اہم نکات
- آسٹریلیا کی فیڈرل کورٹ میں میٹا کے فیس بک اور انسٹاگرام کے خلاف کلاس ایکشن مقدمہ دائر — الزام: بچوں کو نقصان دہ مواد دکھایا اور الگورتھم کے ذریعے عادی بنایا گیا۔
- آٹھ مدعیوں کی طرف سے قانون فرم منٹر ایلیسن نے مقدمہ دائر کیا؛ عدالت نے پیر کو مدعیوں کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی لگا دی۔
- میٹا کا ردعمل: “ہم اس دعوے سے واقف ہیں اور اپنا بھرپور دفاع کریں گے۔”
- یہ مقدمہ آسٹریلیا کی 16 سال سے کم عمر کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی اور اگست میں 18 ارب ڈالر کے امریکی تصفیے کے بعد سامنے آیا ہے۔
سڈنی — آسٹریلیا کی عدالتوں نے فیس بک اور انسٹاگرام کے خلاف پہلی بار ایک ایسا مقدمہ قبول کر لیا ہے جو براہِ راست یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا کمپنیاں بچوں کو جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز کی عادی بناتی ہیں۔ ملک کی دوسری سب سے بڑی عدالت، فیڈرل کورٹ میں دائر کردہ اس کلاس ایکشن مقدمے میں الزام ہے کہ میٹا کے دونوں پلیٹ فارمز نے بچوں کو نقصان دہ مواد کا شکار بنایا اور الگورتھم کے ذریعے انہیں سکرین سے چپکائے رکھا۔
مقدمہ معروف قانون فرم منٹر ایلیسن نے اس ماہ آٹھ مدعیوں کی طرف سے دائر کیا ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ 18 سال کی عمر سے پہلے انہیں میٹا کے پلیٹ فارمز سے نقصان پہنچا، اور وہ اب معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقدمے کی فنڈنگ “لٹیگیشن لینڈنگ سروسز” نامی ادارہ کر رہا ہے، جو آسٹریلوی خاندانوں کے لیے “کسی عالمی ٹیکنالوجی دیو کے خلاف دعوے لڑنے کا عملی ذریعہ” فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے پیر کو ایک حکم نامے میں مدعیوں اور دعوے کے متن کی شناخت ظاہر کرنے والی کسی بھی معلومات کی رپورٹنگ پر پابندی لگا دی ہے — یعنی آٹھ مدعیوں کی پہچان عوام سے مخفی رہے گی۔ منٹر ایلیسن کے پارٹنر ولیم نولن کے مطابق “یہ مقدمہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور کام کرنے کے طریقے اور آسٹریلیا میں بچوں اور نوجوانوں پر ان کے اثرات کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ ان سوالات پر اب فیڈرل کورٹ کی کارروائی کے ذریعے غور کیا جائے گا۔”
میٹا نے الزامات کی تردید کے ساتھ مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے ای میل میں کہا: “ہم اس دعوے سے واقف ہیں اور اپنا بھرپور دفاع کریں گے۔”
آسٹریلیا بمقابلہ بگ ٹیک: پچھلے ایک سال کا پس منظر
- 2025: آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر دنیا کی پہلی پابندی لگائی — اس فیصلے نے عالمی بحث چھیڑ دی۔
- اگست 2026: میٹا نے امریکی ریاستوں کے ساتھ تقریباً 18 ارب ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کیا تاکہ بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کے الزامات ختم کیے جا سکیں۔
- اکتوبر 2026 (اس ہفتے): فیڈرل کورٹ میں کلاس ایکشن دائر؛ عدالت نے مدعیوں کی شناخت پر پابندی کا حکم دیا۔
- اب: آسٹریلیا میں نئے مجوزہ قوانین پر غور ہو رہا ہے جن کے تحت صارفین الگورتھم سے چلنے والی فیڈز بند کر سکیں گے۔
تجزیہ: یہ مقدمہ صرف آسٹریلیا کا نہیں
اس مقدمے کی اصل اہمیت اس کے قانونی نتیجے سے زیادہ اس کے پیغام میں ہے۔ آسٹریلیا پہلا ملک ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کے نقصان کا جوابدہ ٹھہرانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے — اور یہ وہی آسٹریلیا ہے جس نے پہلے ہی 16 سال سے کم عمر کی پابندی لگا کر دنیا کو حیران کیا تھا۔ اگر فیڈرل کورٹ یہ تسلیم کر لیتی ہے کہ الگورتھم کا ڈیزائن ہی نقصان کی بنیاد ہے، تو یہ فیصلہ دنیا بھر کی عدالتوں کے لیے ایک نمونہ بن جائے گا۔
پاکستانی والدین کے لیے بھی یہ خبر محض آسٹریلیا کی نہیں۔ یہاں بھی بچے روزانہ گھنٹوں فیس بک اور انسٹاگرام پر گزارتے ہیں، اور الگورتھم انہی کو نشانہ بناتا ہے جنہیں رکنا نہیں آتا۔ امریکہ میں آٹھ ریاستوں نے چیٹ جی پی ٹی کو بچوں کے لیے خطرہ قرار دے کر مقدمہ پہلے ہی دائر کر رکھا ہے — ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف بچوں کے تحفظ کی یہ لہر اب عالمی شکل اختیار کر رہی ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ کیا سوشل میڈیا بچوں کو متاثر کرتا ہے — سوال یہ ہے کہ اس کی قیمت کون ادا کرے گا۔
مقدمے کی اگلی سماعت میں عدالت دعوے کے متن پر غور کرے گی۔ میٹا نے بھرپور دفاع کا اعلان کیا ہے، مگر آسٹریلیا کی حکومت اور عدلیہ دونوں کا موڈ اس وقت بگ ٹیک کے خلاف ہے — اور یہی وہ ہوا ہے جس میں اس مقدمے کی کشتی چل رہی ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)