تائی پے — جمعے کی صبح تائیوان تقریباً پوری طرح ٹھپ ہو گیا، جب بحرالکاہل کا طاقتور ٹائیفون “چمپی” جزیرے کے مشرقی ساحل کے قریب سے گزرنے لگا۔ حکام کے مطابق طوفان کی لہروں کی زد میں آ کر ایک شخص بہہ گیا اور ہلاک ہو گیا، جبکہ 171 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پہاڑی علاقوں سے 2,639 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
تائیوان کی وزارتِ نقل و حمل کے مطابق جمعے کی تمام 262 اندرونِ ملک پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ 669 بین الاقوامی پروازیں بھی اڑان نہ بھر سکیں — مجموعی طور پر تقریباً ایک ہزار پروازیں متاثر ہوئیں۔ اسکول، دفاتر اور مالیاتی منڈیاں بند رہیں، جبکہ طوفان کے زور پر 77 ہزار سے زائد گھر بجلی سے محروم ہو گئے، جن میں سے بیشتر میں بجلی بعد ازاں بحال کر دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شمال سے جنوب کو ملانے والی ہائی سپیڈ ریل سروس معمول کے مطابق چلتی رہی۔
چمپی کچھ دن پہلے “سپر ٹائیفون” کی شدت کو چھو چکا ہے اور اسے اس سال بحرالکاہل کے طاقتور ترین طوفانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تائیوان کے مرکزی موسمیاتی ادارے (CWA) کے مطابق اگرچہ طوفان اب قدرے کمزور پڑا ہے، اس کے مرکز کے قریب اب بھی 191 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جھکڑ چل رہے ہیں۔ طوفان کا ہواؤں والا دائرہ تقریباً 320 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے — اتنا وسیع کہ اس کی زد میں تقریباً پورا جزیرہ آ سکتا ہے، اور اس کے اثرات دو دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق چمپی تائیوان کے شمال مشرقی ساحل کے بالکل قریب سے گزرے گا اور پھر شمال کی جانب مڑ کر چین کے ساحل اور آخرکار جنوبی جاپان کی طرف بڑھے گا۔ CWA کے ماہر لیو پے تینگ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اگر طوفان اپنی جگہ رک کر گھومنے لگا تو اس کے براہِ راست زمین سے ٹکرانے کا امکان بھی خارج از امکان نہیں۔ ان کے الفاظ میں: “طوفان کا ہواؤں والا دائرہ کافی بڑا ہے، حالیہ برسوں کے بڑے طوفانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگر طوفان کی رفتار کم ہوئی تو تائیوان زیادہ دیر تک تیز ہواؤں کی زد میں رہے گا۔”
حکام نے ساحلی قصبوں کے رہائشیوں کو موبائل فون الرٹس بھیج کر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد جھکڑوں کی وارننگ دی ہے اور انہیں فوری پناہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ شمالی پہاڑی علاقوں میں جمعرات سے ہفتے کے دوران ایک میٹر (تقریباً 90 سینٹی میٹر) تک بارش کا امکان ہے۔ شمال مشرقی کاؤنٹی یِلان میں، جہاں طوفان سب سے قریب سے گزرے گا، حکام نے ریت کی بوریاں تقسیم کی ہیں، ایمفیبیئس گاڑیاں اور ریسکیو کشتیاں تیار رکھی ہیں، اور ایک خطرناک لینڈ سلائیڈ ڈیم کے قریب رہنے والے افراد کو بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ طوفان صرف تائیوان کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے اہم خبر ہے۔ تائیوان دنیا کے جدید ترین کمپیوٹر چپس کا سب سے بڑا مرکز ہے، اور جزیرے کی ایک دن کی مکمل بندش عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق گرم ہوتے سمندر طوفانوں کو زیادہ طاقتور اور زیادہ تباہ کن بنا رہے ہیں — چمپی جیسے طوفان اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ طوفان کا رخ تائیوان کے بعد چین کے ساحل اور جنوبی جاپان کی طرف ہے، جہاں حکام پہلے ہی متحرک ہو گئے ہیں۔
اسی ہفتے قدرتی آفات کی ایک اور بڑی خبر چین کے تبت سے آئی تھی، جہاں 7 شدت کے زلزلے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 339 گھر منہدم ہو گئے تھے — امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ ٹائیفون چمپی کی تازہ ترین صورتحال کے لیے ہمارا لائیو اپڈیٹس صفحہ بھی دیکھتے رہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)