ورلڈ بینک نے پاکستان کے بارے میں ایک ایسی رپورٹ جاری کی ہے جو ایک ہی وقت میں حوصلہ افزا بھی ہے اور تکلیف دہ بھی۔ “اٹیننگ ایسکیپ ولاسٹی” نامی پاکستان ڈیولپمنٹ اپڈیٹ (22 اکتوبر کو جاری) کہتی ہے: اگر سٹرکچرل اصلاحات کو تیز کیا جائے تو پاکستان 2050 تک اپنی آمدنی تین گنا کر سکتا ہے اور ویتنام کی موجودہ آمدنی کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر اسی رپورٹ کا دوسرا چہرہ یہ ہے کہ عام پاکستانی کی آمدنی بڑھنے کی رفتار صرف 1.6 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے — اور یہ وہ نمبر ہے جو حکومت کی ہر کامیابی کی کہانی کو چیلنج کرتا ہے۔
پہلے وہ اعداد جو حکومت کے حق میں جاتے ہیں۔ مالی سال 26 میں جی ڈی پی کی نمو 3.7 فیصد رہی (پچھلے سال 3.2 فیصد سے بہتر)، اور ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ مالی سال 27 میں 3.8 اور مالی سال 28 میں 4.2 فیصد تک جائے گی۔ پرائمری بجٹ سرپلس 2.9 فیصد کے ساتھ ریکارڈ بلند ترین رہا، ریمٹنسز نے زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بنائے، ایس اینڈ پی اور موڈیز نے کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی، اور پاکستان نے 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ جاری کر کے بین الاقوامی قرض بازاروں میں واپسی کی۔ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر ورلڈ بینک کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا:
پاکستان نے استحکام کی بحالی میں حقیقی پیش رفت کی ہے، اور بازاروں نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ مگر حقیقی فی کس نمو — یعنی عام پاکستانی کی آمدنی بڑھنے کی رفتار — تقریباً 1.6 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے۔ تیز نمو کے لیے اصلاحات اب انتہائی ضروری ہیں۔
بولورما امگابازار، کنٹری ڈائریکٹر، ورلڈ بینک پاکستان
اب وہ اعداد جو عام آدمی کے حق میں بولتے ہیں — یعنی اس کے خلاف۔ ہر سال تقریباً 36 لاکھ پاکستانی ملازمت کی عمر کو پہنچتے ہیں، اور 2018 سے اب تک ہر چھ میں سے ایک نیا مزدور بے روزگار رہا ہے۔ غربت 2018-19 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 29 فیصد ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مرکزی مصنف سیبسٹین ایسل کے الفاظ میں، درمیانی مدت میں نمو کی حد تقریباً 4.5 فیصد ہے — “کافی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے بہت کم۔” یہ وہ نکتہ ہے جس پر اردو میڈیا کی زیادہ توجہ اب تک نہیں گئی: استحکام آ گیا ہے، مگر نوکریاں نہیں آئیں۔
اور پھر رپورٹ کی وہ سفارش جو براہ راست روپے کی پالیسی پر تنقید ہے: مکمل لچکدار، مارکیٹ سے طے ہونے والی شرح تبادلہ۔ ورلڈ بینک کے مطابق روپے کی ڈالر کے مقابلے قدر مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق آزادانہ حرکت نہیں کرتی؛ مرکزی بینک کی مداخلت سے وقتی استحکام تو ملتا ہے مگر بعد میں اچانک اور تکلیف دہ ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے۔ یہ سفارش ایسے وقت میں آئی ہے جب نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے شرح نمو 3.65 فیصد کی تصدیق کی ہے اور آئی ایم ایف نے پاکستان کے میکرو اکنامک آؤٹ لک پر تنبیہ جاری کی ہے۔ معاشی پالیسی کا ہر ادارہ اب ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کر رہا ہے — مگر عملی اقدام ابھی باقی ہے۔
یہاں تجزیے کا اصل سوال ہے: یورو بانڈ کی واپسی بازاروں کے اعتماد کی علامت ضرور ہے، مگر یہ قرض کی قیمت پر آئی ہے۔ اور تین گنا آمدنی والا وعدہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب اصلاحات “اوسط درمیانے آمدنی والے ملکوں کے معیار” تک پہنچیں — یعنی ٹیکس کا دائرہ وسیع ہو، سرکاری ادارے مسابقتی بنیں، اور روپیہ مارکیٹ کے حوالے کیا جائے۔ یہ سب وہ اصلاحات ہیں جن کی قیمت سیاسی طور پر ادا کرنی پڑتی ہے۔ رپورٹ کا “اگر” بڑا ہے: اصلاحات تیز ہوئیں تو 2050 تک تین گنا آمدنی، ورنہ 1.6 فیصد والی اٹکی ہوئی رفتار اور 36 لاکھ نوجوان ہر سال — یہ ریاضی کسی بھی حکومت کے لیے خطرناک ہے۔ اسی لیے یہ رپورٹ ورلڈ بینک کی اکتوبر کے شروع کی غربت والی رپورٹ سے مختلف اور زیادہ اہم ہے: وہ مسئلہ بتاتی تھی، یہ راستہ بھی بتاتی ہے — شرط صرف یہ ہے کہ کوئی اس راستے پر چلنے کی ہمت کرے۔

قارئین کے تبصرے (0)