Friday, 23 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

گوادر میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام: 3 ہلاک، 7 گھیرے میں، دو مقامات پر آپریشن جاری

گوادر شہر اور بندرگاہ کا منظر — فائل تصویر

گوادر: سیکیورٹی فورسز نے جمعرات کے روز گوادر میں ایک تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ سات دیگر کو دو مختلف مقامات پر گھیر لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں مقامات پر آپریشن تاحال جاری ہے اور گوادر کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) خود زمین پر آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں — جن کی شناخت سیکیورٹی ذرائع نے فتنۃ الہندوستان کے کارندوں کے طور پر کی ہے — نے خالی پڑے کیمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ تین دیگر کو اسی مقام پر گھیر لیا گیا۔

اسی دوران گوادر ہائی وے کے قریب ایک ہوٹل میں موجود دہشت گردوں کے خلاف الگ آپریشن شروع کیا گیا، جہاں مزید چار دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر — ایک اور حملے کی کوشش کے بعد — شروع کیا گیا اور اس وقت بھی جاری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا: “ہمیں مٹی کے ان بہادر بیٹوں پر فخر ہے جو دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس کارروائی کو “آپریشن الماس” کا نام دے کر اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم سیکیورٹی ذرائع نے تنظیم کے بڑھے چڑھے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ نشانہ بنایا گیا کیمپ پہلے سے خالی تھا، کسی سیکیورٹی اہلکار کا جانی نقصان نہیں ہوا اور محض سڑک کنارے کھڑے چند ٹرکوں کو آگ لگائی گئی۔ ذرائع نے زور دیا کہ فوجی چوکیوں، انٹیلی جنس دفاتر یا دیگر تنصیبات پر حملے کے دعوے درست نہیں۔

ذرائع کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت اور آپریشن میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ممکنہ زخمی ہونے سے متعلق تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔ اطراف کے علاقوں میں کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہے تاکہ دہشت گرد فرار نہ ہو سکیں اور ممکنہ ٹھکانوں کو صاف کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن مکمل ہونے پر مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

پس منظر: گوادر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا مرکزی بندرگاہی شہر ہے اور حالیہ مہینوں میں بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے — ستمبر 2026 میں بارہ سال کی بلند ترین ماہانہ حملوں کی تعداد ریکارڈ کی گئی۔ صرف گزشتہ ہفتے ہی مستونگ میں پولیس کے 20 زیر تربیت اہلکاروں کے اغوا اور خضدار میں ماربل کان پر مسلح دھاوے جیسے واقعات نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا تھا۔

یہ کیوں اہم ہے: گوادر میں بیک وقت دو مقامات پر جاری آپریشن اور جی او سی کی ذاتی نگرانی اس واقعے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ حملے کا ہدف ایک تعمیراتی کمپنی کا کیمپ تھا — ایسے ہی کیمپ اور منصوبے ماضی میں بھی دہشت گردوں کے نشانے پر رہے ہیں، کیونکہ ان پر حملے سے ترقیاتی سرگرمیوں کو روکنے کا پیغام دیا جاتا ہے۔ اس بار فورسز کی بروقت کارروائی نے حملے کو بڑے نقصان سے پہلے ہی ناکام بنا دیا، لیکن سات دہشت گردوں کا گھیرے میں ہونا اور آپریشن کا جاری رہنا بتاتا ہے کہ صورتحال ابھی مکمل قابو میں نہیں آئی۔ تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ہماری لائیو کوریج ملاحظہ کریں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *