Saturday, 24 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

میلانیا ٹرمپ کا بڑا سفارتی کارنامہ: روس اور یوکرین اولیشکی میں جنگ بندی پر رضامند

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی تقریب میں خطاب کر رہی ہیں

وائٹ ہاؤس نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان یوکرینی شہر اولیشکی تک محدود جنگ بندی کا معاہدہ کرا دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سرکاری بیان کے مطابق یہ مقامی جنگ بندی 29 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگی اور اس کا مقصد شہر میں انسانی امداد پہنچانا اور وہاں پھنسے ہوئے شہریوں کا انخلا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اولیشکی میں تمام فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ امداد داخل ہو سکے اور شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ تیار کیا جا سکے۔

اولیشکی یوکرین کے جنوبی علاقے خیرسون میں دریائے دنیپرو کے پار واقع ہے اور فروری 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے روسی قبضے میں ہے۔ جنگ سے پہلے اس شہر کی آبادی تقریباً 24 ہزار تھی، مگر وائٹ ہاؤس کے مطابق اب وہاں صرف 17 سو سے دو ہزار افراد باقی رہ گئے ہیں — جن میں زیادہ تر بزرگ شہری اور تقریباً 50 بچے شامل ہیں۔ شہر میں خوراک کا بحران روز بروز گہرا ہو رہا ہے، اور بیان میں بتایا گیا ہے کہ کاخوفکا ڈیم کی تباہی کے بعد شہر کا تقریباً 90 فیصد علاقہ زیر آب آ گیا تھا۔

اپنے بیان میں میلانیا ٹرمپ نے کہا: “اولیشکی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ اولیشکی فرنٹ لائن کا ایک جنگ زدہ شہر ہے جو تباہی کے دہانے پر ہے۔ اولیشکی کی باقی ماندہ آبادی زیادہ تر بزرگ شہریوں پر مشتمل ہے جنہیں فوری طبی امداد، ادویات، خوراک اور صاف پانی کی اشد ضرورت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے لوگوں کے پاس بجلی محدود ہے، سڑکیں بارودی سرنگوں سے بھری ہیں اور انہیں مسلسل فوجی حملوں کا سامنا ہے۔ ان کے الفاظ میں: “یہ بات بالکل واضح تھی کہ میری مداخلت کے بغیر شہر میں انسانی امداد پہنچانا اور بزرگوں کا انخلا ناممکن ہوتا۔”

معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی غیر فوجی شہری ٹیمیں گھر گھر جا کر رہائشیوں کی ضروریات کا جائزہ لیں گی۔ جو شہری انخلا چاہیں گے انہیں ان کی پسند کی منزل — روس یا یوکرین — تک منظم نقل و حمل فراہم کی جائے گی۔ میلانیا ٹرمپ کے مطابق: “مجھے توقع ہے کہ کچھ لوگ روس جانا چاہیں گے اور کچھ یوکرین۔” اس پورے عمل کی دستاویزی کوریج کے لیے ایک غیر جانبدار امریکی میڈیا ادارے کو روسی اور یوکرینی ٹیموں کے ساتھ زمین پر جانے کی اجازت ہوگی؛ امریکی نشریاتی ادارے نیوزمیکس کا دعویٰ ہے کہ اس کے کیمروں کو اس کوشش کی خصوصی کوریج دی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس معاہدے کا خیال میلانیا ٹرمپ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے دوران نیویارک میں ان کے “فوسٹرنگ دی فیوچر ٹوگیدر” پروگرام میں ایک نجی گفتگو کے دوران آیا۔ انہوں نے “خصوصی ثالث” کے باضابطہ کردار میں روسی اور یوکرینی قیادت سے براہ راست بات چیت کی اور معاہدے کے مقاصد، تکنیکی طریقہ کار، وقت اور شرائط پر دونوں فریقوں کو ہم آہنگ کیا۔ یہ وہی رابطہ چینل ہے جس کے ذریعے پہلے 34 یوکرینی بچوں کی چھ مرتبہ خاندانوں سے ملاقات ممکن ہوئی تھی۔ بچوں کی واپسی کا معاملہ میلانیا ٹرمپ کا دستخطی ایشو رہا ہے — وہ اس سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی اسی موضوع پر کرا چکی ہیں اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو ذاتی خط بھی لکھ چکی ہیں۔

معاہدے کی تصدیق دونوں فریقوں کی طرف سے بھی آئی ہے۔ کریملن نے معاہدے کا خیر مقدم کیا اور میلانیا ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی؛ ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر پوٹن کی حالیہ فون کال میں اس کوشش پر بات ہوئی۔ روسی جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل ویلری گیراسیموف نے کہا کہ روسی افواج منگل کو ماسکو وقت کے مطابق صبح 4 بجے سے خیرسون محور پر جنگ بندی کریں گی اور امدادی قافلے کی محفوظ آمد کے لیے انجینئرنگ سروے بھی کریں گی۔ یوکرین کی طرف سے مرکزی مذاکرات کار داؤد آراخامیا نے ٹیلی گرام پر کہا کہ جنگ بندی نافذ ہوتے ہی انسانی آپریشن شروع ہو جائے گا اور اس عمل میں پوپ لیو بھی شامل رہے، جنہوں نے اس سے قبل پوٹن سے اولیشکی میں امداد کی اپیل کی تھی۔ یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب دمترو لوبینیتس نے کہا کہ عمل تین مرحلوں میں ہوگا — پہلے جنگ بندی، پھر امداد، پھر شہریوں کی آزاد نقل و حرکت — مگر خبردار کیا کہ اس پر عمل درآمد انتہائی مشکل ہوگا۔

یہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟

یہ اعلان کئی حوالوں سے غیر معمولی ہے۔ کسی امریکی خاتون اول کا روس اور یوکرین کے درمیان براہ راست ثالثی کر کے جنگ بندی کرانا جدید سفارت کاری میں بے مثال ہے — اور “خصوصی ثالث” کا باضابطہ عہدہ بھی ایک نئی روایت ہے۔ وقت بھی اہم ہے: صدر ٹرمپ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی پر پوٹن سے وسیع معاہدے کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں، اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی پوٹن سے ملاقاتوں کے سلسلے کے بیچ اولیشکی کا یہ مقامی ماڈل — محدود دائرے میں، انسانی بنیادوں پر، دونوں فریقوں کی شہری ٹیموں کے ساتھ — اگر کامیاب ہوا تو اسے بڑے مذاکرات کا نمونہ بنایا جا سکتا ہے۔ مگر شکوک بھی اپنی جگہ ہیں: فرنٹ لائن کا شہر، بارودی سرنگیں، اور دونوں فریقوں کا باہمی عدم اعتماد — خود یوکرینی محتسب اسے انتہائی مشکل قرار دے رہے ہیں۔ 29 اکتوبر کو جب بندوقیں خاموش ہوں گی تو پتہ چلے گا کہ یہ انسانی ہمدردی کی جیت ہے یا محض ایک علامتی وقفہ۔

وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی صرف اولیشکی تک محدود ہے، پورے ملک میں جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں۔ تاہم 17 سو سے دو ہزار پھنسے ہوئے شہریوں — جن میں سے اکثر بزرگ ہیں — کے لیے یہ چند دن بھی زندگی اور موت کا فرق ہو سکتے ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *