امپیریل کالج لندن اور لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کی نئی تحقیق نے یورپ کے 2026 کے موسم گرما کو اعداد کی زبان میں ایک انسانی تباہی قرار دیا ہے: جون سے اگست کے درمیان 854 شہروں میں 50,391 افراد گرمی سے ہلاک ہوئے — جن میں سے تقریباً دو تہائی (32,619) اموات انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہوئیں۔ یہ اعداد صرف گرمی کی ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے براعظم کی ناکامی کی کہانی ہیں جو دنیا میں سب سے تیز گرم ہو رہا ہے۔
ٹائم لائن: ایک موسم گرما کیسے ریکارڈ بن گیا
17 جون – یکم جولائی 2026: گرمی کا بدترین دور
تحقیق کے مطابق تقریباً ایک تہائی اموات صرف اس دو ہفتوں کے عرصے میں ہوئیں، جب درجہ حرارت معمول سے 5.3 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ امپیریل کالج کے شریک مصنف اور شماریاتی ماہر گیری فالوس کونسٹینوڈس کے مطابق یہ وہ دور تھا جب نظام صحت پر دباؤ انتہائی حد کو پہنچ گیا۔ مغربی یورپ کا پورا موسم گرما تاریخ کا سب سے گرم رہا — 1991 سے 2020 کے اوسط سے تقریباً 2.9 ڈگری زیادہ، اور بعض دن تو معمول سے 12 ڈگری تک اوپر۔
جون – اگست 2026: 50,391 اموات کا انکشاف
تحقیق کے دو ہم مرتبہ جائزے شدہ تحقیقی مقالے (نیچر ہیلتھ میں شائع) کے اعداد کے مطابق ملکوں کی تفصیل یوں ہے: اٹلی میں 13,303، فرانس میں 7,268، اسپین میں 6,824، جرمنی میں 6,340 اور برطانیہ میں 4,354 اموات۔ 32,619 اموات کوئلے، تیل اور گیس جلانے سے پیدا ہونے والی اضافی گرمی کی وجہ سے قرار دی گئی ہیں — یعنی دو تہائی۔ یہ تعداد 2022 کے پچھلے ریکارڈ (29,480) سے 71 فیصد زیادہ ہے۔ اور یہ اعداد اب بھی کم اندازہ ہیں: تحقیق صرف یورپ کی تقریباً 40 فیصد آبادی پر محیط ہے اور مئی کی مہلک ہیٹ ویو اس میں شامل نہیں۔
22 اکتوبر 2026: تحقیق کی اشاعت اور انتباہ
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، امپیریل کالج لندن کی موسمیاتی سائنسدان کلیئر بارنز نے سخت الفاظ میں خبردار کیا:
ہم موسمیاتی تبدیلی کے بدترین نتائج کو روکنے کے راستے سے بہت دور ہیں، اور حکومتوں کو سمجھنا ہوگا کہ تیز کارروائی اور باہمی ہم آہنگی کے بغیر حالات مزید خراب ہوتے جائیں گے۔
کلیئر بارنز، موسمیاتی سائنسدان، امپیریل کالج لندن
تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ 1.5 ڈگری کی حد تک محدود رہنے کا امکان “اب ختم ہو چکا ہے”۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ مغربی اور شمالی یورپ کا بیشتر بنیادی ڈھانچہ ایسی گرمی کے لیے بنا ہی نہیں جو اب انسانی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دیکھی جا رہی ہے — ایئر کنڈیشننگ نایاب، عمارتیں گرمی پھنساتی ہیں، اور بزرگ آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اسپین میں حال ہی میں طوفان آدم کی تباہی بھی اسی براعظم کے موسم کی شدت کی ایک اور علامت تھی۔
آگے کیا: ترکی میں موسمیاتی مذاکرات
سالانہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات اب ترکی میں ہونے والے ہیں، اور یہ تحقیق ان مذاکرات کے لیے دباؤ بنائے گی۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ “دور کی خبر” نہیں: ہمارے اپنے 2022 اور 2024 کے ہیٹ ویوز نے دکھایا ہے کہ شدید گرمی ہماری زندگیوں میں بھی اتنی ہی مہلک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یورپ میں اب اس کی گنتی ہو رہی ہے اور ذمہ داری کا تعین ہو رہا ہے — 50,391 اموات میں سے 32,619 کا ذمہ دار موسمیاتی تبدیلی کو قرار دینا صرف سائنسی مشق نہیں، بلکہ آنے والے مذاکرات میں ترقی پذیر ملکوں کے ہاتھ مضبوط کرنے والی دلیل بھی ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ گرمی بڑھے گی یا نہیں — سوال یہ ہے کہ کون اس کی قیمت ادا کرے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)