Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

پاناما بڑے نقصان سے بچ گیا: 7.7 شدت کے زلزلے میں کوئی ہلاکت نہیں، نہرِ پاناما معمول پر

پاناما نہر میں ایک بحری جہاز — زلزلے کے باوجود نہر معمول کے مطابق چل رہی ہے

جمعے کو پاناما کو ہلا دینے والا 7.7 شدت کا زلزلہ جس تباہی کا خدشہ پیدا کر گیا تھا، وہ نہیں ہوئی۔ عمارتیں گریں، سڑکیں دھنسیں، ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے — مگر اب تک کسی ہلاکت یا زخمی کی اطلاع نہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں حالیہ مہینوں میں زلزلوں نے ہزاروں جانیں لی ہیں، پاناما کی یہ خبر راحت کی سانس ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام کو آیا، گہرائی صرف 12.6 کلومیٹر تھی، اور مرکز صوبہ ہیر یرا کے چھوٹے قصبے پٹالوزا اریبا سے دس کلومیٹر دور تھا — دارالحکومت پاناما سٹی سے تقریباً دو سو کلومیٹر دور، کم آبادی والے علاقے میں۔ ابتدا میں شدت 8.0 بتائی گئی تھی، بعد میں 7.7 کر دی گئی۔ زلزلے کے بعد 40 سے زائد آفٹر شاکس بھی آئے۔

پاناما سٹی میں منظر خوفناک تھا۔ فلک بوس عمارتوں سے ہزاروں افراد باہر نکل آئے۔ ایک رہائشی سالومون آنڈیون نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: “میں ڈرا ہوا تھا کیونکہ جھٹکے بہت تیز اور دیرپا تھے۔ الماریاں، بستر، باورچی خانے کی ہر چیز ہل رہی تھی۔” سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں بیس منزلہ عمارت کے چھت کے تالاب سے پانی گرتا دکھائی دیا، اور ایک اور میں پاناما نہر کا پل زور سے ہلتا مگر قائم رہا۔

مگر اہم ترین خبر یہ ہے کہ ملک کی شہ رگ محفوظ رہی۔ پاناما نہر اتھارٹی نے اعلان کیا کہ نہر سے جہاز رانی “معمول کے مطابق” جاری ہے — نہر مرکزِ زلزلہ سے تقریباً 203 کلومیٹر دور ہے۔ کوبرے پاناما تانبے کی کان نے بھی معمول کا کام جاری رکھنے کی اطلاع دی، اور ٹوکومین انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے پروازوں کی عارضی معطلی ختم کر دی۔

صدر راؤل مولینو خود متاثرہ علاقوں میں پہنچے۔ انہوں نے پینونومے کا دورہ کیا — وہ شہر جو مرکزِ زلزلہ اور دارالحکومت کے درمیان تقریباً بیچ میں ہے — جہاں کئی عمارتیں گر گئیں اور ایک چرچ کو نقصان پہنچا۔ مولینو نے کہا: “ہمیں ایک بڑی آفت کا سامنا ہے،” اور بتایا کہ کئی سڑکیں “مکمل طور پر تباہ” ہو گئی ہیں۔

یہ راحت اس لیے بھی بڑی ہے کہ خطے کی حالیہ تاریخ خونیں ہے۔ جون میں وینزویلا میں یکے بعد دیگرے آنے والے زلزلوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے، اور اگست میں کولمبیا کے زلزلے میں تین سو سے زائد اموات ہوئیں۔ اس پس منظر میں پاناما کا بغیر جانی نقصان نکل جانا غیر معمولی ہے — جس کی ایک بڑی وجہ مرکز کا کم آبادی والا علاقہ ہونا ہے۔

مشرقی بحرالکاہل کے لیے جاری کی گئی سونامی وارننگ بھی بعد میں اٹھا لی گئی۔ حکام اب نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں، اور متاثرہ صوبوں میں بجلی کی بحالی اور سڑکوں کی مرمت جاری ہے۔

یہ خبر کیوں اہم ہے؟ پہلی بات تو یہ کہ پاناما نہر دنیا کی تجارت کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ہے — اس کا بند ہونا عالمی سپلائی چین کو ہلا دیتا۔ دوسری بات، یہ واقعہ ایک بار پھر بتاتا ہے کہ زلزلے کی تباہی کا انحصار صرف شدت پر نہیں، مرکز کی گہرائی اور آبادی پر بھی ہوتا ہے۔ کم گہرائی کے باوجود دور دراز مرکز نے پاناما کو بڑے سانحے سے بچا لیا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *