امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں تعینات غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، اور اس نے خطے میں کشیدگی کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے کا امکان مزید واضح کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تین امریکی اہلکاروں نے بتایا کہ محکمہ خارجہ خلیجی خطے میں امریکی سفارتی تنصیبات سے بعض اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔ دو اہلکاروں کے مطابق اس کا تعلق لڑائی کے ممکنہ دوبارہ آغاز سے تھا، خاص طور پر یمن کی حوثی ملیشیا کے ساتھ، اور یہ اقدام سعودی عرب میں امریکی مشن کے تمام اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے انخلاء تک جا سکتا ہے۔ ریاض میں امریکی سفارتخانے نے بدھ کو سیکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا، جس میں سعودی عرب پر حوثیوں کے مزید ممکنہ حملوں سے خبردار کیا گیا۔
تاہم اس خبر کے چند گھنٹوں بعد محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگٹ نے وضاحت کی کہ ابتدائی رپورٹس “غلط” تھیں۔ ایکس پر جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ واپسی کا حکم صرف سعودی عرب تک محدود ہے، پورے خلیجی خطے تک نہیں۔ ان کے بقول یہ قدم حوثیوں کے ان حملوں کے بعد اٹھایا گیا جن میں شہری ہوائی اڈوں اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس سے جانی نقصان ہوا اور سفری نظام میں شدید خلل پیدا ہوا۔ ترجمان نے کہا: “The safety and security of Department personnel and their families remain our highest priority” — یعنی “محکمہ کے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔”
دوسری جانب ایک سفارتی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کے تمام امریکی عملے اور ان کے خاندانوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے، اور متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں بھی سفارتکاروں کے خاندانوں کو نکلنے کو کہا گیا ہے۔ ان ممالک کو رواں برس ایران کے ساتھ جنگ کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسی بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے ایک اور حملے کی تصدیق کی۔ وزارت کے بیان کے مطابق شیبہ آئل فیلڈ کی جانب بھیجے گئے ایک ڈرون کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا، لیکن گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری شامل ہے۔ وزارت نے بتایا کہ فیلڈ میں پیداواری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق بدھ کے روز چھ ڈرون تباہ کیے گئے۔
حوثی گروپ اس ماہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر سعودی عرب پر حملے کر رہا ہے۔ دس اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والا حملہ مملکت پر برسوں کا سب سے مہلک حملہ تھا، جس میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد گیارہ اکتوبر کو ایئرپورٹ کے ٹرمینل چار پر دھماکہ ہوا، ارامکو کے ہیڈکوارٹرز اور ینبو آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے خوف سے سعودی عرب کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کانفرنس “ڈاوس ان دی ڈیزرٹ” کو 2027 تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
سفارتی حلقوں میں “آرڈرڈ ڈیپارچر” کو کشیدگی کا سب سے سنگین اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ حکومتیں ایسا حکم تبھی جاری کرتی ہیں جب انٹیلیجنس معلومات کسی حملے کے حقیقی خطرے کی نشاندہی کریں۔ محکمہ خارجہ کی وضاحت کے باوجود یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اپنے سفارتی عملے پر حوثی ردعمل کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے — اور یہ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ خود ایران کے خلاف براہ راست کارروائی کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ گزشتہ ہفتے کہہ چکے ہیں کہ امریکہ “دیکھے گا” کہ کیا وہ سعودی عرب کی جانب سے مزید کچھ کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ خبر براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ لاکھوں پاکستانی کارکن سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں رہتے ہیں، اور پاکستان نے خود سعودی عرب میں ہزاروں فوجی دستے، لڑاکا طیاروں کا اسکواڈرن اور فضائی دفاعی نظام تعینات کر رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حملوں کے ساتھ ساتھ خلیج میں کشیدگی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن رہی ہے، جس کا اثر پاکستان میں پیٹرول کی روزانہ نظرثانی پر پڑتا ہے۔
اب سب کی نظریں آنے والے دنوں پر ہیں۔ چھببیس اکتوبر کو مصر کی پارلیمنٹ سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوج بھیجنے کی اجازت پر ووٹ دے گی، جبکہ ترکی کی پارلیمنٹ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق پر غور کر رہی ہے۔ برطانیہ اور فرانس پہلے ہی سعودی عرب کو دفاعی مدد فراہم کر رہے ہیں، لیکن اتحادیوں کی یہ مدد اب تک دفاعی نوعیت کی ہے — اور ریاض میں حملے تھم نہیں رہے۔

قارئین کے تبصرے (0)