Saturday, 24 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ایران امریکی سفارت کاروں کو قتل کی سازشوں میں تیزی — “پیش رفت مراحل” تک پہنچی سازشیں، امریکی خفیہ رپورٹ

کویت میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی خلیجی رہنماؤں سے ملاقات (فائل فوٹو) — امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں سفارت خانوں سے عملہ ہٹانا شروع کر دیا

واشنگٹن: امریکی انٹیلی جنس کی ایک نئی خفیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر امریکی سفارت کاروں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں “بڑی حد تک” اضافہ کر دیا ہے، اور بعض مہلک سازشیں “پیش رفت مراحل” میں پہنچ چکی ہیں۔

خبری ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ غیر درجہ بند انٹیلی جنس میمو 23 اکتوبر کو ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو بھیجا تھا۔ میمو میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایرانی سازشوں سے متعلق یہ معلومات ان اہلکاروں تک بھی پہنچائی جانی چاہئیں جو فی الحال انہیں وصول کرنے کے مجاز نہیں۔ کلیٹن نے پیشکش کی ہے کہ حساس معلومات کا درجہ کم کر کے انہیں ان اہلکاروں میں وسیع تر پیمانے پر تقسیم کیا جائے جو خطرے میں ہو سکتے ہیں۔

امریکی اہلکاروں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ یمن کے حوثی باغی اپنے حملے سعودی عرب سے آگے بڑھا کر خطے کے دیگر ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گذشتہ ہفتے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ سمیت شہری انفراسٹرکچر پر متعدد حملے کیے، جن میں 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

اسی خدشے کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں اپنے غیر ہنگامی عملے اور ان کے خاندانوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگٹ نے ایکس پر واضح کیا کہ یہ حکم صرف سعودی عرب تک محدود ہے: “یہ درست نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے صرف سعودی عرب میں غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں کے انخلاء کا حکم دیا ہے۔” پیگٹ نے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ “ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت” ہے، جنہوں نے شہری ایئرپورٹس اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جس سے شہری ہلاکتیں ہوئیں اور سفری نظام شدید متاثر ہوا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے علاوہ بھی مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک — لبنان، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن — میں امریکی سفارت خانوں میں عارضی عملے کی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، جبکہ سفارت خانے “محدود آپریشنز” کے تحت کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ کویت یا بحرین میں عملے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو فلوریڈا میں ایک انتخابی ریلی میں ایران کو براہِ راست فوجی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے کہا: “ہم شاید ایک اور چھوٹا سا ‘ایپک فیوری’ کر دیں، یا وہ مان جائیں۔” اس سے قبل ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وسط مدتی انتخابات (3 نومبر) کے بعد ایران پر حملے دوبارہ ممکن ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ رواں سال فروری کے آخر میں شروع ہوئی تھی۔ مارچ میں ریاض میں امریکی سفارت خانے اور وہاں موجود سی آئی اے اسٹیشن پر ڈرون حملے بھی ہو چکے ہیں۔ اسی تناظر میں واشنگٹن نے یوکرین امن مذاکرات کے لیے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو پیوٹن سے ملاقات کے لیے بھیجا تھا — یعنی امریکا ایک وقت میں دو محاذوں پر کھیل رہا ہے۔

یہ خبر کیوں اہم ہے: سفارت کاروں اور ان کے خاندانوں کو سفارت خانوں سے ہٹانا محض احتیاطی قدم نہیں ہوتا — یہ اکثر کسی بڑے تصادم سے پہلے کی تیاری کا اشارہ ہوتا ہے۔ جب انٹیلی جنس سربراہ خود وزیرِ خارجہ کو لکھے کہ قتل کی سازشیں “پیش رفت مراحل” میں ہیں، تو یہ واشنگٹن کے اندر ایک بڑے فوجی ردعمل کی ذہنی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ براہِ راست معنی رکھتا ہے: خلیج میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں، اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات میں کسی بھی کشیدگی کا پہلا اثر ان پر اور پاکستانی معیشت کی ترسیلات پر پڑے گا۔ اگلے دنوں میں نظر اس بات پر ہو گی کہ کیا یہ انخلاء صرف دھمکی کا جواب ہے، یا کسی بڑے آپریشن کا پیش خیمہ۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *