Tuesday, 20 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا ایمرجنسی کیس کی سماعت شروع — “نہ جنگ ہے، نہ بیرونی جارحیت”

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان پارٹی قیادت کے ہمراہ

پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت منگل کو شروع ہو گئی۔ وفاقی حکومت کے گیارہ اکتوبر کے فیصلے کے خلاف سات آئینی درخواستیں ایک ہی بنچ کے سامنے سنی جا رہی ہیں۔ عدالت نے تاحال کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا۔

آج عدالت میں کیا ہوا؟

عدالت کی جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق جسٹس اعجاز انور (سینئر ترین جج) اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بنچ کے سامنے کل سات آئینی درخواستیں ہیں جن میں گیارہ اکتوبر کے صدارتی اعلان کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ مرکزی درخواست تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی ہے، جبکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، سردار اختر مینگل اور زین العابدین کی دو درخواستیں بھی شامل ہیں۔ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے محسن داوڑ اور بشرا گوہر، رکنِ قومی اسمبلی شاندانہ گلزار اور وکیل سلمان خان و قیصر علی شاہ کی درخواستیں بھی بنچ کے سامنے ہیں۔

بیرسٹر گوہر کی نئی استدعا کیا ہے؟

سماعت کے دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ بیرسٹر گوہر علی خان نے عدالت سے ترمیم شدہ درخواست دائر کرنے کی اجازت مانگی۔ ڈان کے مطابق وہ اپنی اصل درخواست میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاسوں کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی ان قراردادوں کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں جن کے ذریعے وفاقی حکومت کے اقدام کی توثیق کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقدمے کا دائرہ اب صرف گیارہ اکتوبر کے صدارتی اعلان تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پارلیمانی توثیق بھی عدالتی جانچ کے دائرے میں آ جائے گی — جو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے بعد حکومت کے موقف کا ایک اہم ستون تھی۔

درخواست گزاروں نے کیا دلائل دیے؟

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کے سامنے کہا کہ ایمرجنسی صرف جنگ یا بیرونی مداخلت کی صورت میں لگائی جا سکتی ہے۔ وکیل کے الفاظ میں: “یہاں نہ جنگ ہے، نہ بیرونی جارحیت۔” وکیل نے دلیل دی کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے اقدامات صوبائی حکومت کے اختیار میں تھے، اور ماضی میں جب دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، تب بھی ایمرجنسی نہیں لگائی گئی۔

وکیل نے آئین کے آرٹیکل 234 کی تشریح پر بھی زور دیا، کہ یہ شق تبھی لاگو ہو سکتی ہے جب صوبائی حکومت کام کرنا چھوڑ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی اور حکومت مسلسل کام کر رہے تھے، آئین کا کوئی ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوا، اس لیے گورنر راج کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

حکومت کا موقف کیا ہے؟

وفاقی حکومت گیارہ اکتوبر سے یہ کہہ رہی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے “جان بوجھ کر” کنارہ کش ہو گئی تھی، اس لیے یہ اقدام ضروری تھا۔ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اعلان پر دستخط کیے۔ اس کے بعد چودہ اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے ایمرجنسی کی منظوری دی اور پندرہ اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے دونوں اعلانات کی توثیق کر دی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی گیارہ رکنی ٹیکنوکریٹ مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبہ چلا رہے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام اقدامات آئینی تقاضے پورے کر کے اٹھائے گئے ہیں۔

یہ مقدمہ اتنا اہم کیوں ہے؟

اہم اس لیے ہے کہ یہ لڑائی اب پارلیمنٹ سے نکل کر عدالت کے میدان میں آ چکی ہے — اور مذاکرات کا راستہ پہلے ہی بند ہو چکا ہے، کیونکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے “غیر آئینی اقدامات” کا حوالہ دے کر مرکز سے بات چیت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر سمیر کھوسہ، سلمان اکرم راجہ، علی زمان، محمد یوسف اورکزئی اور بسم احمد صدیقی جیسے سینئر وکلا پیش ہو رہے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق اس مقدمے کو فیصلہ کن معرکہ سمجھ رہے ہیں۔ گورنر شپ پر سیاسی کشمکش پہلے ہی سیکیورٹی کے بیانیے کو سیاسی لڑائی میں بدل چکی ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

عدالت نے ابھی تک کوئی عبوری ریلیف نہیں دیا — درخواستیں صرف سماعت کے لیے مقرر ہوئی ہیں اور دلائل جاری ہیں۔ اگلے مرحلے میں عدالت وفاق سے جواب طلب کر سکتی ہے، اور پھر یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کے پیچھے “معروضی مواد” موجود تھا یا نہیں۔ اگر عدالت عبوری حکم دیتی ہے تو صوبے کی حکمرانی عارضی طور پر غیر یقینی صورتحال میں پھنس سکتی ہے؛ اگر حکومت کا موقف برقرار رہتا ہے تو ایمرجنسی مزید مضبوط ہو جائے گی۔ اور اگر بیرسٹر گوہر کو ترمیم شدہ درخواست کی اجازت مل جاتی ہے تو پارلیمانی توثیق کی قانونی حیثیت بھی اسی مقدمے میں جانچی جائے گی — یعنی یہ کیس صرف ایک صوبے کے انتظامی انتظام کا نہیں، وفاق اور صوبوں کے اختیارات کی حدود کا مقدمہ بنتا جا رہا ہے۔ سماعت سے قبل اٹھائے گئے پانچ اہم قانونی سوالات اب عدالت کے سامنے جواب کے منتظر ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *