے کہانی پاکستانی ناظرین کے لیے دلچسپ ہو جاتی ہے۔ فلم کا ہیرو ہی ایک پاکستانی ہے — بلال احمد۔ ایوشمن کھرانہ خود اپنے کردار کے بارے میں کہہ چکے ہیں: “فلم میں میں ایک پاکستانی جاسوس کا کردار ادا کرتا ہوں جو یادداشت کھو دیتا ہے؛ حب الوطنی کا جذبہ تو باقی رہتا ہے مگر وہ بھول جاتا ہے کہ اس کا تعلق کس ملک سے ہے، اسی لیے وہ بھارت کی حمایت کرنے لگتا ہے۔” یعنی جس کردار پر فلم کی بنیاد ہے، وہی کردار نیپال میں اس کی نمائش کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔
سوال: نیپال نے پابندی کی کیا وجہ بتائی؟
نیپال کے سنسر بورڈ کی دیرینہ پالیسی ہے کہ ایسی فلموں کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاتی جن میں ہمسایہ یا دوست ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہو — تاکہ درآمد شدہ مواد نیپال کے سفارتی تعلقات کو نقصان نہ پہنچائے۔ نیپالی ذرائع کے مطابق بورڈ نے فلم کا جائزہ لینے کے بعد اسے “پاکستان مخالف موضوعات اور جیو پولیٹیکل تبصرے” والی قرار دیا۔ بالی وڈ ہنگامہ کے مطابق وزارت کے پاس اس فیصلے کا باقاعدہ تحریری حکم موجود ہے۔
سوال: کیا یہ پہلی بار ہوا ہے؟
نہیں۔ حالیہ عرصے میں دھرندر، بارڈر 2، فائٹر، اسکائی فورس، آرٹیکل 370 اور ٹائیگر 3 سمیت کئی ہندی فلمیں مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں ریلیز کی اجازت سے محروم رہ چکی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ نیپال جیسے قریبی ہمسائے کی جانب سے پابندی کم دیکھنے میں آتی ہے — اور یہاں وجہ بھی واضح طور پر فلم کا مواد بتایا گیا ہے، نہ کہ کوئی تکنیکی اعتراض۔
سوال: اب فلم کا کیا بنے گا؟
فلم کی 23 اکتوبر کی ریلیز پر اس پابندی کا براہ راست اثر نہیں پڑے گا — نیپال بھارتی فلموں کے لیے بڑی منڈی نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پابندی کی خبر کے ٹھیک دو دن بعد، 18 اکتوبر کو دھرما پروڈکشنز نے فلم کے پانچ گانوں کا مکمل البم جاری کر دیا (چوزے، چن، بھوتنی کا، ادتا تیر اور جے ہند) — یعنی تشہیری مہم پوری رفتار سے جاری ہے۔ دھرما کی جانب سے نیپال کے فیصلے پر تاحال کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اس پورے معاملے میں ایک ستم ظریفی چھپی ہے جو نظر انداز نہیں کی جا سکتی: ایک ایسی کامیڈی جس کا ہیرو بھول جاتا ہے کہ وہ کس ملک کا ہے، حقیقی دنیا کی سرحدوں سے ٹکرا گئی۔ سنیما جب سفارت کاری کے میدان میں اترتا ہے تو ہنسی کے پردے میں چھپے پیغامات بھی ریاستوں کو دکھائی دینے لگتے ہیں۔ پاکستانی فلم ‘وکھری’ کی عالمی اسکرین پر آمد جیسی خبریں جہاں سنیما کو پلوں سے تشبیہ دیتی ہیں، وہیں یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ فلمیں دیواریں بھی کھڑی کر سکتی ہیں — ہالی وڈ لیجنڈ ایوا میری سینٹ کے دور سے آج تک، سنیما اور سیاست کا رشتہ کبھی سادہ نہیں رہا۔
23 اکتوبر کو جب فلم پردے پر آئے گی تو باکس آفس بتائے گا کہ اس تنازع نے اسے نقصان پہنچایا یا مفت کی تشہیر کر دی — بالی وڈ میں پابندیوں اور تنازعوں کا ٹکٹ کھڑکی پر اکثر الٹا بھی اثر پڑتا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)