Friday, 23 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

گنتی بندوقوں سے، حروف توپک سے: افغان بچوں کے لیے امریکا نے “جہادی نصاب” کیوں بنایا؟

افغان اسکول کے بچے کھلے آسمان تلے پڑھتے ہوئے

وائرل ویڈیو اس بار جھوٹ نہیں کہہ رہی

آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں انتہا پسندی کہیں باہر سے “امپورٹ” ہوئی — اور اس کا ذریعہ بچوں کی اسکولی کتابیں تھیں۔ دعویٰ اس قدر عجیب ہے کہ سازشی کہانی محسوس ہوتا ہے۔ مگر اس بار مسئلہ یہ ہے کہ یہ بات بڑی حد تک سچ ہے، اور اس کے ثبوت کسی گمنام بلاگ میں نہیں بلکہ واشنگٹن پوسٹ کی 2002 کی تحقیقاتی رپورٹ میں موجود ہیں۔

جب کتاب بھی ہتھیار بن گئی

1979 میں سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا تو واشنگٹن نے مجاہدین کی ہر ممکن مدد کا فیصلہ کیا — بندوقیں بھی گئیں، پیسہ بھی گیا۔ مگر اس خفیہ جنگ کا ایک محاذ کلاس روم بھی تھا۔ امریکی حکام کا خیال تھا کہ اگر افغان بچے سوویت مخالف ذہن کے ساتھ پروان چڑھیں گے تو مزاحمت نسل در نسل جاری رہے گی۔

اسی سوچ کے تحت امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں یونیورسٹی آف نیبراسکا اوماہا اور اس کے سینٹر فار افغانستان اسٹڈیز کو گرانٹ دی۔ یونیورسٹی نے دری اور پشتو میں پرائمری اسکول کی کتابیں تیار کیں — 200 سے زائد عنوانات۔ یہ کتابیں پشاور میں چھپتی تھیں اور افغان کمانڈروں کی مدد سے افغانستان کے اندر اور پاکستان میں مہاجر کیمپوں کے اسکولوں تک پہنچائی جاتی تھیں۔ کمانڈروں کی شرط واضح تھی: کتابوں میں سوویت مخالف مواد لازمی ہوگا۔

گنتی ٹینکوں سے، اور بندوق کے “جہاد” والے جملے

ان کتابوں کا مواد آج پڑھا جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ریاضی کی کتاب میں بچوں کو گنتی ٹینکوں، میزائلوں اور بارودی سرنگوں کی تصویروں سے سکھائی جاتی تھی۔ ایک ابتدائی کتاب میں بندوق کے لیے پشتو لفظ “توپک” استعمال ہوا اور اس کی مثال یہ دی گئی: “میرے چچا کے پاس بندوق ہے، وہ بندوق سے جہاد کرتے ہیں۔”

امدادی کارکنوں نے بعد میں ایک سو صفحات کی ایسی ہی کتاب کا جائزہ لیا تو اس کے 43 صفحات پر پرتشدد تصویریں یا جہاد کی ترغیب پر مبنی مواد ملا۔ USAID کے ایک اہلکار کرس براؤن نے واشنگٹن پوسٹ کو بے تکلفی سے کہا تھا: “میرے خیال میں ہم بالکل خوش تھے کہ یہ کتابیں سوویت یونین کی خوب بے عزتی کر رہی ہیں۔”

51 ملین ڈالر اور ایک کروڑ سے زائد کتابیں

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق USAID نے 1984 سے 1994 تک یونیورسٹی کے افغانستان تعلیمی پروگراموں پر 51 ملین ڈالر خرچ کیے، اور مختلف رپورٹوں کے مطابق ان کتابوں کی 13 ملین — ایک کروڑ تیس لاکھ — سے زائد کاپیاں تقسیم ہوئیں۔ وائرل ویڈیو میں رقم 41 ملین ڈالر اور تعداد 14 ملین بتائی گئی ہے؛ اصل دستاویزی اعداد اس سے کچھ مختلف ہیں، مگر کہانی کی بنیاد بالکل وہی ہے۔

1994 میں فنڈنگ بند ہو گئی، مگر کتابیں نہیں رکیں۔ یہی کتابیں افغانستان کے اسکولوں کا بنیادی نصاب بنی رہیں۔ طالبان نے اقتدار میں آ کر بھی انہی کو چلایا — بس انسانی چہروں پر لکیریں پھیر دیں۔ نجی فلاحی ادارے طالبان کے دور میں بھی ان کتابوں کی دوبارہ اشاعت پر پیسہ لگاتے رہے۔

2002 میں پردہ اٹھا

23 مارچ 2002 کو واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں جو سٹیفنز اور ڈیوڈ اوٹاوے نے “From U.S., the ABC’s of Jihad” کے عنوان سے یہ کہانی دنیا کے سامنے رکھی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ اس وقت امریکا خود افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا — اور جس نسل نے بچپن میں جہاد انہی کتابوں سے پڑھا تھا، وہ کتابیں اسی امریکا کی بنائی ہوئی تھیں۔

اس کے بعد پشاور میں عجلت میں کتابوں کی نظرثانی ہوئی: بندوقوں اور ٹینکوں کی تصویروں کی جگہ انار اور مالٹے آ گئے، اور USAID نے مزید 65 لاکھ ڈالر کی گرانٹ سے ترمیم شدہ کتابیں چھپوائیں۔ مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی — اصل کتابیں بازاروں اور اسکولوں میں برسوں تک گردش کرتی رہیں۔

اس کہانی سے سبق کیا ہے؟

یہ واقعہ اس تلخ اصول کی سب سے واضح مثال ہے کہ جنگ میں استعمال ہونے والا ہر ہتھیار میدان میں نہیں رہتا؛ کچھ ہتھیار ذہنوں میں اتر جاتے ہیں۔ تعلیم کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کی قیمت ایک پوری نسل ادا کرتی ہے، اور یہ قیمت عموماً اس دشمن کے بجائے خطے کے عام لوگوں کو چکانی پڑتی ہے جس کے خلاف یہ سب شروع کیا گیا تھا۔ آج افغانستان ایک بار پھر علاقائی طاقتوں کی ماسکو میں ہونے والے علاقائی مذاکرات جیسی میزوں پر زیرِ بحث ہے — مگر اس کے موجودہ بحران کی جڑیں جس دور میں پیوست ہیں، اس کا ایک پورا باب انہی کتابوں میں لکھا گیا تھا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *