Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

کولکتہ درگا پوجا بھگدڑ: 19 افراد ہلاک، تھانہ انچارج ہٹا دیا گیا، 7 ملزم حراست میں

کولکتہ میں درگا پوجا کے ایک پنڈال کے باہر جمع ہزاروں افراد کا ہجوم

کولکتہ — بھارتی شہر کولکتہ میں درگا پوجا کے ایک پنڈال میں مچنے والی بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 19 تک پہنچ گئی ہے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 25 سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ سانحہ ہفتے کی رات سیتمی کے موقع پر شمالی کولکتہ کے چورباگن سربوجنین درگا پوجا پنڈال میں پیش آیا، جہاں ہزاروں عقیدتمند جمع تھے۔

درگا پوجا مغربی بنگال کا سب سے بڑا تہوار ہے اور کولکتہ کے پنڈالوں میں ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں۔ چورباگن سربوجنین پنڈال شہر کے پرانے اور مصروف علاقے میں واقع ہے، جہاں تنگ گلیوں کے باعث ہجوم کا انتظام ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق تنگ داخلی اور خارجی راستوں میں ہجوم کا دباؤ بڑھنے پر اچانک بھگدڑ مچ گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس موقع پر ہجوم کو سنبھالنے میں ناکام رہی اور حادثے کے بعد امدادی ٹیمیں بھی تاخیر سے پہنچیں۔ اس پر غمزدہ خاندانوں اور مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا۔

پیر کے روز ریاستی انتظامیہ نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے گریش پارک تھانے کے افسرِ انچارج سمیت کمار گھوش کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ان کی جگہ کولکتہ پولیس کے جاسوسی شعبے کے انسپکٹر ہیرک دلاپتی کو تھانے کا اضافی چارج سونپا گیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ تبدیلی “عوامی مفاد میں، اگلے احکام تک” کی گئی ہے۔

کولکتہ پولیس ہیڈکوارٹر لالبازار نے بھی شہر بھر کے تمام تھانوں کو گیارہ سخت ہدایات جاری کی ہیں اور درگا پوجا کے بقیہ دنوں میں ہجوم کے انتظام کی نگرانی کے لیے نو تجربہ کار آئی پی ایس افسران کی فوری تعیناتی کا حکم دیا ہے — واضح اشارہ کہ انتظامیہ کسی دوبارہ سانحے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔

اتوار کو بینکشال عدالت نے اس کیس میں گرفتار سات ملزمان — جن میں پنڈال کمیٹی کے دو عہدیدار بھی شامل ہیں — کو 28 اکتوبر تک دس روزہ پولیس حراست میں دے دیا۔ پولیس نے واقعے پر قتلِ خطا کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی ہے جو یہ جانچے گی کہ آیا پنڈال انتظامیہ نے ہجوم کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ انتظامات کیے تھے یا نہیں؛ گرفتار کمیٹی عہدیداروں سے انہی سوالات پر پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

مغربی بنگال کی ریاستی حکومت نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے اور پنڈالوں میں ہجوم کے انتظام کے سخت تر ضابطے نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

دوسری جانب مغربی بنگال فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے پیر کو جنوبی کولکتہ کی تین نمایاں پوجا کمیٹیوں — چیتلا اگرانی، بالی گنج کلچرل ایسوسی ایشن اور تریدھارا سمیلنی — کو آگ سے بچاؤ کے ناقص انتظامات پر نوٹس جاری کیے۔ معائنے میں ان پنڈالوں میں حفاظتی انتظامات کی خامیاں پائی گئیں۔ اتوار کو فائر حکام نے پنڈالوں کے قریب بغیر اجازت قائم عارضی دکانوں اور اسٹالوں کے فوری خاتمے کا حکم بھی دیا تھا؛ خاص طور پر انتہائی آتش گیر مواد سے بنے ڈھانچوں کے قریب ایل پی جی سلنڈروں کی موجودگی پر سنگین خدشات ظاہر کیے گئے، جبکہ پنڈالوں کے اندر مناسب روشنی اور ہوا کے اخراج پر بھی زور دیا گیا۔

یہ سانحہ کیوں اہم ہے: بھارت میں مذہبی تہواروں اور بڑے اجتماعات میں بھگدڑ سے ہونے والی اموات کوئی نئی بات نہیں — ماضی میں مندروں، میلوں اور اسٹیڈیموں میں درجنوں جانیں جا چکی ہیں۔ لیکن چورباگن سانحے کے بعد محض 48 گھنٹوں میں جو احتسابی سلسلہ چلا — تھانہ انچارج کی برطرفی، پنڈال کمیٹی کے عہدیداروں کی گرفتاری، عدالتی حراست، فائر نوٹس اور نو سینئر افسران کی تعیناتی — وہ اکثر سانحات میں نظر نہیں آتا۔ اصل امتحان اب یہ ہے کہ آیا یہ کارروائی ہجوم کے انتظام کے نظام میں دیرپا تبدیلی لائے گی، یا درگا پوجا ختم ہوتے ہی سب کچھ پرانے معمول پر لوٹ آئے گا۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے لیے بھی یہ ایک سبق ہے، جہاں محرم کے جلوسوں، مذہبی اجتماعات اور سیاسی جلسوں میں اسی طرح کے خطرات موجود ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *