پیر سے کڈینا کے گیٹ پر BYD گاڑی اندر نہیں جائے گی
کڈینا ایئربیس کے گیٹ پر تعینات محافظوں کو نیا حکم مل گیا ہے: گاڑی چینی کمپنی BYD کی ہو تو اسے واپس موڑ دو۔
امریکی فورسز جاپان نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ اوکیناوا میں واقع کڈینا ایئربیس — امریکا سے باہر امریکی فضائیہ کی سب سے بڑی تنصیب — میں BYD کی تمام گاڑیوں کا داخلہ پیر 26 اکتوبر سے بند ہو جائے گا۔ پابندی مکمل ہے: نجی گاڑیاں، ٹھیکیداروں کی گاڑیاں، ٹیکسیاں، ڈیلیوری ٹرک اور تجارتی گاڑیاں، کسی کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ یہ تفصیل امریکی فورسز جاپان کے ایک اہلکار نے جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ کو بتائی۔
“پابندی ہر قسم اور ہر مقصد کی BYD گاڑی پر لاگو ہوگی،” اہلکار نے کہا۔ “کسی بھی صورت میں کوئی استثنا نہیں دیا جائے گا۔” اڈے کی حفاظت پر مامور 18 ویں سیکیورٹی فورسز اسکواڈرن کے اہلکار ہر گیٹ پر یہ گاڑیاں روک کر واپس بھیجیں گے۔
خدشہ گاڑی کی بیٹری کا نہیں، اس کی “آنکھوں” کا ہے۔ BYD کی جدید الیکٹرک گاڑیوں میں — جیسے آج کل کی بیشتر نئی گاڑیوں میں — کیمرے، ریڈار، مائیکروفون اور انتہائی درست GPS نظام نصب ہوتا ہے جو گاڑی چلانے کے لیے اردگرد کا نقشہ بناتا ہے، اور بعض ماڈلز میں یہ ڈیٹا کلاؤڈ تک بھی جاتا ہے۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ کیمرے اور سینسر اڈے کی حساس معلومات — 18 ویں ونگ کے لڑاکا طیارے، ٹرانسپورٹ جہاز، ریڈار نظام اور گولہ بارود کی تفصیل — جمع کر کے باہر لیک کر سکتے ہیں۔
کڈینا میں موجود اثاثے ہی اس گھبراہٹ کی وجہ سمجھاتے ہیں۔ یہ اڈا بحرالکاہل میں امریکی فضائی طاقت کا مرکز ہے، امریکی پانچویں فضائیہ کا 18 واں ونگ یہیں تعینات ہے، اور یہیں ٹائیفون درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا میزائل نظام بھی رکھا ہے — اس کے ٹوماہاک کروز میزائلوں کی رسائی تقریباً 1,600 کلومیٹر ہے، یعنی مغربی جاپان سے بیجنگ تک۔ امریکی حکام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ BYD گاڑیوں نے واقعی کبھی جاسوسی کی ہو؛ یہ قدم مکمل طور پر احتیاطی ہے — سوراخ کو اس سے پہلے بند کرنا کہ کوئی اس سے فائدہ اٹھائے۔
یہ فیصلہ BYD کے خلاف ایک کہیں بڑی مہم کا حصہ ہے۔ جون میں واشنگٹن نے کمپنی کو — ای کامرس دیو علی بابا، انٹرنیٹ کمپنی بائیڈو اور ساتھی کار ساز NIO کے ساتھ — ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جن کے بارے میں پینٹاگون کا ماننا ہے کہ وہ چینی فوج کی مدد کرتی ہیں۔ یہ فہرست نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ کے سیکشن 1260H کے تحت بنتی ہے۔ علی بابا نے اپنی شمولیت پر امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے، جبکہ چین کی وزارتِ خارجہ نے اس فہرست کو امتیازی اور غیر معقول قرار دیا ہے۔
شینزین میں قائم BYD فروخت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ہے۔ کمپنی نے اس فیصلے پر فوری تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
پابندی پھیل سکتی ہے — سیئول اپنی گاڑیاں گن رہا ہے
اس خبر کی سب سے چشم کشا تفصیل جاپان کے بجائے جنوبی کوریا سے متعلق ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی جنوبی کوریا میں امریکی فورسز کے اڈوں تک پھیل سکتی ہے، اور سیئول کے پاس فکرمند ہونے کی وجہ بھی ہے: اپوزیشن پیپلز پاور پارٹی کے رکنِ اسمبلی کانگ ڈے سک کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 190 چینی ساختہ کنیکٹڈ گاڑیاں جنوبی کوریا کی فوجی تنصیبات میں داخلے کے لیے رجسٹرڈ ہیں — جن میں بوسان اور جن ہائے کی بحری تنصیبات اور چیونگجو و ییچیون کے وہ فضائی اڈے بھی شامل ہیں جہاں F-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے اور KF-21 جیٹ تعینات ہیں۔
واشنگٹن گزشتہ دو برسوں سے چینی ٹیکنالوجی کو پہلے ایک ممکنہ جاسوسی نیٹ ورک اور بعد میں ایک مصنوعات کے طور پر دیکھ رہا ہے — یوکرین میں اسٹارلنک پر امریکی پابندیوں کا تنازع بھی اسی سوچ کا اظہار تھا۔ گاڑیاں اس لڑائی کا بس نیا محاذ ہیں۔ ایک کنیکٹڈ الیکٹرک گاڑی کسی بھی اسمارٹ فون سے کہیں زیادہ، اور کہیں زیادہ درستگی سے ریکارڈ کر سکتی ہے — مسلسل ویڈیو، درست مقام، کیبن کے اندر کی آواز — اور یہ قانونی طور پر ملک کی حساس ترین زمین پر کھڑی ہوتی ہے۔
یہ معاملہ بحرالکاہل سے آگے کیوں اہم ہے
دور دراز کے قارئین کے لیے یہ کہانی دراصل کسی اڈے کے گیٹ کی نہیں ہے۔ یہ اس گاڑی کی کہانی ہے جو آپ کے اپنے گھر کے باہر کھڑی ہے: ایک چلتا پھرتا سینسر پلیٹ فارم، جس کا ڈیٹا کسی اور ملک کے سرورز تک جا سکتا ہے، جہاں اس پر کسی اور ملک کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ واشنگٹن کا جواب — اسے اڈے سے باہر رکھو — اس سوال کی سب سے سیدھی صورت ہے جس سے آج ہر حکومت دوچار ہے۔
BYD کی مشکل یہ ہے کہ وہ ہر جگہ بکتی ہے۔ کمپنی یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکا میں تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں خریدار اسے قیمت اور رینج کی وجہ سے چنتے ہیں، جغرافیائی سیاست کی وجہ سے نہیں۔ لیکن “جاسوسی کے خطرے پر امریکی فضائی اڈے سے پابندی” جیسی سرخی اشتہار سے مٹتی نہیں؛ یہ برانڈ کے پیچھے دنیا کے ہر شوروم تک جاتی ہے۔ توقع یہی ہے کہ سیئول کے بعد کینبرا، لندن اور برسلز بھی اپنی فوجوں سے یہی سوال پوچھیں گے۔ کڈینا کا گیٹ آغاز ہے؛ انجام شاید یہیں نہیں ہوگا۔

قارئین کے تبصرے (0)