Friday, 23 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

اردن میں چرچ پر فائرنگ: جنازے میں شریک 6 افراد ہلاک، 28 زخمی — حملہ آور فرار

اردن کے شہر کرک میں ایک چرچ کی عمارت — نمائندہ تصویر

عمان: اردن کے جنوبی صوبے کرک کے گاؤں حمود میں جمعے کے روز ایک چرچ پر نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس سے کم از کم 6 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے۔ حملہ اس وقت ہوا جب چرچ میں ایک خاتون کے جنازے میں سینکڑوں سوگوار شریک تھے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے اور اردن کی سیکورٹی فورسز ان کی تلاش میں مصروف ہیں۔

اردن کی پبلک سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ “نامعلوم حملہ آوروں” نے کیا۔ سرکاری ٹی وی المملکہ نے پہلے 7 ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد میں سیکورٹی ادارے نے 6 ہلاک اور 28 زخمیوں کے اعداد و شمار جاری کیے۔ سی این این کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں فرق کی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔

عینی شاہد تامر ہلاسا نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایک گاڑی سے دو مسلح افراد اترے اور فائرنگ شروع کر دی۔ “ایک حملہ آور کے پاس کلاشنکوف رائفل تھی،” ہلاسا نے کہا۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ تقریباً پانچ منٹ تک جاری رہی۔ اس وقت چرچ کے اندر اور باہر 150 سے 200 افراد موجود تھے، اور زیادہ تر متاثرین کی عمریں 50 سے 70 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ ایک مقامی خاندان کے فرد نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

حملے کا نشانہ بننے والا چرچ گاؤں حمود کا سینٹ جارج گریک آرتھوڈوکس چرچ ہے۔ کرک عمان سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہاں مسیحی برادری کی خاصی آبادی رہتی ہے۔ حکومت کے ترجمان محمد المومانی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ “سیکورٹی فورسز کرک گورنریٹ میں فائرنگ کے واقعے کی پیروی کر رہی ہیں” اور عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری معلومات پر بھروسہ کریں۔

اردن میں اس نوعیت کے حملے انتہائی نایاب ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ پندرہ لاکھ آبادی والے اس ملک میں مسیحی اقلیت ہیں، اور اردن خطے میں نسبتاً مستحکم ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں بائبل کے کئی مقامات پر دنیا بھر سے مسیحی زائرین آتے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی اور حملہ آوروں کی شناخت بھی سامنے نہیں آئی۔

یہ خبر کیوں اہم ہے: جنازہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک برادری اپنے غم میں سب سے زیادہ کمزور اور سب سے زیادہ متحد ہوتی ہے — اسی لمحے پر فائرنگ کا مطلب ہے کہ حملہ آوروں نے صرف جانیں نہیں لیں، برادری کے اس محفوظ اجتماع کی فضا کو بھی توڑا۔ اردن دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ کا وہ “مستحکم بفر” رہا ہے جس کے ارد گرد شام، عراق اور مغربی کنارے میں آگ لگی رہی؛ کرک جیسے پرامن شہر میں چرچ پر حملہ اسی استحکام کی بنیاد پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ واقعہ اسی جمعے کے روز مغربی کنارے میں فائرنگ کے چند گھنٹے بعد پیش آیا، جس سے خطے میں پہلے سے کشیدہ فضا مزید بوجھل ہو گئی ہے۔ اگر حملہ آور گرفتار نہ ہوئے یا اس کے پیچھے کسی منظم گروہ کا ہاتھ نکلا تو اردن کی سیکورٹی پالیسی اور مسیحی اقلیت کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھیں گے — اور عالمی سطح پر اس کی مذمت بھی یقینی ہے۔

سیکورٹی فورسز نے چرچ کے اطراف ناکہ بندی کر رکھی ہے اور تفتیش جاری ہے۔ خبر کی تازہ تفصیلات سامنے آنے پر یہ رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *