نور ملک ایک بیوہ اسکول ٹیچر ہے۔ اس کی زندگی معمول کی ڈگر پر چل رہی ہے — یہاں تک کہ ایک دن وہ سوشل میڈیا پر راتوں رات مشہور ہو جاتی ہے۔ شہرت کے ساتھ وہ طوفان بھی آتا ہے جس کا اس نے کبھی تصور نہ کیا تھا: معاشرتی دباؤ، صنفی عدم مساوات، اور آن لائن دنیا میں عورت کو درپیش چیلنجز۔ یہ ہے پاکستانی فلم “وکھری” کی کہانی — اور اب یہ کہانی برطانیہ کے ایک بڑے نشریاتی ادارے کے ساؤتھ ایشین فلم سیزن 2026 کا حصہ بننے جا رہی ہے۔
اس سیزن میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی 9 فلمیں شامل ہیں جن کا مقصد جنوبی ایشیائی سینما کو بین الاقوامی ناظرین سے متعارف کرانا ہے۔ “وکھری” کا انتخاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ خالصتاً پاکستانی کہانی ہے — اردو زبان میں، پاکستانی ہدایت کارہ ارم پروین بلال کی ہدایت میں، اور فریال محمود کی مرکزی اداکاری کے ساتھ۔ فلم کے پروڈیوسر عابد عزیز مرچنٹ ہیں۔
فلم کی کہانی 2016 میں قتل ہونے والی سوشل میڈیا انفلوئنسر قندیل بلوچ کی زندگی سے متاثر ہے۔ یہ محض ایک بایوپک نہیں بلکہ اس سوال کا فنی جواب ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک عورت کی آن لائن موجودگی سے اتنا خوفزدہ کیوں ہے۔
“وکھری” کا فلمی میلوں کا سفر پہلے ہی متاثر کن رہا ہے۔ اس کا ورلڈ پریمیئر دسمبر 2023 میں جدہ کے ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا، 2024 میں یہ پاکستان بھر میں ریلیز ہوئی، اور اس سے قبل لوکارنو، کانز اور بوسان جیسے معتبر میلوں میں بھی دکھائی جا چکی ہے۔
جیو ڈیجیٹل سے گفتگو میں پروڈیوسر عابد عزیز مرچنٹ نے کہا: “یہ انتخاب ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی کہانیاں دنیا بھر کے ناظرین سے جڑنے کی طاقت رکھتی ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ بین الاقوامی پذیرائی پوری ٹیم کے لیے اعزاز ہے، اور پاکستانی سینما کے ایک مشکل دور میں یہ خبر دیگر فلم سازوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ سیزن کی دیگر فلموں میں طبقاتی تقسیم، نسلی امتیاز، سیاسی تقسیم اور صنفی عدم مساوات جیسے موضوعات شامل ہیں۔
یہاں ایک تلخ حقیقت بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جس وقت “وکھری” عالمی میلوں میں پاکستان کا جھنڈا گاڑھ رہی ہے، اسی وقت ملک کے اندر سینما گھر ویران پڑے ہیں۔ مقامی فلمیں باکس آفس پر ہالی وڈ اور بالی وڈ کا مقابلہ نہیں کر پا رہیں، اور سرمایہ کار فلم سازی سے دور بھاگ رہے ہیں۔ ایسے میں “وکھری” جیسی فلموں کی بین الاقوامی کامیابی دوہرا پیغام دیتی ہے: ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے کہانی کار عالمی معیار کے ہیں، دوسری طرف یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب دنیا ہماری کہانیاں دیکھنا چاہتی ہے تو ہم اپنے ہی گھر میں انہیں ناظرین کیوں نہیں دے پا رہے۔ شاید اس کا جواب ڈسٹری بیوشن کے نظام، ٹکٹوں کی قیمتوں اور سینما کلچر کی بحالی میں ہے — اور یہ وہ بحث ہے جو اس خبر سے زیادہ اہم ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)